سیٹلائیٹ ریڈیو: تعلیم یا جاسوسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں گزشتہ سال حکومت کی جانب سے تعلیمی مقاصد کے لئے تقسیم کئے جانے والے سیٹلائٹ ریڈیو یا تو جاسوسی کے خوف سے استعمال نہیں ہو رہے یا پھر ان سے صرف موسیقی سنی جا رہی ہے۔ ایک غیرسرکاری تنظیم نے گزشتہ سال جولائی میں حکومتِ پاکستان کو ایک ہزار سے زیادہ قیمتی سیٹلائٹ ریڈیو سیٹ قبائلی علاقوں میں تعلیم کے فروغ کے لئے فراہم کئے تھے۔ جنہیں بعد میں قبائیلی علاقوں کے اساتذہ میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق مقامی افراد کو اس ریڈیو کے استعمال کی مناسب تربیت نہ دیے جانے کی وجہ سے ان ریڈیو سیٹس کا تعلیمی استعمال نہیں ہو رہا ہے۔ کئی قبائلی اس خوف سے کہ ان غیرملکی ریڈیو سے ان کی باتیں ریکارڈ کرکے ان کی جاسوسی کی جائے گی انہیں استعمال نہیں کر رہے۔ یہ بھی خبر ہے کہ چند افراد نے ان ریڈیوں سیٹس پر موسیقی کے چینل ٹیون کرنا سیکھ لیے ہیں اور اب وہ ان سے مغربی اور بھارتی موسیقی سے محضوض ہوتے ہیں۔ اس ریڈیو کی کہانی خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے قبائلی صحافی ابراہیم شنواری نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ ابتداء میں حکومت کا کہنا تھا کہ ان کے ذریعے قبائلی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے تعلیمی پروگرام سن سکیں گے لیکن ایسا نہیں ہورہا اور یہ قیمتی ریڈیو اب بے مقصد پڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چند قبائلیوں نے جو ٹیکنالوجی کی تھوڑی بہت سمجھ رکھتے ہیں اس ریڈیو کو سیٹلائٹ ڈش سے منسلک کر کے غیرملکی گانے سننا شروع کر دیے ہیں۔ اس انتہائی جدید ورلڈ سپیس نامی ڈیجٹل ریڈیو کو استعمال کرنے والا سیٹلائٹ ٹی وی ریسیور کی طرح براہ راست سیٹلائٹ سے سگنل موصول کرکے بہتر کوالٹی میں نشریات سن سکتا ہے۔ آیا اس مفت ریڈیو سے قبائلیوں کو کوئی فائدہ ہو رہا ہے اور حکومت اس کے استعمال کی نگرانی کر رہی ہے یا نہیں؟ ان سوالات کا جواب جاننے کے لئے قبائلی علاقے کے شعبہ تعلیم کے اہلکاروں سے کئی کوششوں کے باوجود رابطہ نہیں ہوسکا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||