’فوجی حکمران سے ایوارڈ نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی صحافی عامر میر نے صدر جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں اے پی این ایس اعزاز وصول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ یہ اعزاز عامر میر کو سال کے بہترین رپورٹر کے طور پر انکے انگریزی ماہنامے ہیرالڈ میں شائع ہونیوالی ایک تحقیقی رپورٹ پر آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کی طرف سے دیا گیا تھا- اے پی این ایس کے صدر میر شکیل الرحمان کو اپنے ایک خط میں عامر میر نے کہا کہ وہ اصولی طور پر ایک فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں اپنا صحافتی اعزاز وصول کرنے سے قاصر ہیں جس نے ’ بار بار آئین کی خلاف ورزی کی ہے اور جسے ملک کے اعلی قوانین کا کوئی احترام نہیں-” عامر میر کے ایسے خط کی نقل انہوں نے اپنی ای میل میں یہاں امریکہ میں رہنے والے اپنے پاکستانی صحافی دوستوں کو بھی بھیجی ہے- اپنے اس خط میں عامر میر نے لکھا ہے کہ ’صحافت ایک معزز پیشہ ہے جسکی بنیاد آزادئ اظہار پر مبنی ہوتی ہے- اس کے برعکس اے پی این ایس کے اعزازات کی تقسیم کی تقریب کا مہمان خصوصی ایک فوجی آمر ہے جس کی نظر میں آزادی صحافت کے بنیادی اصول کا کوئی احترام نہیں کیونکہ بحیثیت فوجی ڈکٹیٹر نہ وہ آزادی اظہار میں یقین رکھتا ہے اور نہ ہی اختلاف رائے کو برداشت کرسکتا ہے‘۔ عامر میر نے اپنے اس خط میں لکھا: ’ اے پی این ایس کی تقریب میں ایک فوجی جنرل کے ہاتھوں میرا اعزاز وصول کیا جانا اے پی این ایس کےبیش بہا یادگار(سوینئیر) پر ایک دھبہ ہوگا‘۔ عامر میر نے فوجی صدر کے ہاتھوں اے پی این ایس کے جس صحافتی اعزاز کو وصول کرنے سے انکار کردیا ہے اس کی کی تقسیم کی تقریب جمعہ کی شام اسلام آباد میں ہوئی جس میں بہت سے صحافیوں اور اشتہاری شعبے سے وابستہ افراد کو صدر جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں یہ اعزازات دیے گئے۔ اے پی این ایس پاکستان میں اخباری مالکان اور صحافیوں کی ایک تنظیم ہے جسکی طرف سے صحافیوں اور اخبارات میں لکھنے والوں اور اشتہارات کے شعبے سے وابستہ افراد کو ان کی سالانہ بہترین کارگردگی پر اے پی این ایس ایوارڈ دیا جاتا ہے جسے پاکستان کا ایک اعلی صحافتی اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ یہ اعزاز اے پی این ایس ملکی (صدر) یا حکومتی سربراہ (وزیر اعظم) کے ہاتھوں ایک بڑی تقریب میں دلواتی ہے- لیکن ماضی میں صحافیوں کو دیے جانیوالے ایسے اعزاز کی وصولی متنازعہ بن گئی ہے جب صحافیوں نے فوجی یا سو ل حکومتی یا ملکی سربراہ سے ایسا اعزاز وصول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ماضی میں فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق، سول حمکرانوں بینظیر بھٹو اور نواز شریف سے بھی صحافیوں نے اپنے اے پی این ایس اعزازات وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ایسے صحافیوں میں ضمیر نیازی اور زاہد حسین کے نام شامل ہیں۔ |
اسی بارے میں پاکستان میں زلزلہ اور عالمی میڈیا10 October, 2005 | پاکستان میڈیا بِل: ثالثی کمیٹی کے پاس22 September, 2005 | پاکستان ’کشمیری تقسیم نہیں چاہتے‘01 December, 2004 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||