BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 December, 2005, 13:09 GMT 18:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر کی فراموش وادی

متاثرہ افراد
زلزلے میں بچوں کی اکثریت معذور ہو گئی ہے
زلزلے کو دس ہفتے سے زیادہ ہو چکے ہیں، متاثرہ علاقوں میں بیشتر راستے بھی کھل چکے ہیں اور ملکی اور غیر ملکی صحافی بھی سینکڑوں کی تعداد میں ان علاقوں میں موجود رہے ہیں لیکن پھر بھی وادئ لیپہ اس طرح خبروں کا حصہ نہیں بنی جیسے باقی متاثرہ علاقے۔

وادئ لیپہ ایک طرف سے تو اتنی قریب ہے کہ لائن آف کنٹرول بننے سے پہلے لوگ پیدل یہاں سے وادئ نیلم کے راستے مظفر آباد جا کر اسی روز واپس آ جایا کرتے تھے لیکن اب یہ نسبتاً مختصر راستہ ایل او سی نے روک رکھا ہے اور وادئ لیپہ جانے کے لیے مظفر آباد سرینگر روڈ پر نیلی سے دریائے جہلم عبور کر کے شاریاں، لمنیاں، اور ریشیاں سے ہوتے ہوئے ساڑھے دس ہزار فٹ بلند پہاڑ کی چوٹی سے گزر کر پھر اترائی کا سفر شروع ہوتا ہے کیونکہ لیپہ تقریباً چھ ہزار فٹ کی بلندی پر ہے۔

زلزلے میں بچوں کی اکثریت متاثر ہوئی ہے

یہ راستہ تقریباً پانچ سے چھ گھنٹے کا ہے اور یہ انتہائی دشوار گزار کچا ٹریک ہے جس پر جگہ جگہ لینڈ سلائیڈنگ ہوتی رہتی ہے۔ ہم لمنیاں سے قریباً شام کے چار بجے گزرے تھے اور اس سے دو تین گھنٹے بعد لینڈ سلائیڈ ہوئی جس سے یہ راستہ اگلے دن تک کے لیے بند ہو گیا۔ اور یہ اچھے موسم میں ہوا۔ بارش میں تو کئی جگہ لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ رہتا ہے۔ پھر پہاڑ کی چوٹی سے کئی میل نیچے تک ابھی سے برف جمی ہے۔ جنوری سے مئی یا جون تک تو یہ راستہ مستقل بند رہتا ہے۔ اس لیے لیپہ میڈیا تو کیا باقی کشمیریوں کی نظروں سے بھی عموماً اوجھل رہتا ہے۔

لوگ اپنی مدد آپ کے تحت گھروں کی تعمیر کر رہے ہیں

وادئ لیپہ میں اگر چھوٹی چھوٹی آبادیوں کو بھی شامل کر لیں تو ستائیس گاؤں ہیں۔ یہاں کا بڑا شہر یا قصبہ لیپا ہے جو وادی کے ہموار حصے پر واقع ہے۔ اس میں بیشتر گھروں کو نقصان تو پہنچا ہے لیکن وہ گرے نہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ بتائی جاتی ہے کہ یہاں مکانوں کی تعمیر میں لکڑی کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ بنیادیں بھی لکڑی کے شہتیروں پر رکھی جاتی ہیں شاید اسی وجہ سے یہاں جانی نقصان باقی کشمیر کی نسبت بہت ہی کم ہوا ہے۔ اس کے برعکس بوائز کالج کی پتھر سے بنی عمارت جو صرف دس سال پرانی تھی، منہدم ہو گئی ہے۔

پھر زلزلے سے پہلے یہاں مکئی اور چاول کی فصل تیار ہو چکی تھی جس سے فائدہ یہ ہوا کہ زیادہ تر لوگوں کے پاس سردیوں کے لیے خوراک کا ذخیرہ موجود ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام نے بھی یہاں خوراک ذخیرہ کرنے کا کام شروع کیا تھا جو راستے بند ہونے کی وجہ سے رک گیا تھا لیکن اب ہیلی کاپٹر کے ذریعے خوراک کی فراہمی دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔ لیپہ پراپر کے لوگ یوں بھی نسبتاً خوشحال ہیں۔ یہاں کے سیب اور اخروٹ اپنی کوالٹی کے لیے مشہور ہیں اور ان کی کاشت کرنے والے کھاتے پیتے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ بیشتر کے پاس گائے بکریاں ہیں اور گھروں کے باہر شلجم جیسی سبزیاں بھی اگائی جاتی ہیں جنہیں سکھا کر سردیوں میں کھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

بہت سے گھر ایسے ہیں جہاں کوئی بھی زندہ نہیں بچا

لیکن لیپہ پراپر سے آگے جائیں تو پہاڑوں کی ڈھلوان پر واقع بستیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، اور یہاں لوگ بنیادی امداد نہ پہنچنے کی شکایت بھی کرتے ہیں۔ لیپہ سے دو تین کلومیٹر دور، ایل او سی کے عین اوپر موجی اور چھتر گام جیسے دیہات ہیں جن میں کوئی گھر بھی سلامت نہیں بچا۔ یہاں رہنے والے محنت کش لوگ ہیں جن کے جوان شہروں میں جا کر مزدوری کرتے ہیں، بڑے بوڑھے کھیتی باڑی کرتے ہیں اور عورتیں گھروں اور جانوروں کو سنبھالتی ہیں۔ یہ لوگ اب تک خیموں میں رہ رہے ہیں جن میں سے بیشتر کپڑے کے بنے ہوئے ہیں اور وہ سردی روکنے کے لیے ناکافی ہیں۔

ان لوگوں سے بات کریں تو ان کے مسائل دوسرے متاثرہ کشمیریوں سے مختلف نہیں۔ امدادی کام اب بھی اسی بدنظمی سے چل رہا ہے جس کا الزام فوجی حکام پر شروع دنوں میں لگایا جاتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر فوج کا کہنا ہے کہ جستی چادروں کی تقسیم بلند علاقوں سے شروع ہو کر نیچے آئے گی۔ لیکن یہ لوگ جو ایک طرف ایل او سی اور دوسری جانب سے ساڑھے دس ہزار فٹ بلند پہاڑ کے بیچ گھرے ہوئے ہیں، اب بھی جستی چادروں کی راہ دیکھ رہے ہیں۔

لوگ مدد کے لیے حکومت کی جانب دیکھ رہے ہیں

یہاں جگہ جگہ فوجی چوکیاں اور یونٹ قائم ہیں لیکن لوگوں کو فوج سے کچھ زیادہ توقعات نہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ زلزلے سے فوج کو بھی بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ دوسرے، ایل او سی ہی کی وجہ سے فوج کا ہیلی پیڈ لیپا پراپر سے ذرا فاصلے پر ہے۔ ایسے میں یہاں امداد پہنچانے کا بڑا ذریعہ سڑک ہے جو چند ہفتے پہلے ہی کھولی جا سکی ہے اور آئندہ چند دنوں میں یہ برفباری کی وجہ سے پھر بند ہو جائے گی اور گرمیوں تک بند ہی رہے گی۔ ٹیلیفون لائنیں بھی سردیوں میں منقطع ہو جاتی ہیں اور باقی دنیا سے لیپا کے رابطے کا واحد ذریعہ ایک وائرلیس سیٹ ہے جو لیپا کے تھانے میں رکھا ہے۔

اصل میں اتنی بڑی قدرتی آفت کے بعد بھی یہاں کے لوگوں کا بڑا مطالبہ وہی ہے جو زلزلے سے پہلے ہوا کرتا تھا، اور وہ یہ کہ انہیں کشمیر کے باقی حصوں سے رابطے کی سہولت فراہم کی جائے۔ میں نے لیپہ کے ایک رہائشی شوکت علی مغل سے پوچھا کہ ایسا کیا ہو سکتا ہے جس سے ان کی بیشتر مشکلات حل ہو جائیں، تو ان کا کہنا تھا کہ سردیوں میں لیپہ کے لوگوں کو مظفر آباد تک سفر کے لیے ہیلی کاپٹر سروس فراہم کی جائے، چاہے اس کے لیے انہیں کرایہ ہی ادا کرنا پڑے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد