لکھتے رہے جنوں کی حکایات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج پوری دنیا میں اخبارات اور ابلاغ عامہ کے دوسرے ذریعوں کی آزادی کا دن منایا جارہا ہے ۔ 1993 سے ہر سال یہ دن 3 مئی کو منایا جاتا ہے اس لئے کہ اس دن نمیبیا کے دارالحکومت وینڈھوئک میں یونیسکو کے تحت ایک اعلان نامہ جاری ہوا تھا جس کے تحت اخبارات کی آزادی کو بنیادی انسانی حق قرار دیتے ہوئے دنیا کے تمام ملکوں سے کہا گیا تھا اس حق کا بھی اسی طرح احترام کیا جائے جیسے دوسرے بنیادی انسانی حقوق کا کیا جاتا ہے یا کیا جانا چاہئے۔ اس اعلان نامے کو اعلان نامہ وینڈھویک بھی کہتے ہیں ۔ وینڈھوئک اعلان نامہ دراصل پریس کی آزادی سے متعلق وہ اصول اور ضابطے ہیں جو 1991 میں افریقی صحافیوں نے وضع کئے تھے ۔ اس موقع پر یونیسکو کی جانب سے کسی ایک صحافی کو جس نے پریس کی آزادی کے لئے نمایاں خدمات انجام دی ہوں گیولرمو کانو پریس فریڈم انعام بھی دیا جاتا ہے۔ یہ انعام کولمبیا کے ایک صحافی گیولرمو کانو ایسازا کی یاد میں یونیسکو نے 1997 میں جاری کیا تھا جسے 17 دسمبر 1986 کو کولمبیا کے دارالحکومت بوگاٹا میں اس کے اخبار کے دفتر کے سامنے گولی مارک ہلاک کردیا گیا تھا۔ اس دن مختلف ملکوں میں حکومت ، اخباری اور صحافی تنظیموں کی جانب سے مذاکرے اور سیمینار بھی ہوتے ہیں جن میں اخبارات کی آزادی کے تقدس کا ذکر بڑے پر شکوہ الفاظ میں کیا جاتا ہے اور ان کے احترام کی بات بھی کی جاتی ہے۔ کچھ اخبارات وغیرہ اگر کچھ اشتہارات وغیرہ کی امید ہو تو خصوصی ضمیمے بھی شائع کر دیتے ہیں۔ لیکن جن ملکوں میں پریس کی آزادی نامسائد حالات سے دوچار ہے ان میں کوئی نمایاں فرق اب تک نہیں دکھائی دیا ہے۔ باالخصوص ان ملکوں میں جہاں جمہوریت کے نام پر بھی آمریت کا ہی ددر دورہ ہے اور یہ صورتحال ترقی پزیر اور پس ماندہ ملکوں میں زیادہ شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ ان ہی ملکوں میں اخبارات کی آزادی کی ضرورت سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے، اس لئے ان ملکوں اخبارات کی ذمہ داریاں صرف خبروں کی اشاعت تک ہی محدود نہیں رہتیں بلکہ انہیں عوام کے شعور کو بھی بیدار کرنا پڑتا ہے اور انہیں ان کے شہری اور سیاسی حقوق سے بھی آگاہ بھی رکھنا پڑتا ہے۔ اس کی ایک مثال پاکستان ہے جہاں آزادی کے بعد قومی پرچم اور قومی ترانہ تو یقینی بد ل گیا لیکن برصغیر کے مسلمانوں نے جن محرومیوں کے ازالے کی خاطر اس ملک کے قیام کی جدوجہد میں حصہ لیا تھا ان سے بڑی حد تک محروم رہے اور ابتک محروم چلے آرہے ہیں۔ آپ پاکستان میں کسی حکومت کو لے لیں ، وہ فوجی ہو یا جمہوری اس نے اپنے طور پر پریس کی آزادی پر قدغن لگانے کا کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا۔ کہتے ہیں کہ آزادی کے فوراً بعد جناح صاحب سے اس وقت کے حکمرانوں نے بعض کالے قوانین کی بحالی کے لئے کہا تو انہوں نے یہ کہ کر انکار کردیا کہ میں اپنی پوری سیاسی زندگی میں ایسے قوانین کے خلاف لڑتا رہا ہوں جن سے بنیادی حقوق اور آزادیاں سلب ہوتی ہوں۔ ممکن ہے جناح صاحب نے یہ با تیں کہی ہوں اس لئے کہ بہرحال قانون داں تھے اور جمہوری قدروں میں یقین بھی رکھتے تھے۔ لیکن ان کے انتقال کے فوراً بعد ان کی جیب کے” کھوٹے سکے” لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں کود پڑے اور پھر جو آزادیوں کو مقید کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے تو وہ کسی نہ کسی شکل میں آج بھی جاری ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان ملکوں میں بالخصوص پاکستان میں عامل صحافییوں اور اخبارات میں کام کرنے والے صحافیوں نے تمام تر مشکلات کے باوجود صحافت کی آزادی اور جمہوری حقوق کا علم اپنی بساط کے مطابق ہمیشہ بلند رکھنے کی کوشش کی اور” ہرچنداس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے ” کے مصداق انہیں اپنی اس جدوجہد میں جیل کی صعوبتیں بھی جھیلنی پڑیں، بیروزگاری کا عذاب بھی سہنا پڑا اور بعضوں نے کوڑے بھی کھانے کی سعادت حاصل کی، بنیادی اصولوں پر کوئی سودے بازی نہیں کی۔ یہ بھی کمال ہے کہ فوجی حکومتوں نے تو ظاہر ہے جب ملک کا حشر نشر کرنے سے دریغ نہیں کیا تو اخبارات کی آزادی کا احترام کیا کرتے ان سے کوئی شکایت بھی فضول ہے، لیکن وہ حکومتیں بھی جو عوام کے ووٹوں سے اور بظاہر پریس کی آزادی اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے وعدے کر کے اقتدار میں آئیں انہوں نے بھی اقتدار سنبھالتے ہی سارے وعدے وعید پس پشت ڈال دیے اور اس اصول پر عمل شروع کردیا کہ ” آپ کی ہاتھ پھیلانے کی آزادی وہاں ختم ہوجاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے۔” پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ 1950 کی دوسری چھ ماہی میں قائم ہوئی تھی اور نہ صرف ابتک قائم ہے بلکہ فعال ہے اور پریس کی آزادی اور صحافیوں کی اقتصادی جدوجہد کو بڑی کامیابی سے چلارہی ہے۔ پھر یہ پاکستان کی ان تنظیموں میں سے ایک ہے جس پر اپنے آئین سے انحراف کا الزام لگانے میں اس کے مخالفین بھی دقت محسوس کریں گے۔ پھر یہ واحد تنظیم ہے جس کے اراکین کو ان کا تعلق چاہے ملک کے کسی بھی شہر ، صوبے اور زبان میں شائع ہونے والے اخبار سے ہو یہ شکایت کبھی پیدا نہیں ہوئی کہ اس کو نمائندگی سے محروم رکھا گیا یا نظر انداز کیا گیا۔ مجھے یاد آتا ہے کہ ایک بار سابق مشرقی پاکستان( حالیہ بنگلہ دیش) کے دارالحکومت ڈھاکہ میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے مندوبین کا اجلاس ہورہا تھا اور پورے پاکستان سے مندوبین ڈھاکہ پریس کلب میں موجود تھے، اس موقع پر صوبائی خود مختاری اور مشرقی پاکستان سے بے انصافیوں سے متعلق بحث پورے ملک میں جاری تھی، اتفاق سے اس موضوع پر پریس کلب میں موجود صحافیوں میں بھی گرما گرم بحث شروع ہوگئی۔ عبداللہ ملک مرحوم نے جو لاہور سے گئے ہوئے تھے ڈھاکے کے ایک سینئر صحافی جناب سراج حسین خان کو مخاطب کرکے کہا ” سراج ان سے کہو پی ایف یو جے کے آئین کو ملک کا آئین بنالیں تو نمائندگی کا جھگڑا ہی ختم ہوجائے گا۔” یہ حقیقت ہے کہ اگر ایسا ہوجاتا تو شائد پاکستان کم از کم لسانی بنیاد پر ٹوٹنے سے بچ جاتا۔ یہ تو پاکستان کا یوں ہی ذکر آگیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں صحافیوں نے جہاں کے بھی ہوں اپنی حکومتوں ، اپنے عوام اور ان طبقات کو جو ملک وقوم کے مستقبل پر اٰر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں حقیقی صورتحال سے آگاہ کرنے اور رکھنے کی کوشش کی جو ان کا فرض بھی ہےاور جب بھی کسی ملک کے طالع آزما حکمرانوں نے ان کی سنی ان سنی کردی تو انہیں پریشانیوں اور ذلتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ روئے سخن ہو کسی کی جانب تو رو سیاہ ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||