’مخالف اشتہار بھی شائع کیے جائیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کالاباغ ڈیم کی حمایت میں اشتہارات شائع کروانے کی خواہشمند ہے تو اس کی مخالفت میں بھی اشتہار شائع کرائے جائیں کیونکہ یہ عوام کا پیسہ ہے جو عوام کو تقسیم کرنے پر خرچ نہیں کیا جاسکتا۔ کراچی پریس کلب میں پی ایف یو جے کا ایک اجلاس میں کالاباغ ڈیم کی حمایت میں اشتہار شائع کرنے سے انکار پر مستعفی ہونے والی خبروں اخبار کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل مظہر عباس نے کہا کہ’ ہم اخباری دفاتر پر حملے اور اخبارات کو نذرآتش کرنے کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ ہمارا سیاسی جماعتوں سے مطالبہ ہے کہ وہ قوت برداشت کا مظاہرہ کریں‘۔ انہوں نے کہا’ ہم سندھ کی سیاسی جماعتوں کو بلا کر بات چیت کریں گے اور اپنے کارکنان کو ایسا کرنے سے روکیں‘۔ مظہر عباس کے مطابق آنے والے دنوں میں اخبارات پر حکومت دباؤ میں اضافہ ہوگا کچھ ہی اخبارات ہوں گے جو یہ دباؤ برداشت کر پائیں گے۔ اس سلسلے میں اخبارات ایک سنجیدہ فیصلہ کریں اور درمیانی راہ اختیار نہ کریں۔ اس موقع پرخبرون اخبار کے مستعفی ہونے والے مدیر ظہیر میرانی اور ذلف پیرزادہ نے اپنے استعفے کی وجوہات بیان کیں۔ سندھی میڈیا فورم کے رہنما قاضی شاہ محمد نے اجلاس میں بتایا کہ فارغ ہونے والے صحافیوں کے روزگار کا مسئلہ فورم میں ہی حل کردیا جائےگا۔ | اسی بارے میں کالا باغ: حکومت، اپوزیشن ایک 15 December, 2005 | پاکستان بلوچستان: کالا باغ ڈیم پر تقسیم 17 December, 2005 | پاکستان کالاباغ ڈیم اور جنرل پرویز مشرف24 December, 2005 | پاکستان ’ کالا باغ ڈیم اتنا بڑا مسئلہ ہے نہیں‘23 December, 2005 | پاکستان ’ کالاباغ تو بنے گا، آگے کی بات کریں‘21 December, 2005 | پاکستان کالاباغ ڈیم، سندھی میڈیا اور اشتہارات 20 December, 2005 | پاکستان ’کالا باغ پر بھاشا کو فوقیت دی جائے‘28 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||