خواتین کے مسائل اور میڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معاشرے میں کسی بھی مسئلے کو دبانے یا اجاگر کرنے میں میڈیا کا کردار بہت اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ میڈیا کا رویہ مثبت رہے تو بہت سے مسئلے حل بھی ہوسکتے ہیں لیکن اگر یہی رویہ منفی ہوجائے تو اس سے بہت سے معاملات مزید بگاڑ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ پاکستان میں ابھی جنسی ہراس کے موضوع پر ٹی وی یا ریڈیو پر زیادہ بات نہیں کی جاتی لیکن اخبارات کا کردار مختلف ہے جہاں ایسے واقعات رپورٹ بھی ہوتے ہیں اور ان کے حل پر بات بھی کی جاتی ہے۔ اسلام آباد میں عکس نامی ایک غیر سرکاری تنظیم اخبارات کا روزانہ جائزہ لیتی ہے اور ایسی خبروں کا ایک ریکارڈ اپنے پاس رکھتی ہے جس میں ایسے واقعات میں عورتوں کے کردار کو منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ ادارے کی ریسرچ ایسوسی ایٹ مریم طاہر وقار نے بتایا کہ یہ تنظیم ایک پراجیکٹ پر کام کررہی ہے جس کا مقصد ایسا ضابطہ اخلاق بنانا ہے جس کے تحت میڈیا میں عورتوں سے متعلق خبروں کی تشہیر کو بہتر بنایا جائے اور خبر اس انداز میں پیش کی جائے کہ اس سے خواتین کی توہین نہ مقصود ہو۔ مریم کا کہنا تھا ’اکثر جنسی زیادتی کی خبروں میں خواتین کی تصویریں اور نام چھاپ دیئے جاتے ہیں۔ یہ ایک صحافی کا کا م ہے کہ وہ ایسے واقعات کی صورت میں ذمہ داری کا ثبوت دے‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسی خبروں میں ان جرائم کو برا کہنا چاہیے نہ کہ ایک عورت کا مذاق اڑایا جائے اور وہ بھی اس طرح کہ وہ معاشرے میں منہ دکھانے کے قابل ہی نہ رہے۔ ایک واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے اسلام آباد میں نینا عزیز نامی ایک خاتون کو نہایت بیہمانہ انداز میں قتل کیا گیا تھا۔ ان کا سر لاش سے جدا کردیا گیا تھا۔مریم کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد اخبارات نے اس انداز میں خبریں چھاپیں جن میں تمام تر توجہ ان کے سابق بوائے فرینڈز اور معاشقوں پر تھی۔ اصل مجرم کیا ہوئے اس کا کہیں نام و نشان بھی نہ ملتا تھا‘۔ عکس کے ریڈیو پراجیکٹ سے وابستہ قدسیہ محمود کا کہنا تھا کہ اردو اور انگریزی اخبارات کے معیار میں بہت فرق ہے۔ ’یہاں انگریزی صحافت میں کافی حساسیت پائی جاتی ہے جو اردو اخبارات میں نظر نہیں آتی‘۔ انگریزی روزنامے دی نیشن کے مدیر اور کونسل آف نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے صدر عارف نظامی کا کہنا ہے کہ معاشرے میں آنے والی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ان واقعات کو اجاگر کرنے کا شعور بھی بڑھتا جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ پہلے کی نسبت اب ایسے واقعات زیادہ رپورٹ کیے جاتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جہاں ایک جانب جنسی ہراس کے مسئلے کو اجاگر کیا جارہا ہے وہیں دوسری طرف اخبارات کا ایک سیکشن ایسا بھی ہے جو ان واقعات کو اچھالتا ہے۔ عارف نظامی کا کہنا تھا کہ انگریزی اخبارات کی زیادہ توجہ اصل مجرمانہ کارروائی کا پردہ چاک کرنے پر ہوتی ہے جبکہ شام کے کئی اخبارات محض اپنی سرکولیشن بڑھانے کے لیے ایسے واقعات کو تصاویر اور ناموں کے ساتھ غیر مناسب انداز میں شائع کرتے ہیں۔
یہی سوال جب اسلام آباد سے نکلنے والے ایک روزنامے ’اوصاف‘ کے گروپ ایڈیٹر سے کیا گیا تو ان کہنا تھا ’بعض اخبارات ایسی خبریں اچھالتے ہیں اور خواتین کے کردار کو ضابطہ اخلاق سے ہٹ کر فلیش کیا جاتا ہے۔ لیکن اوصاف میں ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری حتی الامکان کوشش ہوتی ہے ایسے واقعات میں خواتین کی تصویر نہ چھپے لیکن بعض اوقات بعض جرائم کی صورت میں تصویر چھپ بھی جاتی ہے اور یہ ہر اخبار میں ہوتا ہے‘۔ اردو اور انگریزی اخبارات کے معیار میں فرق کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے۔ ’شاید انگریزی اخبارات کی ایسی کوئی پالیسی ہوتی ہوگی جس کے تحت وہ ایسا نہیں کرتے‘۔ طارق واسطی کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں ایسے اخبارات آئے ہیں جنہوں نے زرد صحافت کو فروغ دیا ہے۔ عارف نظامی کا کہنا تھا کہ جنسی ہراس سے متعلقہ خبروں کے چھاپنے کے انداز میں بہتری کی ضرورت ہے اور صحافیوں کو چاہیے کہ وہ ان معاملات کے ساتھ احتیاط برتیں۔ جنسی ہراس کے مسئلے کے بہت سے پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد آخر میں میں نے اسلام آباد میں ایس پی انوسٹی گیشنز احسان صادق سے ان کے خیالات جاننا چاہے۔
ان کا کہنا تھا ’پولیس کے پاس ایسے واقعات بہت کم رپورٹ ہوتے ہیں۔ اس بارے میں پاکستان پینل کوڈ میں کوئی قانون مخصوص تو نہیں ہے البتہ ایسے کیس رپورٹ ہونے کی صورت میں پولیس سیکشن 509 کے تحت کارروائی کرسکتی ہے جس کے تحت مجرم کو ایک سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔‘ احسان صادق کا کہنا تھا کہ سزا دینے کا انحصار اس امر پر ہے کہ آیا ملزم کے خلاف واضح ثبوت موجود ہیں یا نہیں۔ غیر سرکاری تنظیموں کے کردار کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ حالات کی جو تصویر یہ تنظیمیں پیش کرتی ہیں وہ بھی حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ احسان صادق کے خیال میں یہ تنظیمیں چونکہ بیرونی امداد پر چلتی ہیں اس لیے یہ جنسی ہراس کے واقعات کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں‘۔ ’بلاشبہ معاشرے میں ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ اور منظر عام پر آنے والے واقعات غیر رپورٹ شدہ واقعات کی نسبت بہت کم ہیں۔‘ تو گویا مسئلہ تو معاشرے میں موجود ہے مگر اس کا فوری حل کسی کے پاس نہیں۔ تو یہ حوا کی بیٹیاں کریں تو کیا کریں؟ اور آخر میں ساحر لدھیانوی کی ایک نظم جو شاید ان جذبات کا اظہار بھی ہو۔ لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں روح کیا ہوتی ہے اس سے انہیں مطلب ہی نہیں روح مرجائے تو ہر جسم ہے چلتی ہوئی لاش کئی صدیو ں سے یہ وحشت کا چلن جاری ہے لوگ عورت کی ہر ایک چیخ کو نغمہ سمجھیں جبر سے نسل بڑھے ظلم سے تن میل کرے ہم جو انسانوں کی تہذیب لیے پھرتے ہیں اس سلسلے کے گزشتہ حصے پڑھنے کے لیے کلک کریں: |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||