BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 May, 2005, 17:38 GMT 22:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صحافت آج بھی پا بہ زنجیر

ناصر زیدی ، خاور نعیم ہاشمی اور اقبال جعفری
ناصر زیدی ، خاور نعیم ہاشمی اور اقبال جعفری
پاکستان میں صحافت کی آزادی کے لیے ستائیس برس قبل کوڑے کھانے والے صحافی ناصر زیدی اور اقبال جعفری کہتے ہیں کہ آج بھی صحافت آزاد نہیں ہے۔ لیکن ان کے مطابق ماضی کی نسبت اب میڈیا کے خلاف پابندیوں کا طریقہ واردات اور انداز ضرور تبدیل ہوا ہے۔

تیرہ مئی سن انیس سو اٹھتر کو ضیاءالحق کے فوجی دور میں اخبارات و جرائد کی بندش اور ’سینسرشپ، کے خلاف احتجاجی تحریک کے دوران گرفتار ہونے والے صحافیوں کو فوجی عدالت نے کوڑے مارے تھے۔

ناصر زیدی سن انیس سو اٹھتر میں ملتان میں پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اے پی پی، کے نمائندہ تھے جبکہ اقبال جعفری کراچی سے شایع ہونے والے اخبار ’سن، سے وابسطہ تھے۔

صحافتی آزادی کے لیے کوڑے کھاکر اپنی سزائیں کاٹ کر باہر آنے پر دونوں کو ملازمتوں سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔ ناضر زیدی کے مطابق انہوں نے ڈیڑھ سال بے روزگاری میں گزارا لیکن ہمت نہیں ہاری۔ ان دونوں صحافیوں نے بعد میں اسلام آْباد سے شایع ہونے والے انگریزی روزنامے’دی مسلم، میں کام شروع کیا۔

جب ان سے پوچھا کہ اتنے عرصہ میں کبھی پشیمانی کا احساس تو نہیں ہوا؟

اس پر دونوں کا جواب تھا کہ ہرگز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں آج بھی اپنی قربانی پر فخر ہے اور وہ اب بھی اپنے آزادی صحافت کے مشن کے لیے ساتھیوں کے شانہ بشانہ چلتے ہیں۔

ناصر زیدی نے ستائس برس پرانی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج بھی ضیاء الحق کے وہ الفاظ نہیں بھولے جن کی وجہ سے وہ گرفتاری دینے آئے تھے۔ ان کے مطابق صحافیوں کے رہنما مرحوم نثار عثمانی کو ضیاءالحق نے کہا تھا کہ دو چار صحافیوں کو الٹا لٹکائیں گےتو یہ پھر خود بخود سیدھے ہوجائیں گے۔

زندگی کے اتار چڑھاؤ کے بعد ناصر زیدی آج کل ’دی نیوز، اخبار کے ’ریسرچ اینڈ ریفرنس، سیکشن کے سربراہ ہیں جبکہ اقبال جعفری نوائے وقت اسلام آباد میں ڈیسک پر کام کرتے ہیں۔

اقبال جعفری نے بتایا کہ تیرہ مئی کو شام گئے فوجی عدالت سے سزا سنائے جانے کے بعد انہیں کوڑے تو رات کو دیر سے مارے گئے لیکن فوجی حکومت نے اس بات کا اعلان پہلے ہی کردیا تھا کہ کوڑے ماردیے گئے ہیں۔

ناصر زیدی نے بتایا کہ انہیں پانچ کوڑے لگے جبکہ اقبال جعفری اور خاور نعیم ہاشمی کو بالترتیب چار اور تین کوڑے مارے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو جہاں آئینی حقوق نہیں دیے جاتے وہاں ان کے پیشیورانہ فرائض میں رکاوٹ بھی ڈالتی ہے۔

ناصر زیدی نے حال ہی میں لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں صحافیوں سے ٹیپ ریکارڈر اور کیرے چھننے کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنا میڈیا کو دبانے کی بدترین مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اب تک دعوے کر رہی تھی کہ پاکستان میں زیادہ ٹی وی چینل آئے ہیں اور میڈیا آزاد ہے لیکن ان واقعات نے ان کا بھرم بھی توڑ دیا ہے۔

اقبال جعفری میڈیا کی آزادی کے حوالے سے کہتے ہیں کہ آزادی صحافت کی تحریک سے صحافیوں کو تو کوئی فائدہ نہیں ہوا البتہ اخباری مالکان کو ضرور اس کا فائدہ ہوا ہے۔

’پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، کے صدر پرویز شوکت نے بتایا کہ انہوں نے اس دن کی مناسبت سے سترہ مئی کو ایک سیمینار بلایا ہے جس میں کوڑے کھانے والے ساتھیوں کے علاوہ بیشتر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی مدعو کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد