BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 November, 2003, 11:21 GMT 16:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان صحافت: ایک باب ختم

اے بی ایس
اے بی ایس کی بہت کم تصاویر محفوظ ہیں کیونکہ وہ تصویر کھنچوانے سے گریز کرتے تھے

اے۔بی۔ایس جعفری سترہ نومبر کی علی الصبح وفات پاگئے۔

جب میں لندن سےکراچی ایئرپورٹ پر اُتری تو چھوٹے بھائی کا تھکن سے چوُر چہرہ دیکھ کر ہی بھانپ تو گئی کہ بڑے تاؤ شاید اب ہم میں نہیں رہے۔ مگر پھر بھی میں از خود یہ تسلیم نہیں کرنا چاہتی تھی، اُس نے بھی زیادہ وقت نہیں لیا، چند قدم چل کر اُس نے میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بڑے متحمل لہجے میں کہا: ’عروج آپا بڑے تاؤ آج صبح تین بجے انتقال کرگئے۔‘

اُس کے بعد۔۔۔اس کے بعد میں کئی لمحے میں سکتے میں رہی اور پھر آنسو بہنا شروع ہوئے اور بہتے چلے گئے۔

میں نے سوچا کہ جانے والے تو چلے گئے، اُن سے متعلق یادوں اور اُن کی صحافیانہ جدوجہد کو آگے بڑھانے کیلئے مجھے کیا کرنا ہے۔ اور یہ مضمون اُس کی ایک کڑی ہے۔

بڑے تاؤ زیادہ عرصے اسلام آْباد میں رہے، جہاں اُنہوں نے پاکستان ٹائمز کی ادارت کی۔ ہم کراچی میں رہتے تھے، جب کبھی وہ آتے ہمارے گھر میں اُن کا انتظار و اہتمام ہوا کرتا۔

اُن کی شخصیت میں اپنے چھوٹوں کیلئے بڑی محبت تھی اور چھوٹے اُن کے لیے سراپا عقیدت۔ انہوں نے کبھی اپنے چھوٹوں سے اُستادوں والا رویہ نہیں رکھا، مگر ہمیشہ ہماری یہی کوشش رہتی کہ تایا کی شخصیت کے ہر پہلو سے کچھ اخذ کرسکیں۔

پھر جنرل ضیاء کے دور میں وہ جلاوطن ہوکر کویت چلے گئے اور دس سال کویت ٹائمز کی ادارت سنبھالی۔ اس دوران ملک یعنی پاکستان سے اُن کا تعلق بحیثیت صحافی اوربڑے بھائی کے برقرار رہا۔

جلاوطنی
جنرل ضیاء کے دور میں وہ جلاوطن ہوکر کویت چلے گئے اور دس سال کویت ٹائمز کی ادارت سنبھالی

کبھی کویت ٹائمز اخبار کی شکل میں کبھی پوسٹ کارڈز کی صورت میں، پاکستان کے سیاسی اُتار چڑھاؤ سے لے کر سڑکوں پر ہونے والے ٹریفک وتیز رفتاری کے حادثات سبھی اُن کے اداریوں میں شامل تھے۔

ضیاء دور ختم ہوا جعفری صاحب کراچی لوٹے جہاں اُن کے ساتھیوں کیلئے، وہیں اُن کے بھائی بہنوں کیلئے یہ ایک اہم لمحہ تھا۔

ایک بار پھر اسلام آباد کا رُخ کیا۔ مختلف ادوارمیں کئی اخبارات کی ادارت کی اور کتابوں کی تصنیف وتالیف کا سلسلہ ایک بار پھر چل نکلا، چاہے وہ بینظیر بھٹو اور اسحاق خان کے درمیان چپقلش پر لکھی گئی The witch doctor ہو یا مہاجر قومی موومنٹ کے زوال کے دنوں پرمحیط ’شہر آرزو‘۔

اُنیس سوپچانوے میں وہ کراچی چلے آئے۔اُن کی شخصیت بڑی پُرسکون اور خاموش تھی کراچی کے گلشن اقبال میں قائم رہائش میں اُن کا زیادہ تروقت اپنی اسٹڈی میں گزرتا یا پھر اسی شہر کے پریس کلب میں۔

غالب کے بڑے مداحوں میں سے ایک تھے۔ اُن کی اسٹڈی ٹیبل پر بھی غالب کا یہ شعر فریم ہوا رکھا رہتا:

مثال یہ میری کوشش کی ہے کہ مرغِ اسیر

کرے چمن میں فراہم خس آشیاں کے لئے

بذلہ سنجی بھی اُن کی شخصیت کا حصہ تھی بڑی بھرپور مسکراہٹ ہوا کرتی تھی۔اُن کےگلے کے سرطان کے باعث آواز سرگوشیوں میں تبدیل ہوکر رہ گئی تھی مگر اُس کا دبدبہ باقی تھی۔

’جناح بٹریڈ‘ ان کی پاکستان کے بارے میں ایک عمدہ تالیف ہے

خوش لباس و خوشگوار شخصیت والے بڑے تایا پاکستان کے اس قدآور صحافی اے۔بی۔ایس جعفری کے بارے میں مکمل طور پر کچھ ایسا لکھ پانا جو ان کا کسی حد تک بھی احاطہ کر سکے، میرے بس میں نہیں۔ صرف اتنا ہے کہ کراچی پریس کلب میں اُن سے آخری ملاقات اُنتیس مارچ کو ہوئی تھی، ہم نے کلب کی پہلی منزل پر بیٹھ کر مچھلی کھائی تھی۔ اس دوران سنجیدہ وغیر سنجیدہ باتوں کا سلسلہ جاری تھا۔

اور پھر لندن سے فون پرآخری بات نومبر کے اوائل میں ہوئی تھی جب وہ آغا خان ہسپتال میں داخل تھے اور مجھ سے کہہ رہے تھے ’جی مس جعفری صحت سے متعلق آپکی نصیحتوں پر عمل ضرورہوگا۔‘

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد