BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 March, 2004, 17:45 GMT 22:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عورتوں کے مسائل پر سودے بازی کب تک

پاکستانی خواتین اپنے مسائل سے وابسطہ درست شرعی تشریح چاہتی ہیں۔
اس سال کے یوم نسواں کی تحریک کا موضوع عورتوں پر تشدد کی مخالفت ہے۔
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آٹھ مارچ کو عورتوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔عورتوں کے حقوق کی پامالی اور ان کے خلاف حقوق نسواں کی تنظیموں کے بیانات اور کوششوں سے متعلق خبریں پاکستانی اخبارات میں آۓ دن چھپتی رہتی ہیں تو کبھی حکومت ان پر کان دھرتی ہے اور کبھی جواب ندارد!

اس سال مناۓ جانے والے عالمی یوم نسواں اور پاکستانی خواتین کو درپیش مسائل پر پا کستان کی سابق وزیر قانون شاہدہ جمیل کا کہنا ہے کہ ملک میں عورتوں کے ساتھ مذہب کے نام پر ہونے والی زیادتیوں کی بڑی وجہ کئی غیر اسلامی روایات ہیں، اور تقریباً تیس برسوں سے ملک میں ان روایات کے خلاف خواتین کی تنظیمیں مہم چلا رہی ہیں لیکن اسی دوران کئی ایسے قوانین بنتے رہے جو خواتین کے حقوق کے منافی ہیں جیسے زنا آرڈیننس اور حدود کے قوانین، جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

 صلاح کے نام پر مجرمان کا معاف کیا جانا اور عورت کو میراث سمجھنا اسلام کی رو سے درست نہیں۔
مولوی حسن جان پشاور

ان قوانین کے استعمال اور ان پر عملدرآمد میں مختلف پیچیدگیوں کی وجہ سے معاشرے میں عورتوں کے تشخص اور حقوق کے حصول میں دشواریاں پیدا ہوتی چلی گئیں۔

اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لۓ جو فضا درکار تھی، حکومتیں وہ قائم کرنے میں ناکام رہیں۔ اور اس میں تبدیلی فوری نہیں رفتہ رفتہ لانے کی کوشش ضروری ہے ۔ اس کے علاوہ شرعی لحاظ سے اب تک خواتین کے لۓ قوانین کی تشریح بڑا مسئلہ رہی ہے۔

لیکن حقوق انسانی کی سرگرم وکیل اور خواتین کے مسائل کے حل کی علمبردار حنا جیلانی کے مطابق موجودہ حکومت جو گزشتہ چار برسوں سے آئین میں بقول حنا جیلانی بے دریغ تبدیلیاں کرتی آ رہی ہے کیا وہ خواتین کے حقوق سے متلعق قوانین پر نظر ثانی کرتے ہوۓ انہیں تبدیل نہیں کر سکتی تھی۔

ان کے مطابق ضیا الحق کے دور سے اور اس کے بعد بھی جتنی حکومتیں آئیں، سبھی میں عورتوں کے حقوق سے متعلق مسائل کو سودے بازی کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

 موجودہ حکومت جو گزشتہ چار برسوں سے آئین میں بے دریغ تبدیلیاں کرتی آ رہی ہے کیا وہ خواتین کے حقوق سے متلعق قوانین پر نظر ثانی کرتے ہوۓ انہیں تبدیل نہیں کر سکتی تھی؟
حنا جیلانی

موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوۓ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت خواتین سے متعلق صرف ان ہی مسئل پر توجہ دیتی ہے جو میڈیا کے ذریعے سامنے آ رہے ہیں۔

ان کی راۓ میں بیس برسوں کی کوشش سے اتنا ضرور ہوا ہے کہ آج وہ اپنے مسائل پر بات کرنا جانتی ہیں اور بات کرنے میں وہ جھجک نہیں رہی ہے جن کا ماضی میں ان کو سامنا رہتا تھا۔

کارو کاری یا عزت کے نام پر پاکستان میں عورتوں کے قتل پر حنا جیلانی نے خواتین کے وارثوں کے ہاتھوں ہونے والے ایسے قتل میں ان کی معافی پر ملک میں رائج قصاص اور دیت کے شرعی قانون کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

انہی قوانین کی شرعی وضاحت پر پشاور کی درویش مسجد کے خطیب مولوی حسن جان کا کہنا تھا کہ جنسی زیادتی کا شکار ہو جانے والی خاتون کے مقدمے سے وابستہ شواہد فراہم کۓ جانے سے متعلق شرائط پر ان کے تحفظات ہیں لیکن بقول مولوی حسن جان، اسلام میں عورت کا رتبہ اور اس کی تقدیس واضح الفاظ میں کی گئی ہے۔

’صلاح کے نام پر مجرمان کا معاف کیا جانا اور عورت کو میراث سمجھنا اسلام کی رو سے درست نہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا بعض قبائل میں کیا جاتا ہے لیکن یہ اسلام کو بدنام کرنے کا طریقہ ہے نہ کہ شرعی قوانین کو استعمال کرنے کا۔

اس دن کے حوالے سے پاکستان کی حقوق نسواں سے متعلق غیر سرکاری تنظیموں کی کوششوں کی مزید وضاحت کرتے ہوۓ ایکشن ایڈ نامی غیر سرکاری تنظیم کی نازش بروہی نے موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو اس حد تک ضرور سراہا کہ کم ازکم مشرف حکومت کے دور میں حقوق نسواں پر سرکاری سطح پر توجہ دی جا رہی ہے۔

پچھلے برس آٹھ مارچ سے اب تک کا جائزہ لیتے ہوۓ نازش بروہی کا کہنا تھا چونکہ اب سرکاری سطح پر ان کی مذمت کی جاتے رہی ہے تو اس سے ان مسائل پر واضح طور پر توجہ دی جانی شروع ہو رہی ہے۔

لیکن ان نظریات کا قابل عمل بنایا جانا ہی واضح کر سکے گا کہ آیا موجودہ حکومت حقوق نسواں کو سمجھنے اور ان کے حل پر آمادہ ہے یا نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد