صحافیوں کا احتجاج ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں صحافیوں نے تین مئی کو ’یوم آزادی صحافت، دن پر نکالے گئے اپنے جلوس پر پولیس تشدد کے خلاف اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔ اسمبلی کا کورم ٹوٹنے پر جب ڈپٹی سپیکر نے اجلاس پیر تک ملتوی کیا گیا تو حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اپنے رفقاء کے ہمراہ پارلیمان کے باہر دھرنا دے کر بیٹھے ہوئے صحافیوں سے بات چیت کی اور ان کی یقین دہانی کے بعد صحافیوں نے بائیکاٹ ختم کردیا۔ صحافیوں کی تنظیم کے نمائندوں کو چودھری شجاعت حسین نے یقین دلایا کہ وہ پولیس تشدد کی مکمل تحقیقات کرائیں گے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہوگی۔ انہوں نے تین مئی کے جلوس کے موقع پر بعض فوٹوگرافرز کے کیمرے توڑنے اور چھیننے کے بارے میں کہا کہ حکومت اس کا معاوضہ ادا کرے گی۔ ادھر پاکستان کی قومی اسمبلی کا جمعہ کے روزحکومت کورم برقرار نہ رکھنے کی وجہ سے ڈیپٹی سپیکر نے اجلاس بغیر کسی کارروائی کے پیر کی شام تک ملتوی کردیا۔ جمعہ کو جب اجلاس شروع ہوا تو مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے سرکردہ رہنما حافظ حسین احمد نے کورم کی نشاندہی کی اور کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ڈپٹی سپیکر نے کارروائی کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی۔ ڈپٹی سپیکر نے جب دوبارہ اسمبلی کی کارروائی شروع کرنا چاہی تو حافظ حسین احمد نے دوبارہ کورم کی نشاندہی کی۔ جس پر ڈپٹی سپیکر سردار یعقوب کی ان سے گرما گرمی ہوئی لیکن انہوں نے بغیر ایجنڈے کو نبٹائے اجلاس پیر کی شام تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ واضح رہے کہ موجودہ اسمبلی میں حکومت کو اکثریت حاصل ہونے کے باوجود بھی کورم کا مسئلہ آئے دن پیدا ہوتا ہے۔ حزب اختلاف کا دعویٰ ہے کہ ماضی کی اسمبلیوں کی نسبت سب سے زیادہ بار کورم اس اسمبلی کے ڈھائی سالہ دور میں ٹوٹے ہیں جس سے ان کے بقول حکمران اتحاد میں اندرونی اختلافات کی عکاسی ہوتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||