BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 August, 2005, 17:15 GMT 22:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی میں آزادی صحافت ریلی

کراچی
کراچی میں صحافیوں اور آزادی صحافت کی حامی دوسری تنظیموں نے مزارِ قائد پر دھرنا دیا
پاکستان کے یوم آزادی سے چاردن قبل کراچی میں صحافیوں نے مزار قائد اعظم تک آزادی صحافت ریلی نکالی ہے۔

منگل کی دوپہر کو پریس کلب سے یہ ریلی نکالی گئی جس کی قیادت پاکستان میں صحافیوں کی تنظیم کے رہنما پرویز شوکت ۔ مظہر عباس۔ کراچی پریس کلب کی صدر صبیح الدین غوثی اور نجیب احمد کر رہے تھے۔

ریلی میں انسانی حقوق اور ٹریڈیونین تنظیموں کے کارکن بھی شامل تھے۔جو نعرے لگاتے ہوئے ریگل چوک پہنچےجہاں سے مارچ کرتے ہوئے شہر کی مصروف ترین سڑک ایم اے جناح روڈ سے ہوتے ہوئے پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی مزار کے باہر پہنچے جہاں دہرنا دیا گیا۔

بلدیاتی انتخابات کی وجہ سے جب شہر میں مجمع اور جلوس پر پابندی عائد کی گئی ہے صحافی صدر پرویز مشرف۔فوجی حکومت اور سندھ حکومت کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔

کراچی میں صحافی رشید چنا، عبدالطیف ابو شامل، محمد طاہر، علی الطاف اور زاہد خٹک کی گرفتاری اور پولیس چھاپوں کے خلاف یہ ریلی نکالی گئی تھی۔شہر میں ایک بڑے عرصے کے بعد صحافیوں نے بھرپور طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔

ریلی سے قبل اور بعد پرویز شوکت، مظہر عباس، صدر صبیح الدین غوثی، نجیب احمد، رشید چنا اور محمد ساجد نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہم آزادی صحافت عام لوگوں کے لیے چاہتے ہیں۔ اس آزادی پر پابندی سے عوام کا گلہ گھونٹ دیا جائیگا مگر ہم ان تمام کوششوں کو ناکام کردینگے۔

ریلی کی شرکاء
ریلی میں صحافیوں کے ساتھ انسانی حقوق اور ٹریڈیونین تنظیموں کے کارکن بھی شامل تھے

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں بڑے عرصے سے صحافیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اس سے قبل صدر پرویز مشرف سے سوال کرنے پر صحافی فراز ہاشمی پر تشدد کیا گیا۔معروف صحافی شاہین صہبائی کے خلاف جھوٹے مقدمے درج کیے گئے۔

صحافی رہنماؤں نے کنٹریکٹ اور اریگولر ملازمت پر بھی شدید تنقید کی انہوں نے کہا کہ جب ملازمین کو ریگولر کیا جائیگا تبھی صحافی آزادی صحافت کے لیے لڑسکتے ہیں۔

انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ ہم اب صدر اور وزیر اعظم کی کسی کمیٹی سے ملاقات نہیں کرینگے۔ ہماری تحریک صحافتی اور معاشی آزادی تک جاری رہیگی۔اس تحریک کے لیے ہم گرفتاریاں دینگے۔ پارلیمینٹ کا گھیراؤ کرینگے۔ حکومت کو ویج بورڈ پر عملدرآمد کروانا پڑیگا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی پریس کلب نے پہلے ضیاالحق کو للکارہ تھا۔جس کے بعد سیاسی جماعتوں کی تحریک شروع ہوئی تھی۔ اب صدرمشرف کے خلاف جدوجہد کی جائیگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد