صحافی: احتجاجی جلوس اور دھرنا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں صحافیوں کی ایک تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس پی ایف یو جے نے شمالی وزیرستان کے صحافی حیات اللہ کی بازیابی اور اظہار رائےکی آزادی میں مبینہ حکومتی رکاوٹوں کے خلاف اسلام آباد اور کراچی میں احتجاجی جلوس نکالے اور اسلام آْباد میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا۔ ’پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ’پی ایف یو جے، نے حیات اللہ کی بازیابی کے لیے اقوام متحدہ سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے ان کے اسلام آباد میں موجود نمائندے کو یاداشت نامہ بھی پیش کیا۔ جلوس کے شرکاء کے ہاتھوں میں بڑے بینر اور کتبے بھی تھے جن پر حیات اللہ کو رہا کریں، میڈیا کو آزاد کریں، حکومتی پابندیاں ختم کریں جیسے مطالبات درج تھے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے صحافیوں کے ساتھ صحافی حیات اللہ کے بھائی اور تین معصوم بچوں کے علاوہ پشاور اور شمالی وزیرستان کے کچھ صحافی بھی جلوس میں شامل تھے۔ جلوس میلوڈی میں پریس کلب کیمپ آفس سے شروع ہوا جو پانچ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے بلیو ایریا میں واقع اقوام متحدہ کے دفتر پہنچا جہاں شرکاء نے اہم شاہراہ ’جناح ایوینیو، پر دھرنا دیا اور کافی دیر تک ٹریفک معطل رہا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار بھی موجود تھے لیکن کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس موقع پر پی ایف یو جے کے صدر پرویز شوکت، مرکزی رہنما سی آر شمسی اور فوزیہ شاہد اور کئی دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔ مقررین نے الزام لگایا کہ حکومتی ایجنسیوں نے حیات اللہ کو اغوا کیا ہے۔ ` گزشتہ تین ماہ سے وہ لاپتہ ہیں۔ انہوں نے ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ بھی کیا۔
ایک مقامی صحافی نے اس موقع پر دعویٰ کیا کہ حیات اللہ کو حکومت نے گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کردیا ہے۔ لیکن مرکزی رہنماؤں نے اس کی نفی کی اور کہا کہ یہ حکومتی حربے ہیں تاکہ معاملے سے توجہ ہٹائی جاسکے۔ مقررین نے حکومت پر تنقید کی اور ان کے خلاف سخت نعرے بھی لگائے۔ حیات اللہ کے معصوم بچوں نے اس موقع پر کہا کہ ’ہمارے ابو کہاں ہیں۔ ہمیں ان سے ملواؤ‘۔ واضح رہے کہ حیات اللہ کی بازیابی کے لیے پہلے بھی جلوس نکلے ہیں اور پارلیمان کی پریس گیلری سے صحافیوں نے واک آوٹ بھی کیے۔ لیکن ہر بار حکومت یہ یقین دہانی کراتی ہے کہ وہ متعلقہ حکام سے معلومات حاصل کر رہے ہیں اور اگر وہ حکومت کے پاس ہوئے تو انہیں جلد رہا کیا جائے گا۔ اس موقع پر ڈیرہ بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں صحافیوں کو جانے سے روکنے، لاڑکانہ میں ایک سندھی زبان کے ٹی وی چینل ’کے ٹی این کے، کے کیمرا مین حادی سانگی پر صوبائی وزیر الطاف انڑ کی جانب سے تشدد کرنے اور ان کا کیمرہ توڑنے اور کراچی میں ڈان گروپ کے ایک رپورٹر کو ہراساں کرنے کے خلاف مذمتی قرار دادیں بھی منظور کی گئیں۔
کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کراچی میں بھی صحافیوں کی جانب سے پریس کلب سے گورنر ہاؤس تک ریلی نکالی گئی،جس کی رہنمائی پاکستان یونین آف جرنلسٹ اور کراچی یونین آف جنرلسٹ کے رہنما مظہر عباس، ایوب جان سرہندی کر رہے تھے۔ جنہوں نے حیات اللہ کی بازیابی کا مطالبہ کیا اور گورنر سندھ کو ایک یادداشت پیش کی۔ | اسی بارے میں پشاور:صحافی کی بازیابی کیلیےمظاہرہ18 February, 2006 | پاکستان باجوڑ:صحافیوں کے داخلے پر پابندی17 January, 2006 | پاکستان مغوی صحافی کی بازیابی کے لیےمظاہرہ23 December, 2005 | پاکستان پشاور: ’صحافیوں کوتحفظ دیں‘20 December, 2005 | پاکستان پشاور:صحافی کی بازیابی کیلیےمظاہرہ17 December, 2005 | پاکستان بی بی سی صحافی کےگھرکےباہردھماکہ 16 December, 2005 | پاکستان صحافیوں پر فوج کی نئی پابندی12 December, 2005 | پاکستان صحافی کی گمشدگی کامعمہ11 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||