اسلام آباد میں میڈیا سٹی کا فیصلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت نے جدید ترین تقاضوں کے مطابق اسلام آباد میں میڈیا سٹی تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس میں الیکٹرانک میڈیا کے لیے ’اپ لنکنگ‘ اور ’ڈاؤن لنکنگ‘ کے علاوہ ڈی ٹی ایچ سمیت تمام تر سہولیات ایک چھت تلے فراہم کی جائیں گی۔ یہ بات وزیراطلاعات شیخ رشید احمد نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے بتائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی صدارت میں جمعہ کو ایک اجلاس بھی منعقد ہوا اور’نیسپاک‘ کو فزیبلٹی تیار کرنے کے لیے کہاگیا ہے۔ وزیر کے مطابق بلیو ایریا میں امریکن سینٹر اور اس سے ملحقہ پلاٹ پر بیس منزلہ عمارت تعمیر کی جائے گی جس میں دفاتر اور سٹوڈیوز وغیر بھی ہوں گے جو میڈیا کمپنیوں کو کرائے پر دیے جائیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکن سینٹر کی لیز کی مدت پوری ہورہی ہے جس کے بعد حکومت لیز کی توسیع نہیں کرے گی اور ان کی عمارت منہدم کر کے اس سے ملحقہ پلاٹ کو ملا کر نئی عمارت تعمیر کی جائے گی۔ شیخ رشید احمد نے بتایا کہ اس سلسلے میں امریکہ، جاپان، دبئی، جرمنی، روس، برطانیہ اور ملائیشیا سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں قائم میڈیا سینٹرز کی تفصیلی معلومات حاصل کی جائیں گی اور پاکستان کے مجوزہ میڈیا سٹی کو جدید سے جدید تر بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا میڈیا سٹی کے لیے متعدد مراعات دی جائیں گی جس میں ابتدائی دس برس تک کارپوریٹ ٹیکس کی چھوٹ بھی شامل ہے۔ وزیراطلاعات نے بتایا کہ وزارت اطلاعات اور سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن میڈیا سٹی پروجیکٹ کے لیے مشترکہ طور رپ سرمایہ کاری کریں گے۔ ان کے مطابق وزارت کے ماتحت مختلف کارپوریشنز بشمول پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان کے بھی شیئرز ہوں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کی صنعت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور آئندہ سال کے آخر تک ٹی وی چینلز کی تعداد چالیس تک پہنچ جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||