میڈیا بِل: ثالثی کمیٹی کے پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی نے جمعرات کو’الیکٹرانک میڈیا‘ پر پابندیوں کے بارے میں متنازعہ بل ایوان بالا سینیٹ سے منظور نہ ہونے کی بنا پر پارلیمان کی ثالثی کمیٹی کو بھیجنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ بل قومی اسمبلی سے عجلت میں گزشتہ سال اکتوبر میں منظور کرایا گیا تھا لیکن حکومت ایوان بالا (سینیٹ) میں اکثریت کے باوجود یہ بل منظور نہیں کرا پائی اور اب مجبور ہوکر ثالثی کمیٹی کے سپرد کیا ہے۔ اس ترمیمی بل کا مقصد بظاہر تو حکومت نے یہ بتایا تھا کہ اس کی منظوری سے اخباری مالکان کو بھی ٹی وی چینل اور ریڈیو وغیرہ کے لائسنس جاری کیے جاسکیں گے۔ لیکن اس بل میں شامل دیگر کئی شقوں کے بارے میں انسانی حقوق اور صحافیوں کی تنظیموں نے کہا تھا کہ وہ میڈیا کی آزادی صلب کرنے کے برابر ہیں۔ ان تنظیموں کے مطابق ’پیمرا آرڈیننس ‘میں ترمیم کے اس بل میں ایک شق یہ بھی تھی کہ حکومت اور پولیس کسی بھی ٹی وی یا ریڈیو چینل کے دفتر پر غیر قانونی نشریات کے شبہے میں بنا نوٹس دیے چھاپہ مارکر آلات ضبط کرسکتی ہے اور براڈ کاسٹر کو گرفتار بھی کرسکتی ہے۔ ان تنظیموں نے بل کی منظوری سے قبل انہیں اعتماد میں لینے اور ان کے خدشات دور کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ لیکن حکومت نے ان کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے جلد بازی میں قومی اسمبلی سے یہ بل منظور کراکے سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا تھا۔
صحافیوں اور میڈیا کے متعلق تنظیموں نے اس پر نہ صرف احتجاج کیا تھا بلکہ ایک سو اراکین پر مشتمل سینیٹ میں سے حکومت اور حزب اختلاف کے اسی اراکین سے ایک قرار داد پر دستخط بھی کروائے تھے۔ اس قرار داد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ یہ بل منظور ہونے سے قبل متعلقہ فریقین کے خدشات دور کیے جائیں۔ اس قرار داد پر وزیر مملکت برائے اطلاعات انیسہ زیب طاہر خیلی سمیت دیگر وزراء اور کئی حکومت کے حامی سینیٹرز نے بھی دستخط کیے تھے اور ایسی صورتحال کے بعد حکومت نے بل منظوری کے لیے پیش ہی نہیں کیا۔ حکومت مقررہ نوے دن کی مدت ختم ہونے کا انتظار کرتی رہی اور اب اس بل کو ثالثی کمیٹی کے سپرد کیا ہے۔
واضح رہے کہ ثالثی کمیٹی صدر جنرل پرویز مشرف کے متعارف کردہ آئینی اصلاحات کے تحت وجود میں آئی تھی۔ آئین کے تحت جب سینیٹ یا قومی اسمبلی میں سے کوئی بھی ایوان اگر کوئی بل منظور کرے اور دوسرا ایوان نوے دن تک وہ بل منظور نہ کرے تو جس ایوان نے وہ بل منظور کیا تھا وہ ایوان متعلقہ بل ثالثی کمیٹی کو بھیجے گا۔ قانون کے مطابق جب ثالثی کمیٹی کو کوئی بل بھیجا جائے گا تو پندرہ روز کے اندر کمیٹی قائم ہوگی جس میں دونوں ایوانوں کے آٹھ آٹھ اراکین ہوں گے۔ جس ایوان نے بل منظور کیا تھا اس کا چیئرمین یا سپیکر اپنے ایوان کے کسی رکن کو چیئرمین اور متعلقہ بل منظور نہ کرنے والے ایوان سے نائب چیئرمین نامزد ہوگا۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں کالے دھن کو سفید کرنے پر پابندیوں کے بارے میں ایک بل بھی پیش کیا گیا جبکہ سمندری مطالعے کے بارے میں قومی ادارے کے قیام اور پانی کے وسائل کے متعلق تحقیق کرنے والی کونسل کے قیام کے بل بھی منظور کیے گئے۔ قومی اسمبلی میں ایک موقع پر حزب اختلاف کے اراکین کو جب بلدیاتی انتخابات میں ریاستی مشینری کے مبینہ استعمال کے متعلق سپیکر نے بات کرنے کی اجازت نہیں دی تو انہوں نے علامتی واک آؤٹ بھی کیا۔ قومی اسمبلی کا اجلاس اب غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||