BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 November, 2004, 16:15 GMT 21:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حوا کی چُپ کب ٹوٹے گی؟

نجمہ
نجمہ کو ڈر ہے کہ یہ واقعہ اس کی رسوائی کا باعث ہی نہ بن جائے
نجمہ کا تعلق راولپنڈی کے ایک اندرونی علاقے سے ہے۔ وہ شدید پریشانی کا شکار ہے۔باہر آتے جاتے ایک آدمی اس کا راستہ روکتا ہے۔ اس کی توجہ حاصل کرنے کے لیے طرح طرح کی گھٹیا حرکتیں اور اشارے کرتا ہے اور کبھی کبھار تو کوئی ایسا فقرہ بھی بول دیتا ہے جس سے وہ پانی پانی ہوجاتی ہے۔ مگر اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نجمہ کیا کرے۔ کس سے مدد مانگے؟ مگر نجمہ بدنامی سے ڈرتی ہے۔ اگر قصور اس مرد کا ہے تو کیا ہوا، کمزور ذات تو لڑکی ہے۔ اس پر عیب لگانا معاشرے کی روایت بھی ہے اور عادت بھی۔ مگر اب تو حد ہی ہوگئی۔ وہ شخص اب اکثر اپنی ٹانگ سے شلوار ہٹا کر نجمہ کو دکھاتا ہے جہاں اس نے نجمہ کا نام خون سے لکھ رکھا ہے۔ اب نجمہ اس جنونی سے اتنی خوفزدہ ہوچکی ہے کہ اس نے گھر سے باہر نکلنا چھوڑ دیا ہے۔

آخر اس لڑکی نے ہمت کی اور راولپنڈی میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک وکیل ناہیدہ محبوب الٰہی کو اپنی داستان کہہ سنائی۔ انہوں نے اس لڑکی کی حوصلہ افزائی کی کہ اس نے ہمت کرکے ان سے رابطہ کیا مگر یہ رابطہ بھی بے فائدہ ہی ثابت ہوا۔ نجمہ وکیل کے بتائے ہوئے کسی بھی حل پر عمل کرنے کے لیے راضی نہیں ہے۔ اگر اس آدمی سے بات کی جائے تو وہ رد عمل میں نجانے کیا کر گزرے۔ اس کی گرفتاری یا اس کے خلاف کوئی بھی کارروائی بغیر کسی ثبوت کے ممکن نہیں اور ثبوت دینے کا حوصلہ اس لڑکی میں نہیں ہے۔

ناہیدہ محبوب الٰہی
خواتین کے حقوق کی وکیل ناہیدہ محبوب الٰہی

نجمہ کہتی ہے ’میرے والد اور بھائی بہت سخت مزاج ہیں۔ مجھے بہت مشکل سے اجازت ملی ہے کہ میں پڑھ لکھ سکوں اور کام کرسکوں۔ اگر ان کے کان میں بھنک بھی پڑ گئی کہ میرے ساتھ یہ ہورہا ہے تو وہ مجھ پر مزید پابندیاں لگادیں گے۔ مجھے زندہ رہنے کے لیے ، سانس لینے کے لیے کچھ تو کرنا ہے ورنہ میں گھٹ گھٹ کر مرجاؤں گی۔‘

ناہیدہ کہتی ہیں کہ ان کے پاس ایسی بے شمار خواتین اور لڑکیاں آتی ہیں جو ایسے مسائل سے دوچار ہیں لیکن بہت کم عورتیں اس سلسلے میں کوئی قدم اٹھانے پر راضی ہوتی ہیں۔

 ’معاشرے کی بدحالی کی یہ بہترین مثال ہے کہ ہم نے کس طرح اپنی بچی کو چپ رہنا سکھایا ہے اور پھر ایک دن ہم سوچتے ہیں کہ جب اس کے ساتھ کسی نے زیادتی کی تو یہ بولی کیوں نہیں‘
شہناز بخاری

لیکن خواتین کو اس رویہ کا ذمہ دار یا کم ہمت سمجھنا صحیح نہیں ہے۔ اذیت کو خاموشی سے برداشت کرنے کے پیچھے کئی معاشرتی رویوں کا ہاتھ ہے۔

اسلام آباد میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم پروگریسو وومن ایسو سی ایشن کی سربراہ اور ماہر نفسیات شہناز بخاری کہتی ہیں ’معاشرے کی بدحالی کی یہ بہترین مثال ہے کہ ہم نے کس طرح اپنی بچی کو چپ رہنا سکھایا ہے اور پھر ایک دن ہم سوچتے ہیں کہ جب اس کے ساتھ کسی نے زیادتی کی تو یہ بولی کیوں نہیں۔ آپ نے ساری ہمتیں اور سارے حق تو اس سے چھین لئے ہیں۔ بھائی کے آگے بولنا نہیں، خاوند تمہارا مجازی خدا ہے تم نے اس کے آگے آنکھ انچی کیسے کرلی؟ اور باپ، باپ تو خداہے۔ اور جب اسی صنف کے لوگ اس بچی کے ساتھ زیادتی کریں گے تو اس کی کیا مجال ہے کہ وہ کچھ کہہ سکے‘۔

اس خاموشی کے پیچھے ایک اور وجہ بھی ہے اور وہ ہے عورت یا لڑکی کی بدنامی کا خوف۔ معاشرے نے ایسے مسائل کے بارے میں کئی مفروضے گھڑ رکھے ہیں جن میں کوئی حقیقت نہیں۔ مثلاً ایسے واقعات کا شکار وہ عورتیں ہوتی ہیں جن کے لباس میں عریانی کا عنصر ہو حالانکہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ڈھکے چھپے لباس پہننے والی حتٰی کہ پردہ کرنے والی عورتوں کے ساتھ بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں۔

 شہناز بخاری
پروگریسو وومن ایسو سی ایشن کی سربراہ شہناز بخاری

اسلام آباد میں شعبہ پولیس کے ایس پی احسان صادق اپنی ایک تحقیقاتی کتاب ’خواتین کے خلاف تشدد‘ میں لکھتے ہیں کہ ہراس یا زیادتی کا شکار ہونے والی ہر عورت ہی اپنے آپ کو اس واقعہ کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔اس کے ذہن میں ان گنت سوالات اٹھتے ہیں ، اگر میں نے یہ لباس نہ پہنا ہوتا تو میرے ساتھ یہ نہ ہوتا، اگر میں وہاس اکیلی نہ گئی ہوتی؟ اگر میں نے دروازہ ٹھیک سے بند کیا ہوتا؟ وغیرہ وغیرہ۔ جس کے بعد معاشرے کا رویہ اس خاتون کے احساس جرم کو مزید ہوا دیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بیشتر عورتیں اپنے آپ کو مزید عدم تحفظ سے بچانے کے لیے خاموشی کا راستہ اختیار کرتی ہیں۔

لیکن ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ خاموشی مجرم کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ پاکستان میں چند ملازمت پیشہ خواتین نے ان مسائل پر آواز اٹھائی۔ اس کا کیا رد عمل ہوا؟ آخر عورت کے لیے یہ منوانا اتنا مشکل کیوں ہے کہ معاشرے میں ایسے کسی مسئلے کا وجود بھی ہے؟ یہ سب جاننے کے لیے آپ اس سلسلے کی اگلی کڑی پڑھنا نہ بھولیے گا جو جلد ہی شائع کی جائے گی۔

----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اس رپورٹ پر چند قارئین کی آراء:

عدیل خان، دبئی
ایسے افراد سزا کے مستحق ہیں اور ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ خواتین کی عزت کیسے کی جاتی ہے۔

اظہر آرائیں، کینیڈا
یہ رپورٹ پڑھ کر مجھے بہت دکھ ہوا۔ یہ صورتحال تعلیم کی کمی کے باعث ہے۔ اسلام نے مردو عورت کو برابر حقوق دیئے ہیں۔ میری درخواست ہے کہ ایسی خواتین کی مدد کی جائے اور انہیں صحیح راستہ دکھایا جائے اور ان کی مشکلات سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔ پاکستان میں بہت سی غیر سرکاری تنظیمیں پیسہ بنانے کے لیے لوگوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔

سمیرا، قطر
یہ سلسلہ بہت اچھا ہے۔ اس سے عورتوں میں شعور بیدار ہونے کے ساتھ ساتھ آنے والے برے وقت کے لیے ہمت بھی پیدا ہوگی۔ اپنے ہی گھروں میں بہت سی بیٹیاں، بیویاں، بہنیں حق بات کہنے سے ڈرتی ہیں۔ بہت حد تک عورت خود ہی اپنے نقصان کی ذمہ دار ہے۔ اگر ایک ماں اپنے بیٹے کو صحیح تربیت دے اور اسے عورت کا احترام کرنا سکھائے تو یہ مسائل نہ ہوں۔

عامر ملک، کینیڈا
پاکستان میں ان مسائل سے نمٹنے کے لیے سخت قوانین بنانے کی ضرورت ہے جیسا کہ یہاں کینیڈا میں نظر آتا ہے۔ اور یہ قدم اٹھانے کے بعد کسی کی جرات نہیں ہوگی کہ ایسی حرکت کرے۔ خواتین کو بھی ڈرنے کے بجائے باہمت ہونے کی ضرورت ہے۔

احمد خان، لاہور
یہ سچ نہیں ہے کہ ایسی صورتحال صرف پاکستانی معاشرے میں ہے۔ یہ ہر جگہ اور ہر کسی کے ساتھ ہے اور یہ رویہ تو انسان کی فطرت میں ہے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد