’پولیس کی پہلی خاتون سربراہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں پہلی بار کسی خاتون کو ملک کی کسی ریاست میں پولیس کا سربراہ بنایا گیا ہے۔ کنچن چوھدری بھٹاچاریہ انیس سو تہتر میں انڈین پولیس سروس یعنی آئی پی ایس کا حصہ بنیں۔ منگل کو ان کی اترانچل کی ریاست میں پولیس سربراہ کی حیثیت سے تعیناتی کا حکم نامہ جاری کیا گیا تھا۔ ریاست اترانچل کا قیام ساڑھے تین سال قبل ہوا تھا اور کنچن چودھری وہاں پولیس کی تیسری ناظم اعلیٰ ہیں۔ ریاست کے اعلیٰ پولیس حکام کے ساتھ پہلے اجلاس میں کنچن چودھری نے کہا کہ ’ جو لوگ بھی پولیس میں رہتے ہوئے غلط کام کر رہے ہیں وہ سیدھے راستے پر آ جائیں ورنہ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے اور میں ایکشن لینے میں دیر نہیں کروں گی‘۔ انہوں نے کہا ’میں سخت نہیں ہوں، جذباتی ہوں‘۔ کنچن چودھری کا کہنا ہے کہ اترانچل کے الگ ریاست بننے کے بعد وہاں امن و امان کی صورتحال اچھی نہیں رہی اور ان کوشش ہوگی کہ لوگوں کا پولیس پر اعتماد بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی تکالیف دور کرنے کے ساتھ ساتھ وہ پولیس اہلکاروں کے مسائل دور کرنے کی بھی کوشش کریں گی۔ کنچن چودھری کے شوہر ایک بڑے صنعتکار ہیں اور ان کی دو بیٹیاں لندن میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||