BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 November, 2004, 23:29 GMT 04:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب:لڑکیوں سے امتیازی سلوک
پنجاب میں لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک
پنجاب میں لڑکیوں کی شرح اموات زیادہ ہے
بھارت کی شمالی ریاست پنجاب میں عورتوں کے خلاف امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے یہ بات حکومت کی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

ریاستی وزیر اعلی ارمندر سنگھ کی جانب سے جاری ہونے والی اس رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ ریاست میں جنس کی بنیاد پر امتیازی سلوک برتنے کا سلسلہ جاری ہے ۔

جس میں خواندگی کی شرح میں واضح فرق ، جائیداد میں عورتوں کا بہت محدود حق اور بچے کی پیدائش کے وقت لڑکے کو ترجیح دینے جیسے واقعات عام ہیں۔

رپورٹ میں پیش کیے جانے والے اعدادو شمار سے گھروں میں لڑکوں کے مقابلے لڑکیوں کو نظرانداز کرنے اور شادی کے بعد عورتوں کو ان کے گھر والوں سے دور رکھنے کے رجحان کا بھی پتہ چلتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد کم ہے جو ایک مایوس کن تناسب ہے یعنی ہر ہزار لڑکوں کے مقابلے میں 874 لڑکیاں ہیں۔ اور اہم بات یہ سامنے آئی ہے کہ لڑکیاں جن میں پیدائش کے وقت جسمانی طور پر قوت مدافعت زیادہ ہوتی ہے ان کی شرح اموات زیادہ ہے ۔اور وہ بھی پیدائش سے چار سال کی عمر کے دوران ۔

وزیر اعلی نے کہا کہ وہ ریاست میں عورتوں کی اس حالت پر شرمندہ ہیں انہوں نے کہا ان کی حکومت حمل کے دوران یا پیدائش کے بعد نوزائیدہ بچیوں کو مارنے جیسی روایات کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔

مسٹر سنگھ نے اس سلسلے میں غیر سرکاری تنظیموں سے مدد کی اپیل بھی کی ہے

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد