BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 May, 2005, 14:52 GMT 19:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جس دن صحافیوں کو کوڑے مارے گئے

فائل فوٹو
ناصر زیدی، خاور نعیم ہاشمی اور اقبال جعفری کوڑے کھانے کے بعد بھی ثابت قدم رہے
تیرہ مئی سنہ انیس سو اٹھہتر کی شام لاہور کے تین نوجوان صحافیوں کو فوجی حکومت کے حکم پر برہنہ کر کے پندرہ کوڑے مارے گئے تو انہوں نے اپنے دانت بھینچ لیے تھے اور درد کی آواز دبا لی تھی۔انہوں نے فوجی طاقت سے دہشت زدہ ہونے سے انکار کردیا تھا۔

شام آٹھ بجے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل کے میدان میں تین برہنہ آدمیوں کو لا کر اُن کے ہاتھ پاؤں ایک ٹکٹکی کے تختے سے باندھ دیے گئے۔ ایک پہلوان نما آدمی چمڑے کے کوڑے کو گھماتا دُور سے بھاگتا ہوا ان آدمیوں کے قریب آتا اور ان کے جسم پر پانچ پانچ بار اپنا کوڑا برساتا۔

ٹکٹکی کے سامنے کچھ دُور تقریبا سو باوردی فوجی اہلکار اور سول سرکاری اہلکار کرسیوں پر بیٹھے دنیا کے اس منفرد واقعہ کا تماشا دیکھ رہے تھے جس میں پاکستان کے تین صحافیوں کو پریس کے خلاف فوجی حکومت کے اقدامات پر احتجاج کرنے کے جرم میں کوڑوں کی سزا دی گئی۔

جن تین صحافیوں کے جسم پر جنرل ضیاء الحق کے کوڑے پڑے ان میں ایک چوبیس سالہ نوجوان اور روزنامہ مساوات کے سب ایڈیٹر خاور نعیم ہاشمی تھے۔ وہ اس دور کی اپنی یادوں کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں۔

صحافت کے مجاہد
ہم سب نے عہد کیا کہ کوڑے کھاتے ہوئے درد سے چیخ کی آواز نہیں نکلنے دیں گے۔
خاور نعیم ہاشمی

یہ جنرل ضیاالحق کے مارشل لاء کا ابتدائی زمانہ تھا جنہوں نے پانچ جولائی سنہ انیس سو ستتر کو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو معزول کرکے اقتدار سنبھالا تھا۔

بیس سے زیادہ اخبارات اور رسائل مارشل لا حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے کی وجہ سے بند کردیے گئے تھے اور تمام اخبارات پر سخت سینسر شپ عائد تھی۔ ان میں پیپلزپارٹی کا ترجمان اخبار روزنامہ مساوات بھی شامل تھا۔

خاور نعیم ہاشمی مساوات اخبار میں کام کرتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ پریس پر دو فوجی اہلکار تعینات تھے جو اخبار کی کاپی چھپنے سے پہلے اس کا جائزہ لیتے اور ان کے نزدیک جو ناپسندیدہ مواد ہوتا اسے نکال دیتے تاکہ وہ شائع نہ ہو۔

خاور ہاشمی کا کہنا ہے کہ دو بار ایسا ہوا کہ اخبار کی پیشانی پر شائع کی جانے والی قران کی آیات بھی اس سینسر پالیسی کے تحت اتار دی گئیں تھیں۔

بہت سے صحافیوں نے مارشل لاء حکومت کے پریس پر پابندیوں کے ان اقدامات کے خلاف اور اخبارات کی بندش سے صحافیوں کی بے روزگاری کے خلاف سنہ انیس سو اٹھہتر میں دو مرحلوں میں احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا۔

News image
ضیاالحق نے کہا دو صحافیوں کو الٹا ٹانگوں گا سب سیدھے ہو جائیں گے

پہلےمرحلے میں یہ تحریک لاہور میں اور پھر کراچی میں چلنا تھی۔ لاہور میں تین ماہ تک ہر روز چار افراد ایبٹ روڈ پر رضاکارانہ گرفتاریاں دیتے تھے جہاں عام لوگوں کا ایک بڑا ہجوم جمع ہوجاتا تھا۔

نو مئی سنہ انیس سو اٹھہتر کو ایبٹ روڈ پر گلستان سینما کے چوک میں چار صحافیوں نے گرفتاریاں دیں جن میں خاور نعیم ہاشمی، مسعود اللہ خان، اقبال جعفری اور ناصر زیدی شامل تھے۔ انہیں لاہور کی کیمپ جیل لے جایاگیا ۔

جیل میں ہی سب مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی فوجی عدالت نے ان کے مقدمہ کی سماعت شروع کی جو روزانہ ہوتی تھی۔

خاور نعیم ہاشمی کا کہنا ہے کہ چوتھے روز تیرہ مئی کو فوجی عدالتی افسر نے ان کے ہاتھوں کی ہتھکڑیاں اُتروادیں اور اپنی پیٹی اتار دی۔ فوجی افسر نے خاور سے کہا کہ آؤ بیٹھو بات کریں۔

 بی بی سی ریڈیو نے رات آٹھ بجے کی خبروں میں صحافیوں کو کوڑے مارے جانے کی خبر نشر کردی جس پر پوری دنیا کے اخبارات میں علامتی ہڑتال کی گئی۔

خاور نعیم ہاشمی کے مطابق انہوں نے کہا کہ ان کا تو صرف ایک مطالبہ ہے کہ اخبار بند نہ کیے جائیں اور سینسر شپ اٹھالی جائے۔ اس پر فوجی افسر اُٹھ کر باہر چلا گیا اور کچھ دیر بعد آکر اس نے چاروں صحافیوں کو پانچ پانچ کوڑے مارنے، تین تین ماہ قید اور جرمانہ کی سزا سنادی۔

خاور نعیم کا کہنا ہے کہ سزا پانے والے صحافیوں نے سمجھا کہ یہ سزا صرف انہیں اور دوسرے صحافیوں کو ڈرانے کے لیے دی گئی تھی اور کسی کو بھی یقین نہ تھا کہ اس پر عمل کیا جائے گا۔ حکومت نے اس سزا کا ہینڈ آؤٹ اسی شام سات بجے جاری کردیا تھا۔

ان چاروں صحافیوں کو فوری طور پر کیمپ جیل سے کوٹ لکھپت جیل لے جایا گیا۔ انہیں وہاں بیرک میں بند کرنے کے بجائے دفتر میں بٹھادیا گیا۔ کچھ دیر بعد ایک ڈاکٹر نے ان کا معائنہ کیا۔

ان میں سے ایک صحافی مسعود اللہ خان پولیو کے باعث ٹانگوں سے معذور تھے۔ ڈاکٹر نے کہا کہ انہیں کوڑے مارنا ممکن نہیں۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ خاور نعیم ہاشمی جسمانی طور پر اتنا کمزور ہے کہ طبی طور پر اسے کوڑے لگانا موزوں نہیں۔

تین صحافیوں ۔ خاور نعیم ہاشمی، اقبال جعفری اور ناصر زیدی سے حکام نے کہا کہ وہ باری باری اپنے تمام کپڑے اتار دیں۔ اس موقع پر انہیں یقین ہو گیا کہ انہیں واقعی کوڑے مارے جائیں گے۔ سب نے عہد کیا کہ کہ وہ کوڑے کھاتے ہوئے درد سے چیخ کی آواز نہیں نکلنے دیں گے۔

رات کو تقریبا آٹھ بجے انہیں باری باری میدان میں لے جایا گیا اور ٹکٹکی پر باندھ کر کوڑے مارے گئے۔ کوڑے مارنے کے بعد انہیں تختہ سے اتارا جاتا اور ایک مدہوشی کا ٹیکہ دے کر اسٹریچر پر ڈال کر جیل کے ہسپتال میں لے جاتے۔

خاور نعیم ہاشمی کہتے ہیں کہ کوڑے کھانے کے بعد انہوں نے قریب آنے والے جیل سپرینٹنڈنٹ سے کہا کہ وہ پیدل چل کر جائیں گے تو اس نے سرگوشی میں کہا کہ اس طرح اُس کی ملازمت جاتی رہے گی۔

News image
پاکستان میں ہرسال کارکن صحافی تیرہ مئی کو یومِ آزادیِ صحافت مناتے ہیں

اس نے درخواست کی کہ خاور اسٹریچر پر لیٹ کر ہی جائیں۔ تین سال تک خاور نعیم ہاشمی کی پشت پر کوڑوں کے نیل موجود رہے جو بعد میں بی بی سی ٹی وی پر بھی دکھائے گئے تھے۔

بی بی سی ریڈیو نے رات آٹھ بجے کی خبروں میں صحافیوں کو کوڑے مارے جانے کی خبر نشر کردی جس پر پوری دنیا کے اخبارات میں علامتی ہڑتال کی گئی۔

تاہم پاکستان میں صحافی دو حصوں میں تقسیم تھے۔ اکثر اخباروں میں ہڑتال نہیں کی گئی۔

اگلی صبح ان چار صحافیوں کو بیرکوں میں ڈالا گیا اور وہاں سے ساہیوال جیل منتقل کردیا گیا۔ اسی سال تیرہ اگست کو ان لوگوں کو رہا کیاگیا۔

خاور نعیم ہاشمی نے اگلے روز کراچی پہنچ کر ایک بار پھر گرفتاری دی۔ انہیں ایک بار پھر فوجی عدالت سے چھ ماہ قید کی سزا ہوئی جو انہوں نے سینٹرل جیل کراچی اور حیدرآباد جیل میں کاٹی۔

News image
جنرل ضیاء کی حکومت میں سیاسی کارکنوں کو بھی کوڑے مارئے گئے تھے

کراچی میں اس واقعہ کے چار ماہ بعد مارشل لاء حکومت نے صحافیوں کی یونین کے کچھ مطالبے مان لیے اور بند کیے گئے اخباروں کو اشاعت کی اجازت دے دی۔

فوجی حکمران جنرل ضیاءالحق نے تحریک شروع ہونے پر کہا تھا کہ مساوات بند تھا اوربند رہے گا لیکن اس تحریک کے بعد انہیں یہ اخبار بھی شائع کرنے کی اجازت دینا پڑی۔

خاور نعیم ہاشمی کہتے ہیں فوجی حکمران کوڑوں سے صحافیوں کو جھکانا چاہتے تھے لیکن صحافیوں کی مزاحمت کے سامنے انہیں خود جھکنا پڑا۔

پوری دنیا میں تیرہ مئی سنہ انیس سو اٹھہتر کے اس واقعہ کے بعد سے ہر سال آزادی صحافت کا جو عالمی دن منایا جاتا ہے اس دن کو شروع کرنے کے محرکات میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل کے وہ پندرہ کوڑے بھی شامل تھے جن کے پڑنے پر تین ُپرعزم صحافیوں نے اپنی چیخیں ضبط کرلیں تھیں لیکن اُن کی گونج جیل کی چار دیواری سے بہت دُور پوری دنیا میں پھیل گئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد