BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 November, 2004, 11:00 GMT 16:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بچپن میرا چھین لیا‘

News image
سن 2003 میں کل 1826 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا
’میری بیٹی سکول سے آرہی تھی۔ اس کے ساتھ دس بیس بچیاں پبلک بس پر سکول سے آتی ہیں۔ جمعہ کا دن تھا۔ باقی تمام بچیاں آگے تھیں کیونکہ میری بیٹی چھوٹی ہے۔ اتنے میں گلی کے نکڑ پر دوکان سے ایک آدمی نکلا اور اس کا بازو پکڑ کر دوکان کے اندر لے گیا۔ وہ بہت چیخی چلائی۔ ایک راہ چلتے شخص نے پوچھا بھی کہ اسے کہاں لے جارہے ہو؟ وہ کہنے لگا یہ میری اپنی بیٹی ہے۔ اندر لے جاکر اس نے میری بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کی۔ اس کے جسم اور ہونٹوں پر نشان بھی لگائے۔ اتنے میں بچی کی چیخیں سن کر ایک لڑکا دوکان میں آیا اور اس نے میری بیٹی کو چھڑوایا۔ وہ روتی ہوئی گھر آگئی۔ اس نے بتایا کہ دوکاندار اسے پکڑ کر لے گیا تھا۔ ہم سب ہی بہت پریشان ہوگئے اور دوڑ کر دوکان پر پہنچے۔ دوکاندار بڑے سکون سے اپنی دوکان پر بیٹھا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ میرے بیٹے نے اسے باہر نکالا۔ اتنے میں وہاں اور بھی لوگ جمع ہوگئے اور کہنے لگے بی بی جی فی الحال اسے چھوڑ دیں یہ کہیں نہیں جاتا۔ ہم اسے دیکھ لیں گے۔ میں اکیلی تھی میرا بیٹا بھی چھوٹا تھا میں کیا کرتی میں نے اسے چھوڑ دیا۔‘

یہ تھیں لاہور کے علاقے شاہدرہ کی رہائشی عشرت جو اپنی نو سالہ بیٹی کے ساتھ کچھ دن قبل پیش آنے والا ایک واقعہ بیان کررہی تھیں۔ بدقسمتی سے ایسے واقعات کی زد میں آنے والی یہ واحد بچی نہیں ہے۔ کراچی میں عورتوں اور بچوں کی امداد کے لیے قائم ایک غیر سرکاری تنظیم مددگار کے مطابق سن 2003 میں کل 1826 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جن میں 851 کم سن بچیاں شامل ہیں۔

عشرت
’ہم نے اس کے خلاف پرچہ تو پہلے ہی کٹوا دیا تھا لیکن پولیس کچھ کرتی ہی نہیں‘

مگر یہ اعداد و شمار بھی صورتحال کی صحیح عکاسی نہیں کرتے کیونکہ یہ وہ واقعات ہیں جو یا تو اخبارات میں شائع ہوتے ہیں یا پھر پولیس کے پاس درج کروائے جاتے ہیں۔ بے شمار واقعات معاشرے کی ریت و رواج کے باعث منظر عام پر نہیں آتے۔ عشرت اور ان جیسے کتنے ہی خاندان ایسے واقعات کے سامنے بے بس ہیں۔

عشرت سے نے مزید بتایا ’واپس آنے کے بعد میری بچی کو سخت بخار ہوگیا۔ وہ رونے سے چپ ہی نہیں ہورہی تھی۔ اس کا چہرہ سرخ ہورہا تھا اور ہونٹ نیلے۔ تمام جسم پر تشدد کے نشان تھے۔ دو تین دن تو اس نے کچھ کھایا ہی نہیں۔ وہ اتنی خوفزدہ تھی کہ گھر سے باہر قدم ہی نہیں نکالتی تھی۔ میری گود میں بیٹھتی تھی۔ کہتی تھی وہ آدمی مجھے پکڑ کر لے جائے گا۔ پندرہ بیس دن تو وہ سکول ہی نہیں گئی۔ اس کے بعد میں خود اسے سکول چھوڑنے اور لینے جاتی تھی۔ پھر میں نے دیکھا کہ وہ دوکاندار وہیں کھڑا ہوتا تھا۔ ہم نے اس کے خلاف پرچہ تو پہلے ہی کٹوا دیا تھا لیکن پولیس کچھ کرتی ہی نہیں۔ اسے پکڑتی ہی نہیں ہے۔‘

درندگی کا شکار ہونے والے بچے
مددگار کے مطابق سن 2003 میں کل 1826 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جن میں 851 کم سن بچیاں شامل ہیں

مددگار ایک غیر سرکاری تنظیم ایل ایچ آر ایل اے اور یونیسف کا مشترکہ پراجیکٹ ہے۔ مددگار کے مطابق پچھلے سال بچوں کے ساتھ زیادتی کے سب سے زیادہ واقعات صوبہ پنجاب میں پیش آئے۔ کل واقعات میں سے 1087 پنجاب میں، 588 سندھ میں، 101 سرحد میں اور 56 بلوچستان میں رپورٹ ہوئے۔ ایسے واقعات کے بعد اکثر متاثرہ خاندان کو ڈرانے دھمکانے کے ہتھکنڈے بھی استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ وہ مجرم کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرسکیں۔

عشرت نے بتایا ’ہم لوگ مقدمے کی سماعت کے لیے جارہے تھے کہ اس شخص نے ہمارا ایکسیڈنٹ کروادیا۔ ہم لوگ رکشہ پر تھے۔ پیچھے سے ایک پک اپ نے ہمیں ٹکر مار دی۔ رکشہ الٹ گیا اور ہم سب زخمی ہوگئے۔ میری بیٹی کی ٹانگیں فریکچر ہو گئیں اور وہ دو ماہ ہسپتال میں داخل رہی۔ وہ اب بھی چلنے کے قابل نہیں ہے۔ نہ تو سکول جاسکتی ہے اور نہ ہی کہیں اور‘۔

بشرٰی خالق
ورکنگ وومن ہیلپ لائن کی جنرل سیکٹری بشرٰی خالق

عشرت نے بالآخر اپنی مدد کے لیے لاہور کی ایک غیر سرکاری تنظیم ورکنگ وومن ہیلپ لائن سے رابطہ کیا۔ ادارے کی جنرل سیکٹری بشرٰی خالق کا کہنا ہے ’ عشرت ہمارے پاس اصل واقعے کے کافی دن بعد آئی تھیں تب تک بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات کافی حد تک مندمل ہوچکے تھے۔ پھر اس کے طبی معائنے کی ضرورت باقی نہیں تھی۔ تاہم بچی کی ذہنی حالت بہتر بنانے کے لیے ہم اسے ماہر نفسیات کے پاس لے جاتے رہے ہیں۔ ہم نے شروع ہی میں عشرت کو کہا تھا کہ جتنی جلد ممکن ہو بچی کا طبی معائنہ کروالیں لیکن اس کے گھر والوں اور رشتہ داروں کا اصرار تھا کہ سمجھوتا کرلیں اور اس کا معائنہ وغیرہ نہ ہی کروائیں‘۔

 اس مجرم کو قانون کی گرفت سے باہر دیکھ کر ایک ماں کے دل پر کیا گزرتی ہوگی جس نے اس کی بچی کا بچپن اس بیہمانہ طریقے سے چھین لیا؟

گویا گھر والوں، غیر سرکاری تنظیموں اور پولیس کا کوششیں بے سود رہیں۔ مجرم آزاد ہے اور اسے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یقیناً یہ صورتحال عشرت کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں۔ اس مجرم کو قانون کی گرفت سے باہر دیکھ کر ایک ماں کے دل پر کیا گزرتی ہوگی جس نے اس کی بچی کا بچپن اس بیہمانہ طریقے سے چھین لیا۔

ایل ایچ آر ایل اے کے مطابق گزشتہ برس جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے 479 بچوں کے ساتھ یہ واقعات ان کے اپنے گھروں میں پیش آئے، جبکہ 246 واقعات زیادتی کرنے والے کے گھر پر ہوئے۔ دیگر واقعات بازاروں، کھیتوں، ہسپتالوں، سکولوں دوکانوں اور پولیش سٹیشنز پر ہوئے۔

ہیلپ لائن
غیر سرکاری تنظیمیں محض شعور اجاگر کرنے کی حد تک فعال ہیں

بچے نازک ہوتے ہیں۔ انہیں تحفظ کی ضرورت ہے۔ جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ معاشرہ ان کی حفاظت میں ناکام رہا ہے۔

بچوں اور عورتوں میں اپنے دفاع کی صلاحیت کم ہوتی ہے جس کے باعث انہیں ایسے مظالم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ خواتین کے بارے میں ایک عام خیال یہ ہے کہ اگر وہ گھروں کے اندر رہیں تو بری نظروں، بری نیتوں اور برے واقعات سے دور رہ سکتی ہیں۔ لیکن کیا چادر اور چار دیواری عورت کو تحفظ دینے میں کامیاب رہی ہے؟ کیا ایسی عورتیں جنسی مظالم اور ہراس سے بچی ہوئی ہیں جو گھروں کے اندر رہتی ہیں؟ تحقیق کچھ اور ہی کہتی ہے۔ کئی عورتیں چادر اور چاردیواری میں بھی محفوظ نہیں۔ اور یہی موضوع ہے اس سلسلے کے اگلے حصے کا جس میں ذکر ہے اپنے ہی قریبی رشتہ دوروں کے ہاتھوں جنسی مظالم کا شکار ہونے والی خواتین کا۔ ایسے رشتے جنہیں بظاہر بہت مقدس سمجھا جاتا ہے۔ یہ سب آپ پڑھ سکیں گے اس سلسلے کے اگلے حصے میں۔

اس سلسلے کے گزشتہ حصے پڑھنے کے لیے کلک کریں:



----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اس رپورٹ پر چند قارئین کی آراء

رانا تصدق حسین، بھکر

ایسے واقعات روز مرہ کا معمول بن گئے ہی اور اس کی سب سے زیادہ ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ایسے مجرموں کو سرعام سولی پر لٹکا دینا چاہیے۔

عمر حسین، پاکستان

یہ لوگ جو اس طرح کا کام کرتے ہیں، انسان کہلانے کے حقدار نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ سختی سے نمٹنا چاہیے۔

فراز قریشی، سندھ

ایک معصوم بچی کے ساتھ ایسے واقعے کا سن کر بہت افسوس ہورہا ہے۔ قصور دکاندار کا نہیں ہم سب کا ہے کیونکہ اس جانور کا پتا ہے کہ ہم جیسے بہت سے جانور موجود ہیں اسے بچانے کے لیے۔ ہم لوگ عورت کو انسان نہیں بلکہ کوئی چیز سمجھتے ہیں۔

عظیم ایوب، لاہور

ایک اسلامی معاشرے میں ایسے واقعات کا ہونا شرم کی بات ہے۔ اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت سے۔

راحیل سرور، ملتان

یہ پاکستان کے خلاف پروپیگینڈا ہے۔ ایسے واقعات ہر جگہ ہوتے ہیں۔ یہ جنسی تشدد کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ نفسیاتی مسئلہ ہے۔ مغربی ممالک میں تو اساتذہ اور پادری بھی ایسے کام کرتے ہیں۔ خدا کے واستے ایسی تصویر نہ پیش کریں کہ یہ صرف پاکستان کا مسئلہ ہے۔


محمد خان، پاکستان

میرے خیال میں وزیر اعظم کو بچوں کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی فورس تشکیل دینی چاہیے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد