BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 December, 2005, 09:22 GMT 14:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ اور پاکستانی میڈیا کا کردار

ایف ایم چینل
متاثرہ علاقوں میں ایف ایم چینل بھی قائم کیے گئے
ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں زلزلہ آیا تو نو آموز الیکٹرانک میڈیا قوم کا واحد قائد ٹھہرا لیکن اس کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے نے کہیں کہیں اس سے ایسی غلطیاں بھی ہوئیں جس کے اثرات عام آدمی پر پڑے۔

پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کے چیئرمین شیخ مغیث الدین کے بقول ’پوری قوم قائد کے بغیر چل رہی تھی اور میڈیا اس کا لیڈر بن کر سامنے آیا۔اس نے نشاندہی کہ کیا ہورہا ہے اور یہ رہنمائی بھی کی کہ قوم کو کیا کرنا چاہیے‘۔

انہوں نے کہا کہ جب میڈیا مسئلہ کے ساتھ ساتھ اس کا حل بھی پیش کرئے تو پھر کہا جاتا ہے کہ میڈیا کا کردار مثبت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا نے صاحبانِ اختیار کو یہ بھی بتایا کہ ان کے کرنے کا کیا کام ہے اور وہ کیا کام نہیں کر رہے ہیں۔

ایک نجی یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کے چیئرمین ڈاکٹر مہدی حسن نےکہا کہ پاکستان میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی قدرتی آفت کی اس پیمانے پر براہِ راست یا فوری کوریج ہو سکی اور لوگوں کو میڈیا کہ وجہ سے ہی معلوم ہوا کہ کتنی بڑی تباہی ہوئی ہے اور زلزلے کے کیا اثرات تھے اور اسی کے نتیجے میں غیر معمولی امدادی کارروائی ہو پائی۔

 پاکستان میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی قدرتی آفت کی اس پیمانے پر براہِ راست یا فوری کوریج ہو سکی اور لوگوں کو میڈیا کہ وجہ سے ہی معلوم ہوا کہ کتنی بڑی تباہی ہوئی ہے اور زلزلے کے کیا اثرات تھے اور اسی کے نتیجے میں غیر معمولی امدادی کارروائی ہو پائی
ڈاکٹر مہدی حسن

پاکستان کے اردو اخبار نوائے وقت میں پچیس سال سے ریڈیو ،ٹی وی مانیٹرنگ کرنے والے سینئر صحافی کفیل احمد صدیقی کہتے ہیں کہ اگر دو سال پہلے یہ واقعہ ہوا ہوتا تو شاید اس قوم اور دنیا کو یہ معلوم ہی نہ ہو پاتا کہ کتنی بڑی تباہی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ ہی غیرملکی ذرائع ابلاغ اتنی دلچسپی لیتے اور نہ ہی سرکاری الیکٹرانک میڈیا وہاں جانے کی زحمت گوارا کرتا۔

کفیل صدیقی کا کہنا تھا کہ مقامی ٹی وی چینلز نے بین الاقوامی میڈیا کو مات دے دی ہے۔ وہ مثال دیتے ہیں کہ جب امریکی ریاست نیو آرلینز میں تباہی آئی تو جدید ترین سہولیات کے باوجود امریکی صحافی اتنی جلدی متاثرہ علاقے میں نہیں پہنچ پائے جتنی جلدی پاکستان میں زلزلہ آیا تو مقامی ٹی وی اور ریڈیو چینلوں کے نمائندے زلزلہ زدہ علاقوں میں پہنچ گئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی صحافی متاثرہ علاقوں میں ٹوٹی سڑکوں اور بدترین حالات میں بھی پہنچ کر رپورٹنگ کرتے رہے جبکہ امریکی صحافی کٹرینا طوفان کے تھم جانے اور راستے بحال ہونے کا انتظار کرتے رہے۔

کفیل احمد صدیقی نے کہا کہ اب جبکہ پاکستانی میڈیا نے زلزلے کی کوریج تقریباً چھوڑ دی ہے، بی بی سی ریڈیو وہ واحد چینل ہے جو اب بھی کوریج کرنے میں پیش پیش ہے اور آج بھی بتا رہا ہے کہ متاثرین کے کیا نت نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور کس کو کہاں مدد کی ضرورت ہے۔

متاثرہ علاقے میں قائم ایک عارضی ایف ایم شٹیشن

شعبہ ابلاغِ عامہ کے دونوں استاد، شیخ مغیث الدین اور ڈاکٹر مہدی حسن اس بات پر متفق ہیں کہ ناتجربہ کاری کی وجہ سے مقامی ٹی وی چینلوں نے کچھ ایسے کام بھی کیے جس کے منفی اثرات تھے لیکن کفیل صدیقی اس بات کونہیں مانتے۔

شیخ مغیث الدین کا کہنا ہے کہ’جب ساری لیڈر شپ میڈیا کے ہاتھ چلی گئی تو اس کی چھوٹی سی غلطی کا خمیازہ بھی پوری قوم نے بھگتا‘۔ ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا کہ پاکستان میں شروع ہونے والے نئے چینلز کے لیے کسی قدرتی آفت کی کوریج کا یہ پہلا تجربہ تھا اور اسی ناتجربہ کاری میں انہوں نے کچھ ایسی چیزیں بھی ٹی وی پر چلا دیں جنہیں نشر نہیں کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے مثال دی کہ ٹی وی پر لوگوں کو مرتے دکھایا گیا جو ان کے بقول نہ صرف صحافتی اخلاقیات کے منافی تھا بلکہ متاثرہ لوگوں کی ذاتیات اور ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی تھی۔

میڈیا کے مثبت کردار کے سامنے اس کا منفی کردار نہ ہونے کے برابر ہے اور چھوٹی موٹی غلطیاں تو بڑے بڑے بین الاقوامی ادارے بھی کر گزرتے ہیں
کفیل احمد

انہوں نے کہا کہ عراق میں آئے روز ہونے والی قتل وغارت گری کو امریکہ دہشت گردی کی کارروائی قرار دیتا ہے اور ان واقعات میں مرنے والوں کی لاشیں دکھا کر وہ بین الاقوامی سطح پر فائدہ اٹھا سکتا ہے لیکن مغربی ذرائع ابلاغ ایسا نہیں کر رہے جبکہ پاکستانی میڈیا نے بنا سوچے سمجھے لوگوں کو ان کے گھروں میں دم توڑتا دکھانا شروع کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ٹی وی چینلز کے پالیسی سازوں کو اب وقت ملا ہے اور انہیں تجربہ بھی ہوگیا ہے۔ اب انہیں چاہیے کہ وہ بیٹھ کر غور کریں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔

شیخ مغیث الدین کہتے ہیں کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات میں ایسے تعلیمی کورسز پڑھائےجائیں گے جن میں بتایا جائے گا کہ ان حالات میں ذرائع ابلاغ خود کو کیسے لائن اپ کریں جب ہر چیز تباہ ہوچکی ہو۔

 جب ساری لیڈر شپ میڈیا کے ہاتھ چلی گئی تو اس کی چھوٹی سی غلطی کا خمیازہ بھی پوری قوم نے بھگتا
شیخ مغیث الدین

کفیل احمد صدیقی کا کہنا ہے کہ میڈیا کے مثبت کردار کے سامنے اس کا منفی کردار نہ ہونے کے برابر ہے اور چھوٹی موٹی غلطیاں تو بڑے بڑے بین الاقوامی ادارے بھی کر گزرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی یاد رکھیں کہ اگر ذرائع ابلاغ متاثرہ لوگوں کے دکھ اور تکلیف کو اتنے زور دار انداز میں قوم اور دنیا کے سامنے نہ پہنچاتا تو متاثرہ لوگوں کو اتنی مدد نہ مل سکتی جتنی مل گئی ہے۔
اسی بارے میں
کشمیر کی فراموش وادی
20 December, 2005 | پاکستان
زلزلہ: دو ماہ بعد بھی وہی حال
08 December, 2005 | پاکستان
بی بی سی اردو کی نشریات بند
15 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد