ایڈیٹر پر حملہ، صحافیوں کا احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے ایک مقامی روزنامے کے ایڈیٹر کو زدو کوب کیا اور سخت تشدد کیا ہے۔ پولیس نے نا معلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ جمعہ کو سہ پہر کے وقت تین افراد روزنامہ مشرق کے دفتر میں ایگزیکٹو ایڈیٹر کے کمرے میں داخل ہوئے اور کہا ہے کہ وہ ایک سیاسی جماعت کے کارکن ہیں اور ان کی اخبار میں ان کی جماعت کی خبریں صحیح شائع نہیں ہوتی ہیں۔ ایڈیٹر کامران ممتاز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ نامعلوم افراد نے کسی خاص خبر کا ذکر نہیں کیا۔ اس کے بعد ان افراد نے ایڈیٹر کو تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد میں پستول نکال کر جان سے مارنے کی دھمکی دی جس پر اخبار کا عملہ پہنچ گیا اور ملزمان فرار ہو گئے۔ دریں اثنا کوئٹہ میں بلوچستان یونین آف جرنلسٹ، کوئٹہ پریس کلب، ڈیلی نیوز پیپر ایڈیٹر کونسل بلوچستان، جرائد ایڈیٹر کونسل اور اخبار فروش یونین نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف نے انسپکٹر جنرل پولیس کو ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ جس سیاسی جماعت کا نام لیا گیا ہے اس جماعت کے ترجمان نے واقعہ کی مذمت کی ہے اور اخبار کے دفتر جا کر کہا ہے کہ یہ سب کچھ ان کی جماعت کو بدنام کرنے کی ایک سازش ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کا کوئی کارکن یا لیڈر اس میں ملوث نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||