BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 November, 2004, 11:02 GMT 16:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دفاتر میں کیا ہوتا ہے؟

News image
آٹھ غیر سرکاری تنظیموں نے آشا کے نام سے دفاتر میں جنسی ہراس کے خلاف ایک اتحاد بنایا ہے
’سر میرے ٹیسٹ کا رزلٹ آیا یا نہیں‘؟ شہلا رضا نے راولپنڈی میں ایک بینک کے صدر دفتر میں فون پر ایک افسر سے پوچھا۔

’بی بی آج تو نہیں آیا۔ سرکاری طور پر تو چند ہفتوں بعد آئے گا مگر میں آپ کو پہلے معلوم کرکے بتادوں گا، آپ مجھے اپنا نام، پتا اور فون نمبر بتادیں۔ بلکہ کل مجھے کسی وقت فون کرلیں‘۔

ملازمت کے لیے پریشان شہلا کئی دن یونہی فون کرتی رہی۔ پھر ایک دن اس ہی افسر نے شہلا کو بتایا کہ بینک کے امتحان میں تو کامیاب نہیں ہوسکی البتہ وہ اس کے لیے ’خصوصی‘ طور پر ایک سیٹ نکلوا سکتا ہے شرط صرف یہ ہے کہ شہلا شام کو اس سے کہیں باہر مل لے۔ اس نے شہلا کو پچیس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ کی بھی پیشکش کی۔

خواتین کو گھر سے باہر قدم نکالتے ہی عدم تحفظ کا احساس آگھیرتا ہے۔ ملازمت پیشہ خواتین کے لیے یہ مسئلہ اور بھی گھمبیر ہے کیونکہ ایسے افراد سے ان کا واسطہ تقریباً ہر جگہ پڑتا ہے اور قدم قدم پر لوگ ان کی مجبوریوں کا استحصال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 ’ہم خواتین کی ترقی کی بات تو کرتے ہیں لیکن ہم نے خواتین کی ویلفیئر منسٹری قائم کرکے ملک کی آدھی آبادی کے مسائل کو اس میں پھینک دیا ہے۔ ہم عورت کو ایک فرد کیوں نہیں تسلیم کرتے؟ اگر عورت کی سوچ میں تبدیلی کی ضرورت ہے تو مردوں کی سوچ کی تبدیلی کی ضرورت اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ مردوں کی ویلفیئر منسٹری کیوں نہیں ہے۔‘
صائمہ ظہور

لاہور میں ایک غیر سرکاری تنظیم لیبر رائٹس میگزین کے لیے کام کرنے والی سفینہ حسن کا کہنا ہے ’جس دن سے میں نے ملازمت کے لیے گھر سے باہر قدم نکالا تھا اس دن سے آج تک میں بہت پریشانیوں سے گزری ہوں۔ گھر سے نکلتے ہی علاقے کے چند آوارہ لڑکے میرے پیچھے لگ جاتے ہیں، آوازے کستے ہیں اور نہایت غیر مہذب باتیں کرتے ہیں۔ بعض اوقات تو وہ میرا پیچھا کرتے کرتے میرے دفتر تک بھی آجاتے ہیں‘۔

سفینہ کہتی ہیں کہ جب لڑکی کے گھر والے اسے باہر کام کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں تو معاشرہ انہیں اس کی اجازت کیوں نہیں دیتا۔

کئی خواتین گھر کے مالی حالات سے تنگ آکر مجبوری کے تحت ملازمت کرتی ہیں جہاں ساتھیوں یا افسران کا رویہ ان کے لیے پریشانی کا باعث بنتا ہے اور ان کی مجبوری کا استحصال کیا جاتا ہے۔ بیشتر خواتین ان مسائل کو خاموشی سے جھیلتی ہیں کیونکہ اس پر آوازاٹھانے سے انہیں مزید مسائل آگھیرتے ہیں۔ اگر ایک خاتون اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے میں ناکام ہوجائے، تو اسے نہ صرف ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں بلکہ قصوروار بھی وہی ٹھہرائی جاتی ہے۔ دوسری طرف اس کے گھر والے ایسے حالات کے بارے میں جان کر اس کے گھر سے باہر نکلنے یا ملازمت کرنے پر بھی پابندی عائد کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسئلے میں گھری عورت اپنے حالات سے سمجھوتہ کرلیتی ہے۔

وزارت ماحولیات
صائمہ کا الزام ہے کہ وزارت ماحولیات کے ایک افسر نے انہیں ہراساں کیا۔

تاہم چند خواتین ایسی بھی ہیں جنہوں نے ایسے رویے کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ صائمہ ظہور اسلام آباد کی ایک صحافی ہیں۔ کچھ دن پہلے انہوں نے اپنے ایک پراجیکٹ کے لیے وزارت ماحولیات کے ایک افسر سے رابطہ کیا جنہوں نے بقول صائمہ، فون پر کافی غیر شائستہ زبان استعمال کی۔ بعد میں صائمہ ان کے دفتر گئیں اور ان کے رویے پر احتجاج کیا۔

صائمہ نے بتایا ’انہوں نے پھر میرے ساتھ بدتمیزی کی اور میرے روکنے پر تو تڑاک پر اتر آئے حتٰی کہ انہوں نے مجھ پر ہاتھ بھی اٹھایا۔ کمرے میں ایک اور شخص بھی تھا جو اسے باہر لے گیا۔ دونوں نے باہر جاکر کنڈی لگادی۔ میں ڈر گئی اور میں نے فوری طور پر اپنے موبائیل سے پولیس کو فون کیا۔ پولیس آگئی جس کے بعد وہ دونوں افسران میری منتیں کرنے لگے کہ میں ان کے دفتر سے نکل جاؤں‘۔

صائمہ کا کہنا ہے کہ بات بڑھتے بڑھتے سینیٹ تک گئی جہاں اس واقعے پر بحث اور احتجاج کیا گیا جس کے بعد انکوائری ہوئی اس افسر کو معطل کردیا گیا۔

دوسری جانب وزارت ماحولیات کے سیکرٹری جاوید حسن علی کا کہنا تھا ’یہ واقعہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس افسر نے ان خاتون کے ساتھ کوئی بدتمیزی نہیں کی تھی۔ پہلی بات تو یہ کہ وہ ماحولیات کے وزیر سے مل چکیں تھیں تو انہیں اس افسر کے پاس جانے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ پھر وہ وہاں گئیں اور ان افسر سے اصرار کیا کہ میں آپ سے اکیلے میں بات کروں گی۔ جب وہ اس پر راضی نہ ہوا تو انہوں نے پیپر ویٹ سے کمرے کا شیشہ توڑدیا، فون کی تاریں کھینچیں اور کمرے کا دروازہ بند کردیا‘۔

جاوید حسن علی
وزارت ماحولیات کے سیکریٹری جاوید حسن علی

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کوئی اکیلی لڑکی دو افراد کی موجودگی میں کمرے کا دروازہ بند کرسکتی ہے یا ان سے لڑنے کا سوچ سکتی ہے تو ان کا کہنا تھا ’بیشتر لڑکیاں تو ایسا نہیں کریں گی تاہم اگر آپ کسی خاص ایجنڈے کے تحت کچھ کرنا چاہتے ہیں تو یہ ناممکنات میں سے بھی نہیں‘۔

جاوید حسن علی کہتے ہیں کہ انکوائری ضرور ہوئی تھی لیکن اس افسر کے خلاف کچھ ثابت نہیں ہوسکا اور انہیں معطل بھی نہیں کیا گیا۔

قصہ مختصر، سرکاری انکوائری صائمہ کے حق میں ثابت نہ ہوسکی۔

صائمہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں عورت کو انسان نہیں بلکہ ’ایک چیز‘ سمجھا جاتا ہے۔ ’ہم خواتین کی ترقی کی بات تو کرتے ہیں لیکن ہم نے خواتین کی ویلفیئر منسٹری قائم کرکے ملک کی آدھی آبادی کے مسائل کو اس میں پھینک دیا ہے۔ ہم عورت کو ایک فرد کیوں نہیں تسلیم کرتے؟ اگر عورت کی سوچ میں تبدیلی کی ضرورت ہے تو مردوں کی سوچ کی تبدیلی کی ضرورت اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ مردوں کی ویلفیئر منسٹری کیوں نہیں ہے۔‘

 جب لڑکی کے گھر والے اسے باہر کام کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں تو معاشرہ انہیں اس کی اجازت کیوں نہیں دیتا۔
سفینہ حسن

پاکستان کی چند غیر سرکاری تنظیموں نے دفاتر میں خواتین کے خلاف جنسی ہراس کے خلاف ’الائنس اگینسٹ سیکچول ہراسمنٹ‘ یا آشا کے نام سے ایک اتحاد بنایا ہے۔

آشا نے کچھ عرصے پہلے ملازمت پیشہ خواتین کا ایک سروے کیا جس کے مطابق 78 فیصد خواتین دفاتر میں ایسے مسائل کا شکار ہیں جبکہ اکیس فیصد اس موضوع پر بات ہی کرنا پسند نہیں کرتیں۔

یہ مسئلہ اتنا گھمبیر ہونے کے باوجود بھی دفاتر میں خواتین کے تحفظ کے لیے کوئی قانون مخصوص نہیں کیا گیا۔ چند غیر سرکاری تنظیمیں اس کوشش میں ہیں کہ ایسا ہی ایک قانون آئین میں شامل کیا جائے۔ مگر کیا یہ ممکن ہوسکے گا؟ اس بارے میں حکام کیا کہتے ہیں؟ کیا وہ مانتے ہیں کہ یہ مسئلہ اتنا بڑھ چکا ہے؟ یہ سب آپ جان سکیں گے اس سلسلے کی اگلی کڑی میں۔

اس سلسلے کے گزشتہ حصے پڑھنے کے لیے کلک کریں:

----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اس رپورٹ پر ہمارے چند قارئین کی آراء

محمد یوسف، دبئی
جب تک عورت اپنا دفاع خود نہیں کرے گی، یہ ہوتا رہے گا۔ ہو سکتا ہے کہ ایسا کرنے سے کچھ خواتین کو پریشانیاں اٹھانی پڑیں، قربانیاں بھی دینی ہوں۔ مگر چپ چاپ بیٹھنے اور برداشت کرنے سے عورت کو حق نہیں ملے گا۔

فرزانہ اسلم، کینیڈا
کوئی تبدیلی لانے کے لیے ہم خواتین کو مل کر اپنے حقوق کے لیے لڑنے کی ضرورت ہے۔ یہ بہت قابل افسوس حقیقت ہے کہ مسلمان خواتین بھی ایسے مسائل کا شکار ہیں۔

خالد شاہین، جرمنی
ہمارے معاشرے میں خواتین کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ قابل شرم ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ اور ظلم تو یہ ہے کہ ہماری حکومتیں بھی اس ضمن میں کچھ نہیں کررہیں۔

آفاق اعوان، مانسہرہ
میں نے تو یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ لڑکیوں کی بدقسمتی ہے کہ وہ ان مسائل پر اپنے گھر والوں سے بھی بات نہیں کرسکتیں۔ سب سے پہلے تو عورتوں کو اپنے اندر ہمت پیدا کرنی ہوگی کیونکہ چپ رہنے سےایسی حرکتیں کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ پھر انہیں اپنے گھر والوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اعتماد میں لینا ہوگا۔

جمال شمسی، متحدہ عرب امارات
اللہ نے عورت کو بلند مرتبہ دیا ہے، ماں، بیوی، بہن اور بیٹی کے روپ میں۔ ہم عورت کو صرف ایک ’کھلونا‘ سمجھ کر اس کا استحصال کرتے ہیں۔ اللہ ہم سب کو نیک ہدایت دے۔

محمد فیصل، کینیڈا
اس میں سارا کا سارا قصور خواتین کا ہے کیونکہ اگر وہ پہلی ہی دفعہ ایسے افراد کے خلاف کوئی قدم اٹھالیں تو پھر کسی کی ہمت نہیں ہوگی کہ وہ خواتین کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے۔ لیکن بدقسمتی سے عورتیں اپنے آپ کو مجبور سمجھ کر خاموش رہتی ہیں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد