اخبارمالکان کی درخواست مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سپریم کورٹ نےاخبارات کے مالکان کی تنظیم اے پی این ایس کی جانب سے ساتویں ویج ایوارڈ کی روشنی میں صحافیوں کی تنخواہوں میں اضافے کے خلاف دائر کی گئی نظر ثانی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ نےجس کی سربراہی جسٹس افتخار چوہدری کر رہے تھے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے ان درخواستوں پر اثر نہیں پڑے گا جو دوسری عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ اکتوبر دوہزار ایک میں ساتویں ویج ایوارڈ کا نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا اور اس وقت سے اخباری مالکان اور ملازمین کے درمیان یہ تنازعہ چل رہا ہے۔ پاکستان میں صحافیوں کی تنخواہیں ویج ایوارڈ کے تحت بڑھتی ہیں لیکن اخبارات کے مالکان اس ایوارڈ پر عملدرامدنہیں کرتے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ایوارڈ پر عملدرامد سے ان کو شدید مالی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔ تاہم صحافیوں کا کہنا ہے کہ اخبارات کو اشتہارات کے ضمن میں اتنا فائدہ ہوتا ہے کہ اگر وہ اس ایوارڈ سے دوگنا تنخواہ بھی بڑھا دیں تو ان کو پھر بھی فائدہ ہو گا۔ پاکستان میں خصوصا اردو اخبارات میں صحافیوں کی تنخواہیں انگریزی اخبارات کے مقابلے میں کم ہیں۔ پاکستان فیڈریشن آف یونین آف جرنلسٹس کے صدر پرویز شوکت نے اس فیصلے پر کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے صحافیوں کے حق میں فیصلہ دے کر ان کو انصاف مہیا کیا ہے۔ ادھر صحافیوں نے منگل کو یوم آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر صحافیوں پر پولیس کے لاٹھی چارج اور تیس سے زائد صحافیوں کی گرفتاری کے خلاف پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دوسرے دن بھی دھرنا دیا اور قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ صحافی آج اس واقعہ کے خلاف یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||