وانا میں دھماکہ: ریڈیو سٹیشن بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں پیر کی رات گئے ایک بم دھماکے سے نئے نصب شدہ سرکاری ریڈیو سٹیشن کے ٹاور کو نقصان پہنچا ہے جس سے اس کی نشریات بند ہوگئی ہیں۔ قبائلی علاقوں میں ذرائع ابلاغ کے ڈائریکٹر جنرل شفیق الزمان نے بی بی سی کو نشریات بند ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مرمت کا کام جاری ہے اور توقع ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں یہ سٹیشن دوبارہ کام شروع کر دے گا۔ اس سٹیشن نے بیس جولائی کو ہی نشریات کا باضابطہ آغاز کیا تھا۔ روزانہ چھ گھنٹوں کی نشریات میں یہ تفریح، معلومات اور مذہبی پروگرام پیش کر رہا تھا۔ پیر کی رات مقامی وقت کے مطابق ساڑھے دس بجے کی قریب ریڈیو ٹرانسمٹر کے نزدیک رکھے گئے بم کے دھماکے سے نشریات بند ہوگئیں۔ مبصرین کے خیال میں حکومت نے اس ریڈیو سٹیش کی ضرورت اس لیے محسوس کی کہ مقامی قبائلیوں پر ان کے علاقے میں جاری القاعدہ کے مشتبہ افراد کے خلاف کارروائیوں کے بارے میں اپنا موقف واضع کر سکیں۔ البتہ مقامی لوگوں کے مطابق اس سٹیشن پر حملے کی وجہ مقامی وزیر قبائل کی وہ شکایت بھی ہوسکتی ہے کہ اس میں نوکریاں مبینہ طور پر دیگر قبیلے کے لوگوں کو دی گئی ہے۔ وانا کے رہائشیوں نے بتایا کہ ریڈیو سے طالبان مخالف باتیں بھی نشر کی گئیں ہیں۔ تین گھنٹے صبح اور تین گھنٹے شام کی نشریات میں ٹیلیفون پر سامیعن کی فرمائش پر گانے نشر کیے جاتے تھے۔ جنوبی وزیرستان کا وانا اور افغان سرحد کے قریب کے وسیع علاقے میں سرکاری ریڈیو اور ٹی وی کی نشریات نہیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ اس وجہ سے حکومت کو اپنا پیغام عوام تک پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اشتہارات گرانے پڑتے تھے۔ وانا کے بعد حکومت نے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرن شاہ میں بھی ریڈیو سٹیشن نصب کیا ہے جوکہ آج کل اپنی تجرباتی نشریات کر رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||