’چار دیواری کیا دے گی پناہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’میں نے چند ماہ پہلے اپنے بیٹے کی شادی کی تھی۔ میری بہو میرے شوہر کی بھانجی بھی ہے۔ کچھ دن سے میرا بیٹا ہم سے اکھڑا اکھڑا سا تھا۔ پھر ایک دن اچانک ہی کہنے لگا کہ میں الگ ہورہا ہوں۔ مجھ میں اب اور برداشت نہیں ہے۔ میں نے پوچھا ایسا کیا ہوگیا تو کہنے لگا میری بیوی کی عزت اس گھر میں محفوظ نہیں ہے۔ میرا باپ اس کی عزت پر ہاتھ ڈالتا ہے۔ میں نےاپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ میں مزید یہاں نہیں رہ سکتا۔ میں نے اپنے بیٹے کی بات پر یقین نہیں کیا۔ میرا خیال تھا کہ یہ تو اس کی بیٹی کی طرح ہے ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے میری بہو نے جو کچھ بتایا وہ سچ نکلا۔ وہ کہتی تھی کہ تنہائی میں کئی بار اس نے میری آبرو ریزی کی کوشش کی۔ میں نے بڑی مشکل سے اپنی عزت بچائی ہے میں اب تک اس وجہ سے چپ تھی کہ ایک گھر برباد ہوجائے گا‘۔ ’جب یہ سارا معاملہ میرے شوہر کے سامنے رکھا گیا تو وہ انکار نہ کرسکا۔ کہنے لگا میں تو بہو کو آزما رہا تھا۔ جب میں نے اس کے رویے پر احتجاج کیااور اسے برا بھلا کہا تو اس نے مجھے طلاق دے کر گھر سے نکال دیا۔ مجھے طلاق بھی ہوئی اور یہ الزام بھی میرے سر آیا کہ میں نے اپنے شریف شوہر پر بہتان لگایا کیونکہ اسکی شکل اور عمر ایسی ہے کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ اتنا غلط کام بھی کر سکتا ہے‘۔ یہ کہانی صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کی ہے اور ان کی خواہش ہے کہ ان کا نام ظاہر نہ کیا جائے۔ رشتوں کا تقدس پامال کرنے کی کہانی کئی گھروں کی کہانی ہے مگر ایسے معاشرے میں جہاں جنسی تشدد پر بات کرنا ہی دشوار ہے وہاں بیشتر لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہیں کہ گھر کی چار دیواری میں بھی یہ جرم ہوتا آیا ہے۔
اسلام آباد کی ایک غیر سرکاری تنظیم پروگریسو وومن ایسوسی ایشن نے ’آسرا‘ کے نام سے معاشرے کی ستائی ہوئی خواتین کو پناہ دینے کے لیے ایک سینٹر قائم کیا ہے۔ ادارے کی سربراہ شہناز بخاری کا کہنا ہے کہ آسرا میں پناہ لینے والی بیشتر خواتین ایسے ہی مسائل لے کر آتی ہیں۔ انہوں نے ایسے ہی ایک واقعے کے بارے میں بتایا: ’اسلام آباد میں نیوی کا کوئی ادنٰی ملازم تھا جو اپنی بیٹی کے ساتھ زیادتی کرتا تھا۔ اس کی ماں نہایت پریشانی کے عالم میں میرے پاس آئی تھی۔ اس نے بتایا کہ اس کی بارہ سالہ بیٹی بہت خوبصورت ہے۔ اس کا باپ کئی بار اس کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرچکا ہے۔ میں نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے۔ آپ میری بیٹی کو بچالیں۔ میں نے اس کو طریقہ کار بتایا کہ اس سلسلے میں ہم وکیل کرسکتے ہیں، اس کے شوہر کے افسران سے بات کرسکتے ہیں۔ مگر وہ ڈرتی تھی۔ کہتی تھی کہ میرے سر کا سائیں ہے، مجھے طلاق دے دے گا۔ میں نے کہا تیرے سر کا سائیں ہے مگر کل کلاں کو تیری بیٹی کے ساتھ کچھ کردیا تو پھر۔ کہنے لگی باجی یہ بھی سوچتی ہوں پر کیا کروں طلاق نہیں لے سکتی۔ میرے بھائی مجھے گھر میں بھی نہیں گھسنے دیں گے۔ وہ کہتے ہیں خبر دار شوہر کو کبھی نہ چھوڑنا۔ مرتی مرجا لیکن ہمیں طلاق گوارہ نہیں ہے‘۔ معاشرے کی روایات اتنی مضبوط ہیں کہ وہ بڑی آسانی کے ساتھ ایسے جرائم پر پردہ ڈال دیتی ہیں۔ بیٹیوں کی قربانی پرانے زمانے ہی کا تصور نہیں ہے، آج بھی کچھ مائیں اپنی بیٹیوں کو معاشرے کی روایات پر قربان کردیتی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے سکینہ نامی ایک عورت اسی مسئلے کے ساتھ اسلام آباد آئی تھی۔ اس نے اپنی بیٹی کے ساتھ آسرا میں پناہ لی تھی۔ شہناز بخاری نے بتایا ’اس نے بتایا تھا کہ اس کا شوہر اپنی ہی تین بیٹیوں کے ساتھ زیادتی کرچکا تھا اور چاہتی تھی کہ اسکی چوتھی بیٹی محفوظ رہے۔ وہ دو ماہ آسرا میں رہی۔ پھر ایک روز پگڑیوں اور دھوتی والے پندرہ بیس افراد میرے دفتر کے آگے جمع ہوگئے اور کہنے لگی ہماری عورت اور بچی کو ہمارے حوالے کریں۔ میں نے کہا میں نے انہیں قید نہیں کیا ہے۔ ہاں اگر وہ خود یہاں سے نہ جانا چاہیں تو انہیں کوئی مجبور نہیں کرسکتا۔ بحرحال انہوں نے کسی نہ کسی طرح سکینہ کو راضی کرلیا اور وہ اپنی بیٹی کو لے کر چلی گئی۔ بیٹی نے بہت احتجاج کیا مگر ماں کہنے لگی میں نے پہلے بھی تجھے بچایا تھا اگر اب بھی کچھ ہوا تو میں تجھے لے کر بھاگ جاؤں گی۔ ان کے جانے کے کوئی دس دن بعد اس لڑکی کا منگیتر روتا پیٹتا میرے دفتر میں آگیا اور کہنے لگا باجی جی میں نے آپ کو منع کیا تھا انہیں نہ جانے دیں۔ میری شازیہ کو انہوں نے مارڈالا‘۔
راولپنڈی کی ایک وکیل ناہیدہ محبوب الٰہی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسی پریشان کن تفصیلات والے بے شمار کیس آتے ہیں۔ بہت قریبی رشتہ دار اس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ایسی بات پر یقین نہیں کرتا۔ جج اور وکلاء سب سمجھتے ہیں کہ ایسے معاملات کو ہم بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ ’ کئی مرتبہ تو میڈیکل رپورٹس پازیٹو آنے کے بعد بھی زیادہ تر وکلاء ایسے واقعات پر یقین نہیں کرتے۔ آخر وہ سب مرد کی برتری کے علمبردار لوگ ہیں اور یوں بھی ہمارا معاشرہ تو ہے ہی مرد کی برتری کا معاشرہ‘۔ خواتین کے خلاف جنسی تشدد پر بات کرنے کا مطلب کئی لوگ مرد و عورت کی محاذ آرائی سمجھتے ہیں جو صحیح تاثر نہیں ہے۔ یہ دو صنفوں کی جنگ نہیں ہے بلکہ صحیح اور غلط کی بحث ہے۔ کئی مرتبہ عورت ہی عورت کو اس دلدل میں دھکیلنے میں حصہ دار ہوتی ہے۔ ایسا ہی کچھ اندرون سندھ کی چند خواتین کے ساتھ ہوا۔ عورت ہی عورت کی دشمن کیسے ہوئی؟ اور کیسے انہیں اس گھناؤنی دلدل میں دھکیلا گیا۔ یہ سب آپ پڑھ سکیں گے اس سلسلہ کی اگلی کڑی میں۔ اس سلسلے کے گزشتہ حصے پڑھنے کے لیے کلک کریں: |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||