BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 November, 2004, 11:46 GMT 16:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دارالامان میں بھی امان نہیں‘

News image
’دارالامان میں موجود لڑکیوں نے مجھے کہا تھا کہ یہ اچھی جگہ نہیں ہے‘
’میرا شوہر مجھ پر بہت ظلم کرتا تھا۔ وہ مجھ سے عمر میں بہت بڑا تھا اور اس کی پہلی بیوی سے اس کے سات بچے تھے۔ وہ اس کی بیوی مل کر مجھ پر تشدد کرتے تھے۔ میں تنگ آکر ایک دن گھر سے باہر نکل گئی۔ میرا شوہر کہنے لگا میں تجھے کاری کرکے مار ڈالوں گا، تُو گھر سے باہر کیوں گئی۔ میرے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ میں پولیس سٹیشن گئی۔ وہاں سے انہوں نے مجھے عدالت بھیج دیا جہاں مجھے حیدرآباد کے دارالامان بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مگر دارالامان میں بھی میرے ساتھ کچھ اچھا سلوک نہیں ہوا۔ وہاں پر موجود انچارج خاتون اور آیا لڑکیوں کو پانی میں نشے کی گولیاں ملادیتی تھیں اور پھر ان کو رات کو خراب کام کے لیے باہر بھیجا جاتا تھا۔ ہم مجبور تھے۔ ہمارے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔ مگر عزت تو سب ہی کو پیاری ہوتی ہے۔ ہم بالآخر وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اور اس طرح کراچی پہنچے ہیں‘۔

یہ تھی سلمٰی کی کہانی جس کا تعلق اندرون سندھ سے ہے۔ سلمٰی ان سات لڑکیوں میں شامل ہے جو کچھ عرصہ قبل حیدرآباد کے دارالامان سے فرار ہوکر کراچی میں پناہ نامی ایک نجی شلٹر ہاؤس پہنچی تھیں۔

پناہ
پولیس کے کہنے پر ان لڑکیوں کو پناہ میں رکھا گیا

پناہ کی سربراہ ڈاکٹر حبیبہ نے بتایا ’یہ ساتوں لڑکیاں مختلف مجبوریوں اور وجوہات کے باعث حیدرآباد کے دارالامان میں تھیں لیکن ان کا الزام ہے کہ وہاں ان سے غلط کام کروایا جاتا تھا اور مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ یہ لڑکیاں دارالامان سے بھاگ کر دادو پولیس سٹیشن پہنچیں جہاں سے انہیں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی حیدر آباد برانچ بھیج دیا گیا۔ ایچ آر سی پی نے ہم سے رابطہ کیا۔ اس طرح یہ لڑکیاں یہاں ہمارے پاس پناہ شلٹر ہاؤس آئی ہیں‘۔

 میں کسی نہ کسی طرح واپس اپنے گھر پہنچ گئی مگر گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنی مرضی سے گئی تھی اس لیے مجھے کاری کرکے مار دیا جائے گا۔ اس وقت میری بہن نے میری مدد کی اور کہا کہ تم یہاں سے بھاگ جاؤ
بشیراں

انہیں میں شامل ایک اور لڑکی بشیراں نے یوں اپنی آپ بیتی بیان کی ’میری ایک دوست ایک دن میرے پاس آئی اور کہنے لگی چلو سیر کو چلتے ہیں۔ ہم اکثر گھومنے پھرنے باہر جایا کرتے تھے۔ ہم اس دن سہون شریف چلے گئے۔ وہاں اس نے مجھے چائے پلائی جس میں نشہ تھا۔ میں بیہوش ہوگئی۔ مجھے ہوش آیا تو میں ایک کوٹھڑی میں قید تھی۔ وہاں وہ آدمی دیگر دو آدمیوں کے ساتھ روز آتا تھا اور میرے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی تھی۔ مجھے ایک ماہ تک وہاں قید رکھا گیا پھر وہ تینوں مجھے چھوڑ کر بھاگ گئے۔ میں کسی نہ کسی طرح واپس اپنے گھر پہنچ گئی مگر گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنی مرضی سے گئی تھی اس لیے مجھے کاری کرکے مار دیا جائے گا۔ اس وقت میری بہن نے میری مدد کی اور کہا کہ تم یہاں سے بھاگ جاؤ۔ اس نے فرار ہونے میں میری مدد کی۔ میں پولیس کے پاس گئی اور اس طرح دارالامان پہنچادی گئی۔ مگر دارالامان میں جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا وہ ناقابل بیان ہے۔ ہم لوگ پناہ حاصل کرنے وہاں گئے تھے مگر ہماری عزت وہاں بھی محفوظ نہیں رہ سکی‘۔

ڈاکٹر حبیبہ
’لڑکیوں کے ساتھ پوچھ گچھ کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ ان کو پیسوں کا لالچ دے کر لے جایا جاتا تھا‘

نسیم کی کہانی بھی کچھ مختلف نہیں ہے ’میرے گھر والے مجھ پر بہت ظلم کرتے تھے، خاص طور پر میری بہن اور بہنوئی۔ میں ان کے ظلم سے تنگ آکر گھر سے نکلی تھی۔ میں سیدھی پولیس سٹیشن آئی اور پولیس کو سب کچھ بتادیا۔ پولیس نے مجھے عدالت بھیج دیا۔ جج نے پوچھا کہاں جاؤ گی۔ میں نے کہا میں اپنے گھر تو واپس نہیں جاؤں گی، میں مزید ظلم نہیں سہہ سکتی۔ انہوں نے مجھے دارالامان بھجوادیا۔ جب میں وہاں پہنچی تو یہاں موجود لڑکیوں نے مجھے کہا کہ یہ اچھی جگہ نہیں ہے یہاں لڑکیوں سے غلط کام کروایا جاتا ہے تم اپنے آپ کو بچا لو اور گھر واپس چلی جاؤ۔ میں نے ان کی باتوں پر یقین نہ کیا۔ کئی لڑکیاں تو رو بھی رہی تھیں۔ ایک ہفتہ میں وہاں ٹھیک رہی مگر اس کے بعد وہاں کی نگران خواتین نے مجھے شربت میں نشہ ملا کر پلادیا۔ پھر رات کو دارالامان سے باہر کسی آدمی کے پاس بھیج دیا۔ ایک دفعہ تو دارامان کے اندر بھی ایک لڑکے کو بلوایا گیا تھا۔ چند دن بعد میری طبیعت بہت خراب ہوگئی۔ جب میں نے وہاں کے عملے کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ فکر کی کوئی بات نہیں۔ تم امید سے ہو۔ ہم صورتحال سنبھال لیں گے ‘۔

ان لڑکیوں کے لیے دارالامان سے فرار ہونا کچھ آسان نہیں تھا۔ انہیں میں سے ایک لڑکی نذیراں نے ہمت کی اور کھڑ کی توڑ کر باقی چھ کو بھی باہر نکالا۔

پناہ
اس شلٹرہاؤں میں لڑکیوں کو ہر طرح کی آزادی ہے: ڈاکٹر حبیبہ

نذیراں نے بتایا ’کھڑکی کے بولٹ کمزور تھے اور روشن دان بھی تھا۔ میں نے سارے شیشے توڑ کر وہاں سے ان لوگوں کو نکالا تھا‘۔ نذیراں کہتی ہے کہ وہ طلاق کے مسئلے کے لیے گھرسے نکلی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کا شوہر عمر میں اس سے بہت ہی چھوٹا تھا البتہ اسکا باپ نذیراں پر بہت ظلم کرتا تھا۔

باقی دو کی کہانی بھی کچھ مختلف نہیں ہے البتہ تیسری کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ زیادہ خوش شکل نہیں تھی اور عمر میں بھی باقیوں سے بڑئ تھی اس لیے وہ اس کارروائوں سے محفوظ رہی البتہ دیگر لڑکیوں کو اس کی آنکھوں کے سامنے دارالامان سے باہر بھیجا جاتا تھا۔

دارالامان عموماً ایسہ جگہ ہوتی ہے جہاں سے خواتین عدالتی کارروائی کے بغیر واپس نہیں جا سکتیں۔ ڈاکٹر حبیبہ کا کہنا ہے ’دارالامان سب جیل کی طرح ہوتا ہے۔ جہاں لڑکیاں چلی تو جاتی ہیں مگر باہر نکلنا ان کی اپنی مرضی پر منحصر نہیں ہوتا جبکہ اس شلٹرہاؤں میں انہیں ہر طرح کی آزادی ہے‘۔

یہ سات خواتین اب بھی پناہ میں موجود ہیں۔ ان کے مقدمات عدالت میں چل رہے ہیں۔ دوسری جانب ان واقعات میں ملوث دارالامان کی انچارج خاتون اور دیگر عملے کو معطل کردیا گیا ہے۔ ان افراد نے ضمانت قبل از گرفتاری بھی لے رکھی ہے۔

 چند دن بعد میری طبیعت بہت خراب ہوگئی۔ جب میں نے وہاں کے عملے کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ فکر کی کوئی بات نہیں۔ تم امید سے ہو۔ ہم صورتحال سنبھال لیں گے

ڈاکٹر حبیبہ نےیہ بھی بتایا کہ لڑکیوں کے ساتھ پوچھ گچھ کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ ان کو پیسوں کا لالچ دے کر لے جایا جاتا تھا جس پر وہ خود بھی راضی ہوگئی تھیں لیکن بعد میں پیسے نہ ملنے پر انہوں نےوہاں سے بھاگنے کا ارادہ کیا۔

اس بات سے قطع نظر کہ ان تمام کارروائیوں میں ان لڑکیوں کی مرضی تھی یا نہیں، سرکاری دارالامان کے اندر ایسے واقعات کا ہونا بلاشبہ حکومت کی نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دارالامان یعنی جائے امان میں بھی تحفظ نہیں!

یہ صورتحال ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ کسی ادارے یا حکومت ہی کے لیے نہیں بلکہ معاشرے کے ہر ایک فرد کے لیے۔ اس بارے میں ملک کے پڑھے لکھے نوجوان کیا سوچتے ہیں؟ کیا وہ اس مسئلہ کی سنگینی سے باخبر ہیں؟ کیا وہ اس موضوع پر بات بھی کرنا چاہتے ہیں؟ نوجوانوں کے خیالات جاننے کے لیے اس سلسلے کی اگلی کڑی پڑھنا نہ بھولیے گا۔

(اس رپورٹ میں لڑکیوں کے اصلی نام استعمال نہیں کیے گئے)

اس سلسلے کے گزشتہ حصے پڑھنے کے لیے کلک کریں:



پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد