اخبارنویسوں کےحق میں قرارداد واپس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے جمعرات کے روز یکطرفہ طور پر صحافیوں کے خلاف پولیس تشدد کی تحقیقات کے بارے میں قومی اسمبلی سے منظور کردہ متفقہ قرار داد واپس لے لی ہے۔ وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر شیرافگن نے جب اچانک قرار داد واپس لینے کی تجویز پیش کی تو حزب مخالف کے اراکین نے سخت احتجاج کیا اور کہا کہ ایوان سے متفقہ طور پر منظور کردہ قرار داد حکومت یکطرفہ طور پر واپس نہیں لے سکتی۔ سپیکر نے جب حکومتی تحریک پر ووٹنگ کرائی تو حزب اختلاف کے تمام اراکین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی سے واک آؤٹ کرگئے۔ تین مئی کو دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی صحافت کی آزادی کا دن منایا گیا اور اس موقع پر جلوس نکالنے والے صحافیوں پر اسلام آباد اور لاہور میں لاٹھی چارج کیا گیا تھا۔اس موقع پر درجنوں صحافیوں کوگرفتار بھی کیا گیا تھا لیکن بعد وہ رہا ہوگئے تھے۔ صحافیوں نے پولیس تشدد کے خلاف جب پارلیمینٹ کی کوریج کا بائیکاٹ کیا تو حکومت اور حزب اختلاف نے متفقہ طور پر ایک قرار داد ایوان سے منظور کرائی تھی۔ جس میں کہا گیا تھا کہ صحافیوں پر پولیس تشدد کی تحقیقات کے لیے سپیکر ایوان کی ایک خصوصی کمیٹی بنائیں گے جو ایک ماہ کے اندر ایوان میں رپورٹ پیش کرے گی۔ اس قرار داد کی منطوری کے محض ایک دن بعد حکومت نے یہ قرار داد واپس لے لی اور ڈاکٹر شیرافگن نیازی نے کہا کہ جب صحافیوں نے اپنا بائئکاٹ ختم نہیں کیا تو اب اس کمیٹی کی بھی ضرورت نہیں اس لیے وہ قرار داد واپس لیتے ہیں۔ حکومت کے ایسے اقدام کی حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کے رہنماؤں نے شدید مذمت کی اور واک آؤٹ کے بعد پارلیمینٹ کی عمارت کے باہر دھرنا دے کر بیٹھے ہوئے صحافیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے کچھ دیر ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||