BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 September, 2005, 10:41 GMT 15:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریڈیو پاکستان، عملے کی ہڑتال

مظاہرین معاوضے میں اضافے کا بھی مطالبہ کررہے تھے
ریڈیو پاکستان حیدرآباد کے نیوز کاسٹر، آرٹسٹ، اناؤنسراور دیگر عملے نے احتجاجاً پروگراموں کا بائیکاٹ کردیا ہے اور ہڑتال پر چلےگئے ہیں۔

ملازمین سٹیشن ڈائریکٹر کے مبینہ ناروا رویے اور عملے کے ساتھ مبینہ توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے کےخلاف دو دن سے احتجاج کر رہے ہیں۔

عارضی بنیادوں پر ڈیوٹی دینے والے نیوز کاسٹرز، آرٹسٹ، اناؤنسرز، کمپیئرزاور دیگر عملے نے جمعہ کے روز ریڈیو اسٹیشن سے پریس کلب تک جلوس نکالا اور پریس کلب کے سامنے ایک گھنٹے تک دھرنا دیا۔ چالیس سے زائد ریڈیو فنکاروں اور براڈ کاسٹرز نے جن میں ایک درجن خواتین براڈکاسٹرز بھی شامل تھیں اس احتجاج میں حصہ لیا۔

جلوس کی قیادت سینئر براڈکاسٹر سید صالح محمد شاہ اور معروف فنکار قادر بخش مٹھو کر رہے تھے۔ مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں بینر اور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے اور ریڈیو انتظامیہ اور اسٹیشن ڈائریکٹر کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ مظاہرین معاوضے میں اضافے کا بھی مطالبہ کررہے تھے۔ اس موقع پر سازندوں نے ساز بجا کر اور فنکاروں نے سروں میں گا کر احتجاج کیا۔

جمعرات کو شام شاڑھے سات بجے ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے نشر ہونے والی سندھی میں مقامی خبریں پروگرام منیجر اور اردو خبریں اسسٹنٹ نیوز ایڈیٹر نے پڑھیں۔ گزشتہ دو روز سے بعض پروگرام کمپیئرز کے بجائے خود پروڈیوسرز کو کرنے پڑے اور بعض مقبول سلسلے نشر نہ ہو سکے۔موسیقی کے شعبے میں بھی سازندوں کی ہڑتال کے باعث موسیقی کا کوئی پروگرام ریکارڈ نہ ہو سکا۔

ماحول سے پریشان ہو کر سات پروڈیوسرز نے اجتماعی درخواست کے ذریعے پندرہ پندرہ دن کی چھٹی کی درخواست دے دی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اس صورتحال میں کام نہیں کر سکتے۔

بعض سینئر کمپیئرز نے الزام عائد کیا کہ اسٹیشن ڈائریکٹر نے کمپیئرز اور آرٹسٹوں کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کیے اور کام کرنے والے بعض لوگوں کی بے عزتی کی جس کے بعد معاملہ بھڑک اٹھا۔

بعض ملازمین کا کہنا ہے اسٹیشن ڈائریکٹر موسیقی کے پروگرام بند کرنا اور اسٹیشن میں خواتین کا داخلہ بند کرنا چاہتے ہیں۔

دو خواتین کمپیئرز سمیرا مختیار اور فرزانہ عباسی نے شکایت کی کہ اسٹیشن ڈائریکٹر کا رویہ درست نہیں ہے۔ ان کی موجودگی میں پروگرام نہیں کئے جا سکتے۔ ریڈیو کی براڈکاسٹر سمرین فاروقی کا کہنا ہے کہ نئے سٹیشن ڈائریکٹر نئے اور ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں۔ان کے رویہ کی وجہ سے ریڈیو نئے چیلنجوں کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔

ریڈیو پاکستان کے سٹیشن ڈائریکٹر فخرالدین بلوچ نے کہا ہے کہ مقامی ریڈیو اسٹیشن پر ایک ٹولہ قابض ہے۔ سابق سٹیشن ڈائریکٹر نے عملے سے ڈر کر معاہدہ کر لیا تھا اور عملے کوانتظامی اور مالی حوالے سے ڈھیل دے دی تھی۔ لیکن جب میں نے سختی کی تو احتجاج کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ یہ سب کچھ ان کے تبادلے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ اور انہیں مارنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد