اخبار مالکان: ملازمین کا مظاہرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی اخبارات اور خبر رساں ایجنسیوں کے ملازمین نے اپنے بچوں کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے اخباری مالکان کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین ساتویں اجرت ایوارڈ کے مطابق تنخواہیں دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس مظاہرے کا اہتمام پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، پی ایف یو جے نے کیا تھا۔ مظاہرین نے اس موقعہ پر اخباری مالکان کے خلاف جبکہ صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیر اطلاعات شیخ رشید کے حق میں نعرے بھی لگائے۔ اخباری کارکنان نے صدر مشرف سے مطالبہ کیا کہ وہ مالکان کی ان کے بقول بلیک میلنگ میں نہ آئیں اور ویج ایوارڈ پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔ گزشتہ کچھ دنوں سے اخباری مالکان اور ملازمین میں ’ویج ایوارڈ‘ یعنی اجرتوں کے تعین کا تنازعہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ جب سے قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں نے متفقہ طور پر قراردادیں منظور کی ہیں کہ صرف اور صرف سرکاری اشتہارات ان اخبارات کو جاری کیے جائیں جو ساتویں اجرت ایوارڈ پر عمل کریں، اخباری مالکان نے اشتہارات شائع کرنا شروع کیے ہیں جس میں صدر مشرف سے مداخلت پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس معاملے پر اطلاعات کے وزیر شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ ویج ایوارڈ کے مطابق اخباری ملازمین کو تنخواہیں ملنا ان کا حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس معاملے سے صدر اور وزیراعظم کو آگاہ کر رکھا ہے اور کابینہ کے آئندہ اجلاس میں قومی اسمبلی سے حکومت اور حزب اختلاف کی متفقہ طور پر منظور کردہ قرارداد پر غور ہوگا اور فیصلے سے ایوان کو آگاہ کردیا جائے گا۔ اخباری مالکان کی تنظیم اے پی این ایس کی ویج ایوارڈ کمیٹی کے چیئرمین حمید ہارون سے جب پوچھا گیا کہ ماضی میں ویج ایوارڈ پر وہ عمل کرتے رہے ہیں لیکن اس مرتبہ ساتویں ویج ایوارڈ پر عمل کرنے سے انکار کیوں کر رہے ہیں؟ جب ان سے پوچھا گیا کہ مالکان کاموقف تو اشتہارات کی صورت میں شایع کیا جا رہا ہے لیکن ملازمین کا موقف شایع نہ کرنا کیا آزادی صحافت پر قدغن کے مترادف نہیں ہے؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ مالکان خبریں شائع نہیں کر رہے بلکہ اشتہارات دے رہے ہیں اور اخباری کارکنان بھی اشتہارات دیں تو وہ شایع کرنے کے لئے تیار ہیں۔ پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل سی آر شمسی کا کہنا تھا کہ ماضی میں جتنے بھی ایوارڈ آئے ہیں ان پر عمل درآمد صرف چار پانچ بڑے اخبارات ہی کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ساتویں ویج ایوارڈ پر صرف سرکاری خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان ہی عمل کر رہی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ساتویں ویج ایوارڈ پر عمل کرنے سے ملازمین کے سالانہ اضافی اخراجات اتنے ہوں گے جتنے صرف ایک ماہ میں ان اخبارات کو اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدن کا محض دس فیصد بھی نہیں بنتا۔ انہوں نے بتایا کہ اخباری مالکان نے ساتویں ویج ایوارڈ کے خلاف سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا اور وکلاء کو پچاس لاکھ سے زائد فیس بھی ادا کی لیکن سپریم کورٹ نے ان کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیا تھا۔ واضح رہے کہ سن انیس سو تہّتر میں پارلیمنٹ سے منظور کردہ قانون ’نیوز پیپرز ایمپلائیز( کنڈیشنزآف سروس) ایکٹ‘ کے مطابق ہر پانچ سال کے لئے پرنٹ میڈیا یعنی اخبارات، خبر رساں ایجنسیز اور جرائد میں کام کرنے والے ملازمین کی اجرتوں کا تعین ہوتا ہے۔ اجرت کے تعین کے لئے حکومت سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں بورڈ قائم کرتی ہے جس میں اخباری مالکان اور ملازمین کے مساوی نمائندے شامل ہوتے ہیں اور بورڈ کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔ یہ بورڈ ملک کے مختلف شہروں میں کھلی سماعت کرتا ہے اور فریقین کا موقف سننے کے ساتھ شہادتیں قلم بند کرکے پانچ برسوں میں مہنگائی کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے کم سے کم اجرتوں کا تعین کرتا ہے۔ گزشتہ اکتیس برسوں میں اب تک سات ویج ایوارڈ دیئے جا چکے ہیں۔ پہلے تو بڑے اخبارات کے مالکان ان پر عمل کیا کرتے تھے لیکن پانچویں ایوارڈ آنے کے بعد سے اخباری مالکان نے اعتراضات اٹھانا شروع کیے ہیں کہ غیر صحافیوں یعنی نائب قاصد، ڈرائیور، کلرک اور دیگر ملازمین کو ویج ایوارڈ سے علیحدہ کیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||