وانا: چھ رشتہ دار حکام کے حوالے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں احمدزئی وزیر قبائل نے حکومت کو القاعدہ اور طالبان کی مدد کے الزام میں مطلوب دو افراد کی جگہ ان کے چھ رشتہ داروں کو حکام کے حوالے کیا ہے۔ وانا میں قبائلیوں کا کہنا تھا کہ حوالے کیے جانے والوں میں مطلوب شخص جاوید خان کا والد ہزار داستان اور دو دیگر رشتہ دار عالم زیب اور عبدالوہاب شامل ہیں جبکہ مولوی عباس کے بھائی روشان خان کے علاوہ چچا زاد بھائیوں جان محمد اور ثواب خان شامل ہیں۔ انہیں حوالے کرنے کا فیصلہ احمدزئی وزیر قبائل کے ایک جرگے نے آج وانا میں کیا۔ بعد میں اس جرگے نے پولیٹکل ایجنٹ عصمت اللہ گنڈاپور سے ملاقات میں ان کو حوالے کیا۔ انہیں قبائلی روایت کے مطابق ضمانت کے مطابق حکومت کے حوالے کیا گیا ہے۔ فوجی اہداف پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے البتہ حکام کسی تازہ جھڑپ کی تصدیق نہیں کر رہے۔ وانا کے قریب آج صبح ٹانک روڈ پر تقریباً گیارہ بجے کے قریب ایک فوجی قافلے کی گاڑی کے گزرنے کے منٹوں بعد ایک زوردار دھماکہ ہوا جس سے گاڑی کو نقصان پہنچا لیکن تین فوجیوں کے زخمی ہونے کی خبر کی سرکاری اہلکار تصدیق نہیں کر رہے۔ سڑک کو بعد میں کافی وقت تک فوجیوں نے بند کردیا۔ قبائلی علاقوں میں سیکورٹی کے نگران سیکریٹری محمود شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ کل شکئی کے شمال میں منتوئی اور سنتوئی کی وادیوں کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے حالات پرامن ہیں اور کسی نہیں جھڑپ کی اطلاع نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان علاقوں کے علاوہ خمرنگ بھی اب ان کے کنٹرول میں ہے۔ منگل کے رات گئے بھی وانا میں سکاؤٹس کیمپ پر تین راکٹ داغے گئے جن میں سے ایک قریبی کالج میں ایک شخص عطا اللہ کے مکان پر لگا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||