BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 May, 2005, 12:56 GMT 17:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صحافیوں پر لاٹھی چارج اور گرفتاریاں

صحافیوں کی گرفتاری
پاکستان میں صحافیوں کا احتجاج
آزادیِ صحافت کے عالمی دن کے موقعہ پر پاکستان میں صحافیوں کی نمائندہ تنظیم فیڈرل یونین آف جرنسلٹ کی اپیل پر اسلام آباد اور لاہور میں نکالے گئے جلوسوں پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا ہے اور متعدد صحافیوں کو حراست میں لیے لیا۔

اسلام آباد میں صحافیوں کی مقامی تنظیم راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ کے زیر اہتمام ایک ریلی میں شامل 35 صحافیوں کو پولیس نے اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ وزیر اعظم سکریٹیریٹ کی طرف جا رہے تھے۔

ان صحافیوں کو گرفتار کر کے سہالہ تھانے لیے جایا گیا جہاں انہیں سارے دن حوالات میں رکھنے کے بعد منگل کو شام گئے رہا کر دیا گیا۔

صحافیوں کے نمائندوں نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے گرفتاری سے قبل انہیں زدوکوب کیا اور فوٹوگرافروں سے ان کے کیمرے چھین لیے۔

 پولیس کی طرف سے جسمانی تشدد پر شیخ رشید نے کہا کہ اس طرح کی ہلکی پھلکی موسیقی تو چلتی رہتی ہے

لاہور میں بھی پنجاب یونین آف جرنلسٹ کے ایک جلوس نے تین مرتبہ لاٹھی چارج کیا جس میں کئی صحافیوں کو چوٹیں بھی آئیں۔

وزارت اطلاعات کے سیکریٹری شاہد رفیع نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ اسلام آباد میں صحافیوں کے جلوس کو وزیر اعظم سیکریٹریٹ تک جانے سے منع کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب صحافیوں نے انکار کیا تو پولیس کو زبردستی کرنی پڑی۔ انہوں نے کہا کہ تمام مصحافیوں کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔

گرفتار شدہ صحافیوں میں شامل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنسلٹ کے سرگرم رکن سی آر شمسی سے جب موبائل فون پر رابط کیا گیا تو وہ تھانہ سہالہ میں پولیس کی حراست میں تھے۔

انہوں نے کہا کہ آزادی صحافت کے عالمی دن کے حوالے سے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے ملک گیر سطح پر پاکستان میں آزادی صحافت کے خلاف ’ کالے قوانین‘ اور صحافیوں کی اجرتوں میں اضافے کے لیے منظور کیے گئے ویج ایوارڈ پر عملدرآمد کے لیے پرامن مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہا اسی سلسلے میں وزیر اعظم کو ایک یاداشت پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

News image
شیخ رشید کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صحافیوں کو مکمل آزادی حاصل ہے

انہوں نے کہا کہ وہ یہ یاداشت پیش کرنے کے لیے جلوس کی صورت میں وزیر اعظم سکریٹیریٹ جانا چاہ رہے تھے جب پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے پولیس نے انہیں روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے بغیر کسی وجہ کہ اخبار نویسوں پر حملہ کر دیا۔ اس موقعہ پر کئی صحافیوں کو زدوکوب بھی کیا گیا ان کے کیمرے چھین لیے گئے اور ٹرکوں میں ڈال کر پہلے تھانہ سیکریٹیریٹ لے جایا گیا پھر سہالہ منتقل کر دیا گیا۔

گرفتار ہونے والوں میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدر شوکت پرویز اور سابق صدر فوزیہ شاہد بھی شامل ہیں۔

صحافیوں کی گرفتاریوں کے خلاف پارلیمنٹ ہاؤس کے اجلاس کے لیے جمع ہونے والے صحافیوں نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے بھی صحافیوں کا ساتھ دیا۔

آج ملک بھر میں آزادی صحافت کے حوالے سے کئی سیمینار اور ریلیاں منعقد کی گئیں مگر اسلام آباد میں صحافیوں کی گرفتاری ناقابل فہم ہے۔

پاکستان یونین آف جرنلِسٹس کے صدر پرویز شوکت نے سہالہ حوالات سے بی بی سی سے بات کی اور بتایا کہ پولیس نے درجنوں صحافیوں کو حوالات میں بند کر دیا ہے اور کیمرہ مینوں کے کیمرے اور صحافیوں کے موبائل فون چھین لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنا موبائل فون پولیس کی نظر سے بچا کر حوالات میں لے آئے ہیں۔

اس واقعے پر ابھی تک کسی حکومتی عہدیدار کا کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات سے جب ان کے ٹیلیفون پر رابطہ کیا گیا تو ان کے سٹاف نے بتایا کہ وزیر پارلیمنٹ ہاؤس کے اجلاس میں شریک ہیں۔

جب ان سے سولہ اپریل کو پی پی پی کے رہنما آصف زرداری کے ساتھ دبئی سے لاہور آنے والے صحافیوں کے ساتھ نامناسب رویہ اور ان کو پولیس کی طرف سے جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کے حوالے سے سوال کیا گیا تو وزیر نے کہا تھا کہ اس طرح کی ہلکی پھلکی موسیقی تو چلتی رہتی ہے۔ تاہم انہوں نے اس واقعے کے بارے میں معذرت کی۔

لاہور سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے علی سلمان نے اطلاع دی ہے کہ لاہور میں پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا جس نے پی یو جے کے دفتر دیال سنگھ منیشن مال روڈ سے لیکر شملہ پہاڑی تک جانا تھا۔

اس جلوس میں عامل صحافیوں کے علاوہ لیبر تنظیموں کے نمائندے بھی شریک تھے۔ جلوس کے شرکاء نے ویج بورڈ کے اور آزادی صحافت کے حق میں بینر اٹھا رکھے تھے۔ جلوس جب چیئرنگ کراس پہنچا تو اس پر پہلی بار لاٹھی چارج ہوا وہاں سے جان چھوٹی تو آواری ہوٹل کے سامنے پولیس نے صحافیوں کو پیٹا اور جب وہ پریس کلب جانے کے لیے کشمیر روڈ کے سامنے پہنچے تو ایک بار پھر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

متعددصحافیوں کو زمین پر لٹا کر پیٹا گیا۔ کم از کم اٹھارہ صحافیوں کو چوٹیں آئیں۔ صحافیوں نے پریس کلب پہنچ کر احتجاجی مظاہرہ کیا اور پریس کلب کے ارد گرد ٹریفک بلاک کر دی اس موقع پر صحافتی تنظیموں کے رہنماؤں نے حکومتی تشدد اور پاکستان میں صحافت کی آزادی کی صورتحال کو تنقیدکا نشانہ بنایا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد