’کوئی تو کرے میرا اعتبار‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد کے نواح میں رہنے والی سلمٰی کو ایک گھر میں بچوں کی دیکھ بھال کے لیے ملازمہ رکھا گیا تھا۔ ایک مرتبہ تمام افراد ایک شادی کی تقریب میں مدعو تھے۔ سلمٰی گھر پر اکیلی تھی۔ گھر کا مالک غیر متوقع طور پر واپس آگیا اور سلمٰی کو زبردستی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پندرہ سالہ سلمٰی خوفزدہ ہوگئی۔ بعد میں اس نے اپنی پریشانی اس امید پر گھر کی مالکن کو کہہ سنائی کہ وہ اس کی مدد کرے گی۔ مگر مالکن غصہ میں آگئی اور نہ صرف اس پر جسمانی تشدد کیا بلکہ دو ہزار روپے دے کر اسے ملازمت سے فارغ کردیا۔ بعد میں اس کی ماں کو بلا کر دھمکی بھی دی کہ وہ لوگ اپنے گاؤں واپس چلی جائیں اور اس واقعے کا ذکر کسی سے نہ کریں۔ کراچی کی ایک غیر سرکاری تنظیم ورکنگ وومن سپورٹ سینٹر کی تحقیق کے مطابق گھروں، فیکٹریوں اور اسی نوعیت کے دیگر کاموں سے وابستہ عورتوں کو جنسی ہراس کے مسائل کا سامنا سب سے زیادہ ہے۔ اس ادارے کی پراجیکٹ کوآرڈینیٹر عروس سحر کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہے کہ ان پیشوں سے وابستہ عورتوں کو بھی ملازمت پیشہ قرار دیا جائے تاکہ ان کے حقوق کا تعین ہوسکے۔
پاکستان میں عورتوں کے بارے میں یہ عام روایتی تاثر آج بھی قائم ہے کہ انہیں اپنے گھر تک ہی محدود رہنا چاہیے اور اگر وہ گھر سے باہر نکل کر کام کرتی ہیں تو ان کا کردار ٹھیک نہیں۔ شعوری یا لاشعوری طور پر یہی مفروضہ کچھ مردوں کے ذہن میں موجود ہے جس کا اظہار دفاتر میں ان کے رویوں سے ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ایک خاتون کو سندھ پولیس میں بطور انسپکٹر تعینات کیا گیا تھا۔ انہیں بھی کچھ ایسی ہی شکایات تھیں۔ انہوں نے کراچی کے ایک صحافی اشرف خان کو نہایت پریشانی کے عالم میں اپنی کہانی سنائی۔ ان خاتون سے رابطہ تو ممکن نہیں ہوسکا البتہ اشرف خان نے ان کے بارے میں بتایا ’وہ خاتون بہت روشن کیریئر کے ساتھ پولیس کے شعبہ میں آئی تھیں۔ فزیکل ایجو کیشن میں گریجویٹ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ جوڈو کراٹے کی بلیک بیلٹ بھی رکھتی تھیں۔ پولیس میں بھرتی ہونے کے بعد تربیت سے لے کر تعیناتی تک انہیں ہر موڑ پر جنسی ہراس کا سامنا رہا۔ جس میں افسران اور ان کے ساتھی سبھی شامل تھے۔ جب انہوں نے اپنے افسران کی خواہشات کے آگے ہتھیار نہ ڈالے تو انہیں انکوائری کا سامنا کرنا پڑا اور ان کو بالآخر برخاست کردیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ شعبہ پولیس میں بہت سی خواتین کو ایسے ہی رویوں کا سامنا ہے مگر وہ خاموشی سے سہتی رہتی ہیں‘۔ یہ معاملہ اخبارات میں آنے کے بعد وزارت داخلہ نے ایکشن لیا اور ان خاتون کو اس کی ملازمت پر بحال کردیا گیا۔ مگر الزام کس کے حصے میں آیا؟ اس وقت کے وزیر داخلہ فیصل صالح حیات اس کیس کے بارے میں کہتے ہیں ’ان خاتون کی بہت شکایات موصول ہورہی تھیں اور ان کی کارکردگی بھی قابل ذکر نہیں تھی۔ انہوں نے سب سے غلط کام یہ کیا کہ اپنے سینیئرز کے بارے میں شکایات کا ایک سلسلہ شروع کردیا جن پر انکوائری ہوئی اور تمام شکایات بے بنیاد ثابت ہوئیں۔ جب یہ شکایات حد سے بڑھ گئیں تو پولیس کے قواعد و ضوابط کے مطابق ان خاتون کو پہلے معطل اور پھر برخاست کردیا گیا‘۔ فیصل صالح حیات کہتے ہیں کہ وزارت نے اپنے طور پر انکوائری بھی کی جس سے یہ معلوم ہوا کہ پولیس انکوائری کے دوران قواعدو ضوابط پر پوری طرح عملدرآمد نہیں کیا گیا تھا چنانچہ وزارت کے احکامات پر ان خاتون کو ان کی ملازمت پر بحال کردیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا ’سندھ پولیس میں سینکڑوں خواتین ملازمت کرتی ہیں۔ کبھی کسی نے کوئی شکایت نہیں کی۔ صرف ان خاتون ہی کو کیوں ہراس کا نشانہ بنایا گیا۔ اس سے ہم نے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ان کے عزائم کچھ اور ہی تھے۔ جنسی ہراس کا کوئی سلسلہ نہیں تھا‘۔ پاکستان میں نو غیر سرکاری تنظیموں نے دفاتر میں جنسی ہراس کے خلاف ’آشا‘ کے نام سے ایک اتحاد بنایا ہے جس نے اس مقصد کے لیے ایک ضابطہ اخلاق بناکر کوشش کی کہ اسے سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں کی پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔ یہ ضابطہ اخلاق حکومت کے سامنے بھی پیش کیا گیا۔ کراچی کی ایک غیر سرکاری تنظیم وکلاء برائے انسانی حقوق و قانونی امداد کے صدر ضیاء اعوان کا کہنا ہے ’کئی اعتراضات اور پھر ردو بدل کیے جانے کے بعد بھی یہ مسودہ حکومتی دستاویزات کے نیچے کہیں دب کررہ گیا ہے۔ معلوم نہیں اس کا کیا بنا۔‘
دوسری جانب اس وقت کے وزیر داخلہ فیصل صالح حیات کا کہنا ہے ’ زندگی کے مختلف شعبے ہوتے ہیں اس حوالے سے ہر شعبہ کی اپنی اپنی ضروریات ہیں۔ کوئی ٹیچر ہے، کوئی ڈاکٹر سب پر ایک ضابطہ اخلاق لاگو نہیں ہوسکتا اور نہ ہی ہمیں اس کی توقع کرنی چاہیے‘۔ تو گویا غیر سرکاری تنظیموں کی کوششیش اپنی جگہ مگر اس سلسلے میں عملی قدم اٹھانے کی راہ میں بہت رکاوٹیں ہیں۔ فی الحال تو یہ معلوم ہوتا ہے یہ تنظیمیں ایسے مسائل کے بارے میں محض شعور اجاگر کرنے کی حد تک فعال ہیں۔ ملازمت پیشہ خواتین کے بارے میں ایک عام تاثر ہے کہ وہ با اعتماد ہوتی ہیں اور اپنے حق کے لیے لڑنا جانتی ہیں۔ جب ایسی خواتین استحصال روکنے میں ناکام ہیں تو ان عورتوں اور لڑکیوں کا کیا ہوگا جن کے منہ میں زبان ہی نہیں۔ ان کم عمر بچیوں کا کیا ہوگا جو باشعور ہونے سے پہلے ہی مردوں کی جنسی ہوس کا شکار ہوجاتی ہیں۔ کیا وہ زندگی بھر ان واقعات کو بھلا پائیں گی؟ کیا وہ معاشرے میں سر اٹھاکر چل سکیں گی؟ ایسے ہی چند واقعات کے بارے میں آپ پڑھ سکیں گے اس سلسلے کی اگلی کڑی میں۔ اس سلسلے کے گزشتہ حصے پڑھنے کے لیے کلک کریں: |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||