BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 December, 2004, 15:25 GMT 20:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نوجوان کیا سوچتے ہیں؟

قائد اعظم یونیورسٹی
قائد اعظم یونیورسٹی کے نوجوانوں کے تاثرات کافی دلچسپ رہے
’خواتین کو گھورنے یا دیکھنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ خاص طور پر اگر آپ پڑھی لکھی لڑکیوں کی بات کریں تو انہیں گھورنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر کسی نے ان کی طرف دیکھ ہی لیا تو اس میں کیا حرج ہے؟ یہ تو جنسی ہراس نہ ہوا‘۔

یہ تھے قائد اعظم یونیورسٹی کے ایک طالب علم کے تاثرات۔ دوسری جانب یونیورسٹی ہی کی لڑکیوں کا کہنا ہے ’آپ کسی بھی پبلک مقام پر چلی جائیں۔ وہاں پر موجود مرد آپ کو اسقدر بری نظروں سے گھورتے ہیں کہ جیسے انہوں نے کبھی کوئی لڑکی نہیں دیکھی۔ اور تو اور یہ یونیورسٹی کے لڑکے، یہ بازار میں جاکر ایسی بیہودہ حرکتیں کرتے ہیں کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ یہ پڑھے لکھے نوجوان ہیں‘۔

 خواتین کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ ان باتوں کو نظر انداز کردیں، بازار وغیرہ میں کسی مرد کی ایسی حرکت پر احتجاج کرنا یا شور کرنا دراصل اپنا تماشا بنوانے کے مترادف ہے
ایک طالبہ

یہ بحث تو نجانے کب سے چل رہی ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ کب تک چلے گی۔

پاکستان کے نوجوان بیشتر معاشرتی برائیوں سے نہ صرف واقف ہیں بلکہ ان کا حل بھی چاہتے ہیں لیکن جنسی ہراس کا مسئلہ ایسا مسئلہ ہے جس کے بارے میں ان کے اپنے کچھ تحفظات ہیں مثلاً وہی بیشتر افراد والی سوچ کہ اگر کسی نے خواتین کے ساتھ کوئی بری حرکت کی ہے تو اس میں ضرور کسی نہ کسی حد تک اس لڑکی کا اپنا ہاتھ ہے۔ شاید اس بات میں کچھ صداقت بھی ہو لیکن ہراساں کرنے والے ہر شخص کو اس الزام سے بری الذمہ قرار دے دینا یا پھر ہراساں ہونے والی ہر عورت اور لڑکی کو ذمہ دار ٹھہرانا بھی زیادتی ہے۔

مجید ہٹس
قائد اعظم یونیورسٹی کے مشہور و معروف مجید ہٹس

نوجوانوں کے تاثرات جاننے کے لیے قائد اعظم یونیورسٹی کے طلباء و طالبات سے یونیورسٹی کے مشہور و معروف ’مجید ہٹس‘ پر کی گئی گفتگو خاصی دلچسپ ثابت ہوئی۔

بیشتر طلباء کا خیال تھا کہ یہ ایسا موضوع نہیں ہے جس پر وقت، توانائی اور وسائل صرف کئے جائیں۔ ان کے خیال میں دیگر معاشرتی مسائل مثلاً تعلیم کی کمی، غربت وغیرہ ایسے معاملات ہیں جنہیں زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔

کئی نے میڈیا پر ایسی باتیں پھیلانے کا الزام بھی لگایا۔ ایک طالب علم کا کہنا تھا ’میڈیا جس مسئلے کو چاہتا ہے بڑھا چڑھا دیتا ہے‘۔ ایک واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مختاراں مائی کا کیس میڈیا نے اتنا اچھالا کہ ملک کے وزیر اعظم اور صدر کو ایک خصوصی عدالت قائم کرنا پڑی۔ جس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے جرگے کے کئی افراد کو سزائے موت سنادی۔ ان کے خیال میں یہ واقعہ اتنا بڑا نہیں تھا جتنا کہ اس کو میڈیا نے بنادیا اور نہ ہی یہ کوئی منصفانہ فیصلہ تھا۔

مختاراں مائی
ایک نوجوان کے خیال میں یہ واقعہ اتنا بڑا نہیں تھا جتنا کہ اس کو میڈیا نے بنادیا

(ڈیرہ غازی خان میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے چھ افراد کو پنچائیت کے حکم پر ایک عورت مختاراں مائی کو اجتماعی زیادتی کا شکار بنانے کے جرم میں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ اس جرم کا ارتکاب اس وقت کیا گیا تھا جب علاقے کی مقامی پنچایت نے مختاراں مائی کو ان کے بھائی کے ایک بااثر قبیلے کی لڑکی سے ناجائز تعلقات ہونے کے شبہ میں طلب کرکے مذکورہ قبیلے کے افراد سے کہا کہ وہ بدلہ لے لیں۔ مختاراں بی بی کی اجتماعی آبروریزی کے بعد انہیں گاؤں میں نیم برہنہ حالت میں گشت کروایا گیا۔ یہ واقعہ اس سال جون میں پنجاب کے شہر مظفرگڑھ میں پیش آیا تھا۔)

دوسری جانب لڑکیوں کے تاثرات بھی دلچسپ تھے۔ چند کا وہی خیال تھا کہ ایسے واقعات میں لڑکیوں کا قصور بھی ہوتا ہے تاہم بیشتر کے مطابق عورتوں کو واقعی معاشرہ تحفظ دینے میں ناکام رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا ایسی حرکات زمانے میں بہت عام ہیں مثلاً لڑکوں کا لڑکیوں کو چھیڑنا، بازاروں میں ساتھ سے گزرتے ہوئے چھونا یا پھر کوئی فقرہ کہہ دینا۔لیکن تقریباً سب ہی کا خیال تھا کہ خواتین کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ ان باتوں کو نظر انداز کردیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بازار وغیرہ میں کسی مرد کی ایسی حرکت پر احتجاج کرنا یا شور کرنا دراصل اپنا تماشا بنوانے کے مترادف ہے۔

یونیورسٹی کے چند طلباء
میڈیا جس مسئلے کو چاہتا ہے بڑھا چڑھا دیتا ہے: ایک طالب علم

اس سے قبل یونیورسٹی ہی کی ایک سابق طالبہ نے اپنے ایک ٹیچر کے بارے میں بتایا تھا کہ ان کا رویہ طالبات کے ساتھ بہت غیر شائستہ تھا اور ان کی موجودگی میں طالبات اپنے آپ کوغیر محفوظ محسوس کرتی تھیں۔

دوسری جانب لڑکے کہتے ہیں کہ کچھ اساتذہ ایسے ہیں ’آخر وہ ہماری ہی عمر سے گزر کر استاد بنے ہیں اور وہ بھی مرد ہیں‘۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ ایسی حرکات کرنے والے طالب علموں اور اساتذہ کی تعداد بہت کم ہے۔ ’وہ کہتے ہیں نا کہ ایک مچھلی سارے جل کو گندہ کرتی ہے‘۔

اس سلسلے کے گزشتہ حصے پڑھنے کے لیے کلک کریں:



پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد