BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 January, 2004, 16:04 GMT 21:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
معاوضے کے لئے فنکاروں کا احتجاج

خیرپور کے ریڈیو فنکار
نئی پالیسی سے چار سو فنکار متاثر ہوئے ہیں

ریڈیو پاکستان خیرپور کے تقریبا پانچ سو فنکار، صداکار، کمپیئر اور سازندے معاوضہ وصول کرنے کے لئے پریشان ہیں کیونکہ ریڈیو انتظامیہ کےنئے فیصلے کی وجہ سے ان کو جاری کئےگئے معاوضے کے چیک کیش نہیں ہو سکے ہیں-

ماضی کے قدردانوں کے شہر خیرپور میں آج فنکار بے قدری کا شکار ہوگئے ہیں- نہ پیر علی محمد راشدی رہے ہیں جنہوں نے استاد بڑے غلام علی کو بھارت جانے سے روکنے کے لئے زمین کی الاٹمنٹ کی سند پیش کی تو استاد نے کہا تھا کہ پیر صاحب پوری عمر تان اٹھائی ہے اب ہل کہاں سے اٹھایا جائےگا؟ نہ ہی آج وہ خیرپور اسٹیٹ کے حکمراں میر علی مراد رہے ہیں جن کی صبح اور شام سُر سنگیت کے ساتھ ہوتی تھی -

نئے احکامات کے مطابق تمام ادائیگی کراس چیک کی صورت میں کی جائے گی جس سے مختلف پروگراموں میں کام کرنے والے لوک فنکاروں سے لے کر بچوں اور خواتین فنکاروں تک چار سو لوگ متاثر ہوئے ہیں-

اتوار کے روز خیرپور میں ریڈیو پاکستان خیرپور پر کام کرنے والے فنکاروں نے فقیر بخش علی مہیسر کی قیادت میں پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا- انہوں نے شکایت کی کہ فنکاروں کو سال میں بمشکل ایک دو پروگرام ملتے ہیں- اور اس کا معاوضہ جو کہ دو سو سے چار سو روپے تک ہوتا ہے اس کی ادائیگی بھی کراس چیک اور بنک اکاؤنٹ کی شرط کی وجہ سے نہیں ہو رہی ہے-

اسکرپٹ رائٹر اور کمپیئر منصور میرانی کا کہنا ہے کہ ریڈیو پر پروگراموں کے معاوضے کی ادائیگی چار کیٹیگریز میں ہوتی ہے جو آؤٹ اسٹینڈنگ، ڈبل اے، اے اور بی ہیں۔ آؤٹ اسٹینڈنگ کلاسیکی اور لوک گانے والے کو ایک پروگرام کے ایک ہزار روپے، ڈبل اے کیٹیگری کو آٹھ سو روپے ، اے کیٹیگری کو چار سو روپے اور بی کیٹیگری کو تین سو روپے دیئے جاتے ہیں- سازندوں کو آؤٹ اسٹینڈنگ کیٹیگری میں پانچ سو روپے ، ڈبل اے کیٹیگری کو تین سو روپے، اے کیٹیگری کو دو سو روپے اور بی کیٹیگری کو ڈیڑھ سو روپے دیئے جاتے ہیں- ڈرامہ آرٹسٹوں کوآؤٹ اسٹینڈنگ کیٹیگری میں پچاس روپے، ڈبل اے میں پینتیس روپے، اے کیٹیگری میں تیس روپے اور بی کیٹیگری میں بیس روپے ملتے ہیں-

انہوں نے مزید بتایا کہ عورتوں ، بچوں اور نوجوانوں کے پروگراموں میں حصہ لینے والے اس وجہ سے بھی اکاؤنٹ نہیں رکھ سکتے کیونکہ انہیں کبھی کبھار ہی پروگرام ملتے ہیں اور ان کے چیک تین چار سو روپے مالیت کے ہوتے ہیں-

ایک اور فنکار قادر بخش کا کہنا ہے کہ بینک اکاؤنٹ کے لئے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ ضروری ہے اور اکثر فنکاروں کے پاس کمپیوٹرائزڈ کارڈ تو دور کی بات پرانے کارڈ بھی نہیں ہیں- ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بینک اکاؤنٹ برقرار رکھنے کے لئے ایک ہزار روپے موجود ہونا ضروری ہیں جس کی وجہ سے ان فنکاروں کے اکاؤنٹ نہیں ہیں -

اس کے علاوہ بچوں اور معذور فنکاروں کے لئے اکاؤنٹ کھولنا مسئلہ ہے- ان لوگوں کو اس سے قبل اوپن چیک کے ذریعے ادائیگی کی جاتی تھی- یہ شرط فقط ریڈیو خیرپور کے لئے ہے-

ریڈیو پاکستان خیرپور کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ریڈیو کے فنکاروں کو کراس چیک کے ذریعے ادائیگی ریڈیو پاکستان کے شعبہ مالیات کی ہدایات پر کی جارہی ہے اور اس کا مقصد آرٹسٹ کا تحفظ ہے-

اس ضمن میں ریڈیو حیدرآباد کے پروگرام مینیجر نصیر مرزا کا کہنا ہے کہ ان کے پاس بھی ڈائریکٹر فنانس کا لیٹر آیا تھا مگر وضاحت پر فنانس شعبہ کا کہنا تھا کہ یہ شرط صرف کانٹریکٹ اور کنفرم ملازموں کے لئے ہے- جس کے بعد حیدرآباد ریڈیو نے چیک اوپن کر دیئے ہیں-

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد