وانامیں تازہ جھڑپیں: تین ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں فوج اور مشتبہ عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ آج دوسرے روز بھی جاری رہا۔ حکام نے تین ’شرپسندوں’ کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے جبکہ اپنے نقصانات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ تازہ تصادم شکئی کے شمال میں منتوئی اور سنتوئی کے علاقوں میں ہوا ہے۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا ہے کہ سنتوئی اور منتوئی کی بیشتر پہاڑیاں سکیورٹی فورسز کے قبضے میں آ چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ موصولہ اطلاعات کے مطابق تین سر پسند ہلاک اور چھ زخمی ہوئے ہیں۔ میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا کہ وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ ہلاک ہونے و الوں کا تعلق کس ملک سے ہے البتہ ان کے غیر ملکی ہونے کا امکان ضرور ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورس کے کسی اہلکار کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ وانا میں عینی شاہدین کے مطابق ژڑی نور فوجی کیمپ سے توپوں کے ذریعے وقفے وقفے سے مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔ دنوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف مارٹر اور راکٹ استعمال کئے گئے۔ وانا میں فوجی ہیلی کاپٹروں کی بھی غیرمعمولی پروازیں دیکھی گئی ہیں۔ پشاور میں قبائلی علاقوں میں سیکورٹی امور کے نگران محمود شاہ نے تین حملہ آوروں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے البتہ اس کے بارے میں کچھ کہنے سے انکار کیا کہ مرنے والے آیا ازبک تھے یا نہیں۔ انہوں نے کہا ’ان کی لاشیں ہم حاصل نہیں کر سکے لہذا اس بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے تاہم وہ بظاہر ازبک ہی معلوم ہوتے تھے۔‘ دریں اثنا وانا میں آج ایک جرگے میں شکئی کے قبائل نے حکومت کو مطلوب چوالیس میں سے چالیس افراد حوالے کر دیا ہے۔ ان میں چار علما بھی شامل ہیں۔ یہ حوالگی حکومت اور شکئی قبائل کے درمیان طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت ممکن ہوا جس میں ان قبائلیوں نے حکومت کو علاقے کو غیرملکی عناصر سے پاک کرنے اور مطلوب افراد حوالے کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ تاہم دو انتہائی مطلوب افراد مولوی عباس اور جاوید خان کے بارے میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ پاکستان فوج کے ترجمان شوکت سلطان میں وانا میں عائد اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے لوگوں کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ وانا میں حالات جلد از جلد معمول پر واپس آ جائیں اور معاشی پابندیاں جس قدر جلد ممکن ہو ختم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان کارروائیوں سے متاثر ہوئے ہیں ان کا نقصان پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ حراست میں لیا گیا کوئی شخص بےگناہ ہے تو اسے معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||