مستری مارکہ ریڈیو سٹیشن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سندھ اور پنجاب کے سرحدی اضلاع میں جگہ جگہ لوگوں نے اپنے ایف ایم ریڈیو سٹیشن قائم کر لیے ہیں جس سے پی ٹی وی کی نشریات، پولیس کا وائرلیس سسٹم اور رینجرز اور فوج کا نظام متاثر ہورہا ہے- ان ریڈیو سٹیشنوں کے لئے نہ تو بڑا سرمایہ درکار ہے اور نہ ہی لائسنس کی ضرورت - دیہی ایف ایم ریڈیو سٹیشن بنانے والےمستری رفیق احمد کا کہنا ہے کہ دو سے ڈھائی سو روپے میں ایک ریڈیو سٹیشن تیار ہو سکتا ہے- اس میں استعمال ہونے والے پرزے بازار میں باآسانی اور انتہائی کم قیمت میں دستیاب ہیں۔ بانس کی لکڑی میں ایک اینٹینا ذرا اونچائی پر لگایا جاتا ہے- جس کے بعد واکی ٹاکی نما ریڈیو سٹیشن کام شروع کر دیتا ہے- یہ ریڈیو سٹیشن صرف کم قیمت میں ہی نہیں بلکہ کم وقت میں تیار ہو جاتا ہے- مستری محمد رفیق کا کہنا ہے کہ وہ ایک دن میں ایسے دس اسٹیشن بنا سکتے ہیں- یہ ریڈیو سٹیشن نہ تو گمنام ہیں اور نہ ہی بے نام - ریڈیوسٹیشن چلانے والوں نے اپنی پسند کے نام رکھے ہوئے ہیں- مثلا جیئے لطیف - جیئے سندھ - سندھو- سدا بہار - بھٹائی - سوہنا وغیرہ- یہ ریڈیو سٹیشن تعلیمی اور سماجی پروگرام نشر نہیں کرتے بلکہ صرف مقبول عوامی فنکاروں مختیار شیدی، شمن میرالی، جوگی جلال، اور جلال چانڈیو جیسے گلوکاروں کے گانے نشر سنواتے ہیں- اس کے علاوہ فرمائش کرنے والوں کے نام بھی نشر کئے جاتے ہیں- جو سامعین کی گہری دلچسپی کا باعث ہیں۔ یہ دیہی ریڈیو اسٹیشن میرپور ماتھیلو- ڈہرکی اور اوباوڑو تحصیل کے پچاس سے زائد گاؤوں میں قائم ہیں- جن کی رینج دس کلومیٹر تک ہے اور پندرہ سے بیس دیہاتوں میں انہیں سنا جا سکتا ہے۔ لوگ ویسے تو سارا دن یہ نشریات سنتے ہیں مگر شام ڈھلے جب لوگ گھروں میں محدود ہوجاتے ہیں تب وہ ان نشریات سے زیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں- اطلاعات و نشریات کا یہ کام غیر منافع بخش بنیادوں پر کیا جا رہا ہے- کم لاگت میں سسٹم کی تیاری اور اس کو چلانے کے لئے کسی اضافی خرچ نہ ہونے کی وجہ سےان ریڈیو سٹیشن مالکان کو اسپانسرشپ یا اشتہارات کی کوئی ضرورت نہیں- اکثر لوگ یہ سٹیشن خود نمائی کے لئے بھی چلا رہے ہیں- ایک آپریٹر محمد عرس نے بتایا کہ لوگ ہم سے فرمائش کرتے ہیں جبکے ہم اپنی پسند کےگیت بھی لوگوں کو سناتے ہیں جس سے ہمیں اور انہیں بھی خوشی ہوتی ہے- ایک دیہاتی گامن شر کا کہنا ہے کہ ہمارا گاؤں شہر سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے- ہمارے رابطے اور تفریح کا واحد ذریعہ ہمارا ایف ایم ریڈیو ہی ہے- ان کا کہنا ہے کہ ان ایف ایم ریڈیو کی وجہ سے کئی گاؤں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں- ڈہرکی کے قریب واقع ایک گاؤں کے رہنے والے حافظ محمد یونس مہر کا کہنا ہے کہ ایف ایم ریڈیو ایمرجنسی اطلاع پہنچانے- کسی گاؤں میں چور یا ڈاکو کے حملہ آور ہونے کی صورت میں ناکہ بندی کرنے اور دیگر اطلاعات بہم پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں- حافظ مہر ایف ایم ریڈیو کا ثقافتی فائدہ بھی بتاتے ہیں- ان کا کہنا ہے کہ مختلف گاؤوں کی بیٹھکوں ( اوطاقوں) میں ہونے والی کچہری میں ان ریڈیو سٹشنوں کے ذریعے دوسرے گاؤں میں سنائی جاتی ہے- گاؤں محبت شر کے باسی شبیر احمد نے بتایا کہ ایف ایم ریڈیو کی اطلاع پر واردات ہونے سے پہلے مجرم پکڑ لیتے ہیں- کچھ لوگ ان ریڈیو سٹیشنوں کے مخالف بھی ہیں- ان کا کہنا ہے کہ ان ریڈیو سٹیشنوں کی وجہ سےگذشتہ ایک سال سے ہم پی ٹی وی کی نشریات سے محروم ہیں- کیا یہ کمیونٹی ریڈیو کی ایک ابتدائی شکل ہے؟ اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے – لیکن جب دو قبائل میں تنازعہ ہوتا ہے تو یہ اسٹیشن مخصوص قبائل کے لیے کام کرنے لگتے ہیں- پولیس کے لیے یہ سٹیشن سر درد بنے ہوئے ہیں پولیس جب بھی کوئی گرفتاری کے لیے جاتی ہے تو اس نظام کے تحت لوگوں کو پولیس کی آمد کا پتہ چل جاتا ہے اور وہ فرار ہوجاتے ہیں- ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر آفتاب ہالیپوٹو کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایف ایم ریڈیو سٹیشن چلانے والوں کے خلاف کئی مرتبہ کارروائی کی گئی ہےمگر لوگ دوبارہ سٹیشن قائم کر لیتے ہیں- انہوں نے تصدیق کی کہ اس ریڈیائی رابطے کی وجہ سے پولیس کے علاوہ فوج اور رینجرز کا بھی اطلاعاتی نظام متاثر ہوتا ہے- کیونکہ اس سے وائرلیس کے نظام میں خلل پیدا ہو جاتا ہے- گھوٹکی کے صحافی الورایو بوذدار کا کہنا ہے کہ یہ ریڈیو سٹیشن علاقے کے بااثر قبیلوں کے علاقوں میں قائم ہیں- جہاں پولیس جانے سے گھبراتی ہے- اگر کبھی کوئی پکڑا بھی جاتا ہے تو اس کا ریڈیو سٹیشن ضبط کرنے کے بعد اسے وارننگ دے کر رہا کردیا جاتا ہے- اگرچہ پاکستان کے قانون کے مطابق ریڈیو نشریات لائسنس کے بغیر نہیں کی جا سکتی لیکن پچاس سے زائد یہ دیہی نشریاتی ادارے بغیر لائسنس کے کام کر رہے ہیں اور فی الحال حکومت پاکستان کی میڈیا ریگیولٹری اتھارٹی سے بچے ہوئے ہیں- یہ ریڈ یو سٹیشن اس بات کا اظہار ہیں کہ لوگ اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق تفریح حاصل کرنا چاہتے ہیں - |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||