پشاور:صحافی کی بازیابی کیلیےمظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی وزیرستان سے ڈھائی ماہ سے لاپتہ صحافی حیات اللہ کی بازیابی کے لیے سنیچر کو پشاور میں مظاہرہ کیا گیا جس میں صحافیوں کے علاوہ ، انسانی حقوق کے کارکنوں اور وکلاء نے شرکت کی۔ مظاہرے میں حیات اللہ خان کے تین بچوں نے شرکت کی جنہوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا ’ہمارے ابو کو رہا کرو‘۔ انگریزی اخبار ’دی نیشن‘ اور بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے لیئے کام کرنے والے صحافی حیات اللہ خان گزشتہ برس پانچ دسمبر سے لاپتہ ہیں۔ موقع پر موجود لوگوں کے مطابق انہیں پانچ نامعلوم نقاب پوش افراد نے اغوا کر لیا تھا۔ تاہم یہ لوگ کون تھے یہ آج تک معلوم نہیں ہوسکا ہے۔ کئی اعلیٰ حکومتی اہلکار بھی اس کی بازیابی کے لیئے کئی مرتبہ یقین دہانیاں کرا چکے ہیں لیکن ابھی تک اس سلسلے میں بظاہر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ سنیچر کو پشاور پریس کلب میں اس مسلسل گمشدگی پر احتجاج کے لیئے منعقد اجلاس میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، خیبر اور ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس، وکلاء، حقوق انسانی کے کارکنوں اور اخبار فروش یونین کے اراکین نے شرکت کی۔ احتجاجی اجلاس سے خطاب میں مقررین نے اسے صدر جنرل پرویز مشرف اور گورنر سرحد خلیل الرحمان کی ذمہ داری قرار دیا کہ وہ لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سابق سربراہ افراسیاب خٹک نے اپنے خطاب میں کہا کہ واقعاتی شواہد سے یہ واضع ہوتا ہے کہ حیات اللہ کہاں ہے لیکن حکومت کو خود اس بارے میں وضاحت کرنی چاہیے۔ انہوں نے اس سلسلے میں دو بہنوں کی گمشدگی کا بھی ذکر کیا جو اخباری اطلاعات کے مطابق ’خودکش حملہ آور‘ تھیں۔ ان کے بارے میں بھی آج تک معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ کہاں ہیں۔ قبائلی صحافیوں کی تنظیم کے صدر سیلاب محسود نے کہا کہ سولہ مارچ دو ہزار تین میں شروع ہونے والے کلوشہ آپریشن کے بعد سے جو حالات خراب ہوئے ہیں وہ ابھی تک خراب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کی ہلاکتوں، گمشدگی اور نقل مکانی سے وہاں صحافت ختم ہو رہی ہے۔ وکلاء کے نمائندہ بیرسٹر باچہ اور اقبال مہمند نے بھی حکومت پر عوام کو تحفظ فراہم نہ کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے صحافیوں کو مشورہ دیا کہ وہ حکومت کو حیات اللہ خان کو بازیاب کرانے کے لیئے ایک مدت دیں جس کے بعد ان کی کوریج کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔ صحافیوں کو ملک گیر تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر پرویز شوکت نے اس احتجاج کو جاری رکھنے کا اعلان کیا اور حکومت کو دس مارچ تک کی مہلت دی۔ انہوں نے کہا کہ وہ حیات اللہ کی بازیابی کے لیئے عدالت سے بھی رجوع کریں گے۔ خیبر یونین آف جرنلسٹس کے انتخاب عالم اور اخبار فروش یونین کے صدر جعفر شاہ نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔ بعد میں اجلاس کے شرکاء نے پریس کلب سے گورنر ہاؤس تک احتجاجی مارچ کیا۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر حیات اللہ کی بازیابی اور صحافت کی آزادی کے لیئے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے ’صحافت کی آزادی تک گورنر کی بیداری تک جنگ رہے گی جنگ رہے گی‘ سمیت کئی دیگر نعرے بھی بلند کیئے۔ گورنر ہاؤس میں صحافیوں نے حکام کو ایک عرضداشت پیش کی جس میں حکومت سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لیئے کہا گیا تھا۔ | اسی بارے میں بی بی سی صحافی کےگھرکےباہردھماکہ 16 December, 2005 | پاکستان صحافی کی گمشدگی کامعمہ11 December, 2005 | پاکستان قبائلی علاقوں میں طالبان سرگرم09 December, 2005 | پاکستان وانا سے چار فوجی جوان اغواء07 December, 2005 | پاکستان صحافی کا اغوا، پریس کا احتجاج06 December, 2005 | پاکستان فاٹا کے صحافی برآمد نہ ہوسکے06 December, 2005 | پاکستان فاٹا میں صحافی کا اغواء05 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||