دفاتر میں کیا ہوتا ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’سر میرے ٹیسٹ کا رزلٹ آیا یا نہیں‘؟ شہلا رضا نے راولپنڈی میں ایک بینک کے صدر دفتر میں فون پر ایک افسر سے پوچھا۔ ’بی بی آج تو نہیں آیا۔ سرکاری طور پر تو چند ہفتوں بعد آئے گا مگر میں آپ کو پہلے معلوم کرکے بتادوں گا، آپ مجھے اپنا نام، پتا اور فون نمبر بتادیں۔ بلکہ کل مجھے کسی وقت فون کرلیں‘۔ ملازمت کے لیے پریشان شہلا کئی دن یونہی فون کرتی رہی۔ پھر ایک دن اس ہی افسر نے شہلا کو بتایا کہ بینک کے امتحان میں تو کامیاب نہیں ہوسکی البتہ وہ اس کے لیے ’خصوصی‘ طور پر ایک سیٹ نکلوا سکتا ہے شرط صرف یہ ہے کہ شہلا شام کو اس سے کہیں باہر مل لے۔ اس نے شہلا کو پچیس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ کی بھی پیشکش کی۔ خواتین کو گھر سے باہر قدم نکالتے ہی عدم تحفظ کا احساس آگھیرتا ہے۔ ملازمت پیشہ خواتین کے لیے یہ مسئلہ اور بھی گھمبیر ہے کیونکہ ایسے افراد سے ان کا واسطہ تقریباً ہر جگہ پڑتا ہے اور قدم قدم پر لوگ ان کی مجبوریوں کا استحصال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لاہور میں ایک غیر سرکاری تنظیم لیبر رائٹس میگزین کے لیے کام کرنے والی سفینہ حسن کا کہنا ہے ’جس دن سے میں نے ملازمت کے لیے گھر سے باہر قدم نکالا تھا اس دن سے آج تک میں بہت پریشانیوں سے گزری ہوں۔ گھر سے نکلتے ہی علاقے کے چند آوارہ لڑکے میرے پیچھے لگ جاتے ہیں، آوازے کستے ہیں اور نہایت غیر مہذب باتیں کرتے ہیں۔ بعض اوقات تو وہ میرا پیچھا کرتے کرتے میرے دفتر تک بھی آجاتے ہیں‘۔ سفینہ کہتی ہیں کہ جب لڑکی کے گھر والے اسے باہر کام کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں تو معاشرہ انہیں اس کی اجازت کیوں نہیں دیتا۔ کئی خواتین گھر کے مالی حالات سے تنگ آکر مجبوری کے تحت ملازمت کرتی ہیں جہاں ساتھیوں یا افسران کا رویہ ان کے لیے پریشانی کا باعث بنتا ہے اور ان کی مجبوری کا استحصال کیا جاتا ہے۔ بیشتر خواتین ان مسائل کو خاموشی سے جھیلتی ہیں کیونکہ اس پر آوازاٹھانے سے انہیں مزید مسائل آگھیرتے ہیں۔ اگر ایک خاتون اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے میں ناکام ہوجائے، تو اسے نہ صرف ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں بلکہ قصوروار بھی وہی ٹھہرائی جاتی ہے۔ دوسری طرف اس کے گھر والے ایسے حالات کے بارے میں جان کر اس کے گھر سے باہر نکلنے یا ملازمت کرنے پر بھی پابندی عائد کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسئلے میں گھری عورت اپنے حالات سے سمجھوتہ کرلیتی ہے۔
تاہم چند خواتین ایسی بھی ہیں جنہوں نے ایسے رویے کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ صائمہ ظہور اسلام آباد کی ایک صحافی ہیں۔ کچھ دن پہلے انہوں نے اپنے ایک پراجیکٹ کے لیے وزارت ماحولیات کے ایک افسر سے رابطہ کیا جنہوں نے بقول صائمہ، فون پر کافی غیر شائستہ زبان استعمال کی۔ بعد میں صائمہ ان کے دفتر گئیں اور ان کے رویے پر احتجاج کیا۔ صائمہ نے بتایا ’انہوں نے پھر میرے ساتھ بدتمیزی کی اور میرے روکنے پر تو تڑاک پر اتر آئے حتٰی کہ انہوں نے مجھ پر ہاتھ بھی اٹھایا۔ کمرے میں ایک اور شخص بھی تھا جو اسے باہر لے گیا۔ دونوں نے باہر جاکر کنڈی لگادی۔ میں ڈر گئی اور میں نے فوری طور پر اپنے موبائیل سے پولیس کو فون کیا۔ پولیس آگئی جس کے بعد وہ دونوں افسران میری منتیں کرنے لگے کہ میں ان کے دفتر سے نکل جاؤں‘۔ صائمہ کا کہنا ہے کہ بات بڑھتے بڑھتے سینیٹ تک گئی جہاں اس واقعے پر بحث اور احتجاج کیا گیا جس کے بعد انکوائری ہوئی اس افسر کو معطل کردیا گیا۔ دوسری جانب وزارت ماحولیات کے سیکرٹری جاوید حسن علی کا کہنا تھا ’یہ واقعہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس افسر نے ان خاتون کے ساتھ کوئی بدتمیزی نہیں کی تھی۔ پہلی بات تو یہ کہ وہ ماحولیات کے وزیر سے مل چکیں تھیں تو انہیں اس افسر کے پاس جانے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ پھر وہ وہاں گئیں اور ان افسر سے اصرار کیا کہ میں آپ سے اکیلے میں بات کروں گی۔ جب وہ اس پر راضی نہ ہوا تو انہوں نے پیپر ویٹ سے کمرے کا شیشہ توڑدیا، فون کی تاریں کھینچیں اور کمرے کا دروازہ بند کردیا‘۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کوئی اکیلی لڑکی دو افراد کی موجودگی میں کمرے کا دروازہ بند کرسکتی ہے یا ان سے لڑنے کا سوچ سکتی ہے تو ان کا کہنا تھا ’بیشتر لڑکیاں تو ایسا نہیں کریں گی تاہم اگر آپ کسی خاص ایجنڈے کے تحت کچھ کرنا چاہتے ہیں تو یہ ناممکنات میں سے بھی نہیں‘۔ جاوید حسن علی کہتے ہیں کہ انکوائری ضرور ہوئی تھی لیکن اس افسر کے خلاف کچھ ثابت نہیں ہوسکا اور انہیں معطل بھی نہیں کیا گیا۔ قصہ مختصر، سرکاری انکوائری صائمہ کے حق میں ثابت نہ ہوسکی۔ صائمہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں عورت کو انسان نہیں بلکہ ’ایک چیز‘ سمجھا جاتا ہے۔ ’ہم خواتین کی ترقی کی بات تو کرتے ہیں لیکن ہم نے خواتین کی ویلفیئر منسٹری قائم کرکے ملک کی آدھی آبادی کے مسائل کو اس میں پھینک دیا ہے۔ ہم عورت کو ایک فرد کیوں نہیں تسلیم کرتے؟ اگر عورت کی سوچ میں تبدیلی کی ضرورت ہے تو مردوں کی سوچ کی تبدیلی کی ضرورت اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ مردوں کی ویلفیئر منسٹری کیوں نہیں ہے۔‘ پاکستان کی چند غیر سرکاری تنظیموں نے دفاتر میں خواتین کے خلاف جنسی ہراس کے خلاف ’الائنس اگینسٹ سیکچول ہراسمنٹ‘ یا آشا کے نام سے ایک اتحاد بنایا ہے۔ آشا نے کچھ عرصے پہلے ملازمت پیشہ خواتین کا ایک سروے کیا جس کے مطابق 78 فیصد خواتین دفاتر میں ایسے مسائل کا شکار ہیں جبکہ اکیس فیصد اس موضوع پر بات ہی کرنا پسند نہیں کرتیں۔ یہ مسئلہ اتنا گھمبیر ہونے کے باوجود بھی دفاتر میں خواتین کے تحفظ کے لیے کوئی قانون مخصوص نہیں کیا گیا۔ چند غیر سرکاری تنظیمیں اس کوشش میں ہیں کہ ایسا ہی ایک قانون آئین میں شامل کیا جائے۔ مگر کیا یہ ممکن ہوسکے گا؟ اس بارے میں حکام کیا کہتے ہیں؟ کیا وہ مانتے ہیں کہ یہ مسئلہ اتنا بڑھ چکا ہے؟ یہ سب آپ جان سکیں گے اس سلسلے کی اگلی کڑی میں۔ اس سلسلے کے گزشتہ حصے پڑھنے کے لیے کلک کریں: ---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- محمد یوسف، دبئی فرزانہ اسلم، کینیڈا خالد شاہین، جرمنی آفاق اعوان، مانسہرہ جمال شمسی، متحدہ عرب امارات محمد فیصل، کینیڈا |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||