روشن خیالی کا تاریک مستقبل؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعرات کو شروع ہونے والا مقامی انتخابات کا دوسرا مرحلہ بھی پہلے مرحلے کی طرح مکمل ہونے میں شاید کچھ وقت لے اور اس وجہ سے شاید حزبِ اختلاف کی طرف سے حکومت پر لگائے گئے دھاندلی کے الزامات کو بھی مزید تقویت ملے۔ الزامات کی اس بوچھاڑ سے قطع نظر مبصرین کی رائے میں عوام اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے پہلے مرحلے کی نسبت کہیں زیادہ پرجوش نظر آتے ہیں۔ بالکل جیسے انہوں نے اپوزیشن کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو رد کر دیا ہو۔ عوام کے اس رویے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انہیں ان انتخابات کے شفاف یا غیر جانبدار ہونے کا یقین ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ لوگوں نے اپنے سیاستدانوں اور ان کی سیاسی جماعتوں کو مقامی حکومت کے نظام کے حمام میں ننگا دیکھ لیا ہے۔ اب انہیں کسی ایک گروہ کی جانب سے دوسرے پر لگائے گئے ننگے پن کے الزامات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ صرف اپنا ووٹ استعمال کرنا چاہتے ہیں باوجود اس کے کہ پاکستان میں ہمیشہ اقتدار میں رہنے والی فوجی قیادت اور اس کی عسکری انتظامیہ نے کبھی ان کے ووٹ کو عزت یا اہمیت نہیں دی۔ کتنی عجیب بات ہے کہ پاکستان کے فوجی حکمران سالوں لوگوں کو چیخ چیخ کر سمجھاتے رہتے ہیں کہ مغربی طرزکی جمہوریت پاکستان کے لیے موزوں نہیں لیکن جب بھی انتخابات کا وقت آتا ہے تو لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے یوں امڈ آتے ہیں جیسے انہوں نے فوجیوں کی تنبیہ سنی ہی نہ ہو۔ دوسرے مرحلے میں بھی لگتا یوں ہے کہ ووٹ بھی خوب ڈالے جائیں گے اور فساد بھی ویسے ہی ہو گا جیسا کہ پہلے مرحلے میں دیکھنے کو ملا۔ انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران اور اس کے بعد ہونے والے پر تشدد واقعات میں سترہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ مبصرین کے خیال میں پنجاب میں انتخابی صورتحال حکومتی جماعت کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے پہلے کی نسبت زیادہ بگڑ سکتی ہے۔ گو کہ حتمی نتائج سامنے نہیں آئے لیکن یہ امر واضح ہو چکا ہے کہ گجرات کے چوہدری برادران کو پورے پنجاب میں یکساں حمایت حاصل نہیں ہے جس کے وہ داعی ہیں۔ چوہدری برادران کی پوری برادری پر نظر ڈالی جائے تو یوں لگتا ہے کہ انہیں صرف ان علاقوں میں برتری ملی ہے جہاں ان کے وسیع خاندان کی باقاعدہ رشتہ داریاں ہیں۔ ان میں سے زیادہ اضلاع وسطی پنجاب میں ہیں جب کہ شمالی اور جنوبی پنجاب میں زیادہ تر مسلم لیگ کے اندر موجود چودھری مخالف دھڑوں کا پلڑہ بھاری رہا۔ گجرات کے اس مشہور خاندان کی محدود فتوحات اس بات کا بھی عندیہ دیتی ہیں کہ موجودہ مسلم لیگ کا خالق اور بانی ہونے کے باوجود جنرل مشرف کی سیاسی حمایت کا انحصار اب بھی کسی سیاسی نظریے کی بجائے برادریوں پر ہے۔ گو تمام متحارب لیگی دھڑے جنرل مشرف کی قیادت پر متفق نطر آتے ہیں لیکن یہ اتفاق صرف جنرل مشرف کی ذات تک محدود لگتا ہے۔ گویا اپنی تمام تر کوشش کے باوجود بھی جنرل مشرف ابھی تک اپنے لیے سیاسی بنیادوں پر استوار حمایت متحرک نہیں کر سکے۔ یہ نقطہ صدر صاحب کے مخالفین نے بھی اٹھایا لیکن ان کی طرف سے اس امر پر خوشی کا اظہار ناقابلِ فہم ہے۔ پاکستانی معاشرے کی سیاسی بنیادوں پر استوار نہ ہونے میں اصل شکست تو سیاسی جماعتوں کی ہے نہ کہ فوجی حکمرانوں کی۔ اور یہی وجہ ہے جو ملکی سیاست میں بار بار فوجی مداخلت کا سبب بنتی ہے۔ یہ مسئلہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے لیے غور طلب ہے۔ انتخابات کا ایک اور پہلو جو سیاسی مبصرین کی دلچسپی کا محور بنا ہوا ہے صوبہ سرحد میں مذہبی جماعتوں کی حمایت سے متعلق ہے۔ ان انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کی کئی اضلاع میں کامیابی نے ایک تاثر یہ پیدا کیا ہے کہ شاید افغانستان کے اس ہمسایہ صوبے میں مذہبی جماعتوں کا زور ٹوٹ رہا ہے۔ تین سال قبل ہونے والے عام انتخابات میں اے این پی قومی اسمبلی کی ایک بھی نشست نہیں جیت سکی تھی۔ اس کے برعکس موجودہ انتخابات میں وہ اب تک ایک سے زیادہ اضلاع میں اپنی حکومت بنانے کی استطاعت حاصل کر چکی ہے۔ کیا اے این پی کی کامیابی کی قیمت ایم ایم اے نے چکائی ہے؟ اس موقع پر کسی بھی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہو گا۔ گو اے این پی عام انتخابات ہار گئی تھی تاہم اسے ہر حلقے سے ووٹ ضرور ملے اور یہی ووٹ جب مقامی سطح پر بٹےہوئے چھوٹے چھوٹے حلقوں میں پڑے تو اے این پی کے لیے خاطرخواہ کامیابی کا سبب بنے۔ ویسے بھی دیکھا جائے تو ایم ایم اے نے صوبہ صرحد کے سنہ 2002 میں ہو نے والے صوبائی انتخابات میں 100 میں سے صرف 52 نشستیں جیتی تھیں۔ یعنی ان کا حقیقی اثر صرف نصف صوبے میں نظر آیا۔ لگتا یوں ہے کہ موجودہ صورتحال بھی شاید کوئی خاص مختلف نہ ہو اور ایم ایم اے سرحد کے آدھے یا اس سے بھی کم اضلاع میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے۔ ایسا ہوا تو اس سے یقیناً یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ گزشتہ تین برس میں جنرل مشرف کا پیش کردہ روشن خیال اعتدال کا تصور کم از کم صوبہ سرحد کے عوام کے دلوں میں گھر نہیں کر سکا۔ ایک فوجی حکمران کی اس واضح ناکامی کا ملکی سیاست اور ریاستی امور پر آنے والے وقت میں کیا اثر ہوگا؟ اس ایک سوال کی اہمیت شاید ان تمام سوالوں سے زیادہ ہے جو موجودہ انتخابات اپنے پیچھے چھوڑے جا رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||