BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 May, 2005, 17:17 GMT 22:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’صحافت آج بھی قید ہے‘

News image
پابندیوں کے طور طریقے بدل گئے ہیں: ناصر زیدی
انیس سو اٹھہتر ضیاالحق مارشل لاء اپنی فسطائی فرعونی طاقت کے ساتھ ملک پر سایہ فگن تھا۔ بولنے لکھنے اور اظہار رائے کے آزادی سلب کر لی گئی تھی۔

ہر طرف ہو کا عالم تھا۔جو بولتا تھا اٹھالیا جاتا تھا فوراً سزا سنا دی جاتی۔ ’ایک سال قید دس کوڑے‘۔ اگلے لمحے سزا پر عملدرآمد ہو جاتا۔

چودہ سال کے بچے سے لیے کر اسی سال کے بوڑھے سیاسی آزادیوں، آئین کی بحالی اور پریس کی آزادی کے جابر آمرکے سامنے سینہ سپر تھے۔ ایک اندازے کے مطابق تیس ہزار سے زائد سیاسی کارکنوں، دانشوروں، صحافیوں، کسانوں، مزدوروں کو کوڑوں کی سزائیں دی گئیں۔

مسعود اللہ خان نے گرج دار آواز میں کہا ہاں تم ہمارے سامنے ہتھیار نہیں ڈالو گے تم تو جنرل اروڑہ کے سامنے ہتھیار ڈال سکتے ہو۔
ناصر زیدی

ضیاالحق کی آمریت میں سب سے پہلا وار صحافت پر اگست 1977 میں کیا گیا پاکستان ٹائمز سے خواجہ آصف، مہناج برنا اور ایچ کے برکی کو برطرف کر کے کیا۔ بعد میں کراچی، حیدرآباد ، لاہور، ملتان میں ترقی پسند صحافیوں کو برطرف کیا گیا۔

جب آوازِ خالق خاموش نہ ہو سکی تو سندھ اور پنجاب میں اخبارات اور جرائد کو بند کر دیا گیا۔ سینکڑوں صحافی برطرف کر دیئے گئے۔ اخبارات پر سنسر شپ نافذ کر دی گئی۔ یہاں تک قرآن کی آیات کی بھی سنسر کیا جانے لگا۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے پابندیوں کے خلاف تحریک کا آغاز کیا۔ لاہور تحریک کا مرکز بنا۔مسلسل 60 روز تک گرفتاریاں دی گئیں۔ اپریل اور مئی کے وسط تک دو سو سے زائد صحافی گرفتار ہوئے۔ تحریک میں شدت اور عوام کی بھرپور شرکت سے حکومت کے ایوان لرز اٹھے۔ جنرل مجیب الرحمان سیکریٹری اطلاعات تھے۔ سائیکالوجی آف وارفیئر کے ماہر جنرل صاحب نے فیصلہ کیا کہ تحریک کی شدت میں کمی لانے کے لیے سخت سزا دی جائے۔ سفید پوش قلمکار شاید یہ سزا برداشت نہ کر سکیں

News image
آزادی صحافت کے لیے مظاہروں پر آج بھی پابندی ہے
۔

تیرہ مئی کا دن، لاہور کی گرمی اپنے جوبن پر تھی۔ ہمیں کیمپ جیل سے سینئر صحافیوں کے ہمراہ سمری ملڑی کورٹ لے جایا گیا۔ اسلم شیخ، سلیم عاصمی، علی احمد خان، نثار عثمانی اور تیس صحافیوں کو گروپ زنجیرؤں میں جکڑا دھوپ میں گھنٹوں عدالت میں سماعت شروع ہونے کا انتظار کرتا رہا۔ آخر چار چار کے گروپ میں سماعت شروع ہوئی اور دس پندرہ منٹ کے اندر فیصلے سنائے جانے لگے۔ نو ماہ قید بامشقتت، ایک سال قید بامشقت۔ جس کو نوماہ سزا ہوتی تھی وہ ایک سال سزا والے کو رشک سے دیکھتا تھا۔ ’یار تم تو ہم سے آگے نکل گئے۔‘

ہماری باری آئی۔میں خاور نعیم ہاشمی مسعود اللہ خان اور اقبال جعفری، ہمیں عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ ہم سب کو ہتکھڑیاں لگی ہوئی تھیں۔ جیسے ہی ہم اندر داخل ہوئے ایک موٹا سا میجر فوراً کھڑا ہو گیا۔ دوسرے فوجی نے قرآن آگے کیا۔ میجر قرآن پر ہاتھ رکھ کر بولتا ہے ’میں خدا کو حاضر ۔۔۔۔‘ ابھی وہ اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ خاور نعیم ہاشمی کی نحیف سی آواز آئی ’ٹھہریے! یہ تماشا کرنے کی کیا ضرورت ہے تم نے سزا دینی ہے دے دو۔‘

’عدالت‘ کو غصہ آ گیا اُسے یہ بات ناگوار گزری فوراً ن چیخ کر بولا ’تم سمجھتے ہو ہم تم صحافیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دے گا ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔‘

News image
آزادی صحافت اور اپنے جائز معاشی حقوق کے لیے اٹھائی جانے والی آوازوں کو دبا دیا جاتا ہے

ہم میں سے ایک گرجدار آواز گونجی ’ہاں تم ہمارے سامنے ہتھیار نہیں ڈالو گے تم تو جنرل ارورہ کے سامنے ہتھیار ڈال سکتے ہو۔‘ میں نے مڑ کے دیکھا یہ ہمارے سینئر دوست مسعود اللہ خان کی آواز تھی۔ عدالت برخاست کر دی گئی۔ پانچ منٹ بعد پیشی کے لیے آواز پڑی، اندر گئے میجر صاحب فیصلہ سنانے لگے۔ ’مسعود اللہ خان پانچ کوڑے، نو ماہ قید بامشقت، ناصر زیدی پانچ کوڑے، نو ماہ قید بامشقت، خاور نعیم ہاشمی، چار کوڑے چھ ماہ قید بامشقت، اقبال جعفری تین کوڑے نو ماہ قید بامشقت، فیصلہ سنانے کے بعد عدالت برخاست کر دی گئی۔

ہم باہر آئے تمام ساتھی انتظار میں تھے۔ ہم نے پرجوش انداز میں ساتھیوں سے یک زبان ہو کر کہا ہمیں کوڑے بھی پڑیں گے۔

News image
حال ہی میں اسلام آباد میں آزادیِ صحافت کے عالمی دن کے موقعہ پر 35 صحافیوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا

جب کورٹ سے ہمیں جیل لے جا رہے تھے تو ہمارے علاوہ گروپ کے تمام ساتھیوں کو کیمپ جیل اتار دیا گیا اور ہمیں کوٹ لکھپت جیل لے جایا گیا۔ روٹین کی کارروائی سے فارغ ہو کر جیسے ہی جیل کی ڈھوڑی میں داخل ہوئے سامنے پہلوان نما انسان لنگوٹ کسے، کوڑے لہرا رہا تھا اور جیل کے قیدی گھیرے کی شکل ٹکٹکی کے چاروں طرف بیٹھے تھے۔ ایک کپتان سزا پر عملدرآمد کے لیے وہاں موجود تھا۔ مسعود اللہ خان معذور تھے لیکن اصرار کرتے رہے ’یار منوں وی کوڑے مارو نا۔‘ لیکن ڈاکٹر نے کہا کہ انہیں کوڑے مارنا ’رسکی‘ ہو گا۔

ہم باری باری ٹکٹکی پر باندھے گئے، اس طرح کہ بالکل برہنہ تھے اور ہماری پشت کے نیچے پنسل سے نشان لگا کر ایک کے بعدایک کوڑا مارتے رہے۔ زخم بنتے گئے۔ ہم سوچتے رہے کیا یہی وہ آزادی تھی جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے جدوجہد کی؟ ہمارا خواب ٹوٹ گیا۔

آزادی کا سفر جاری رہا۔ پریس پر پڑی زنجیروں کے خلاف جدوجہد کا سفر آج بھی جاری ہے۔ نثار عثمانی مرحوم نے لاہور میں ضیاالحق کی پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا ’جنرل صاحب سن لیجیے ! آپ پھانسی پر لٹکا سکتے ہیں لیکن آنے والی نسلیں ہمارا علم بلند رکھیں گی لیکن تمارا نام و نشان بھی نہ ہوگا۔‘

آج بھی پریس پر پابندیاں ہیں۔ لیکن کیونکہ دنیا بدل گئی اس لیے پابندیوں کے طور طریقے بدل گئے ہیں۔ اخبارات پہلے ’نظر آنے والی ایڈوائس‘ پر عمل کرتے تھے اب ’نظر نہ آنے والی‘ پابندیوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ قلم کار اپنے جائز حقوق، ویج ایوارڈ کے لیے آواز حق بلند کئِے ہوئے ہیں۔ ناپسندیدہ ایڈیٹر مالکان پر دباؤ ڈال نکلوا دیے جاتے ہیں۔

News image
سرکاری اہلکار بڑی ڈھٹائی سے آزادیِ صحافت کے دعوے کرتے ہیں

صحافیوں کی تحقیقاتی رپورٹنگ پر قانون کی گرفت مضبوط ہے، جلسہ عام میں مرد آہن صحافیوں کو دھمکیاں دیتا ہے تند و تیز لکھنے والوں پر اپنے ہی اخبار میں لکھنے کی پابندی ہے۔ پریس کے کالے قوانین اپنی بھیانک شکل میں موجود ہیں۔ ہتک عزت کا قانون ( Defemation Law ) آزادیِ اظہار پر نئی تلوار ہے۔ کچھ نہیں بدلا۔ صحافت کل بھی قید تھی، آج بھی قید ہے۔ آج بھی صحافی آزادیِ صحافت کے لیے سینہ سپر ہیں۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد