BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 December, 2005, 11:27 GMT 16:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ: لوگ بیکار کیوں بیٹھے ہیں؟

خیمہ بستی
لوگ میدانی علاقوں میں کام کاج کےلیے جانے کے بجائے خیمہ بستیوں میں آباد ہوگئے ہیں
مانسہرہ کے نواح میں نواز شریف خیمہ بستی میں بارہ سو سے زیادہ مرد، عورتیں اور بچے دو مہینے سے رہائش پذیر ہیں۔

انہیں صبح کا ناشتہ اور دوپہر اور رات کا کھانا خیموں میں دیا جاتا ہے۔ بستی میں ٹائلٹ بنے ہوئے ہیں اور صاف پانی کے بڑے بڑے ٹینک رکھے ہوئے ہیں۔ عورتیں اورمرد صبح کے وقت خیموں کے باہر دھوپ سیکنتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن کوئی شخص کام کاج کرتا نطر نہیں آتا۔

خیمہ بستی میں میں لگے ہوئے تنور پر روزانہ دس من آٹے کی روٹی پکتی ہے، ایک وقت مرغ پکتا ہے اور ایک وقت سبزی ، دال یا بریانی۔ صبح ناشتے میں نان اور چائے تقسیم کی جاتی ہے اور روزانہ بیس کلو دودھ کی چائے کی پانچ دیگیں تیار کی جاتی ہیں۔

خیمہ بستی چاروں طرف سے بند ہے اور اس کے باہر چوکیدار پہرہ دیتا ہے جبکہ اس میں رہنے والے اکثر لوگ کاغان کے نواحی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک ہی برادری سے ہیں۔ ایک تیس پینتیس سالہ شخص عبدالستار سے جب پوچھا گیا کہ وہ دو مہینے سے خیمہ بستی میں رہ رہے ہیں تو خود کیا کام کرتے ہیں تو کہنے لگے کہ ’اپنے بچوں کی حفاظت کرتا ہوں‘۔

کاغان وادی کے اکثر لوگ گرمی کے موسم میں چراگاہوں میں بھیڑ بکریاں پالتے ہیں اور سردی کے موسم میں میدانی علاقوں میں ہجرت کرکے چلے جاتے تھے اور کام کاج کرتے تھے۔ زلزلہ کے بعد یہ لوگ میدانی علاقوں میں کام کاج کےلیے جانے کے بجائے خیمہ بستیوں میں آباد ہوگئے ہیں جہاں انہیں ہر چیز مفت مل رہی ہے۔

اس سوال پر کہ ایسی محفوظ خیمہ بستی میں انہیں اپنے بال بچوں کی حفاظت کا کیا ڈر ہے اور کم سے کم دن کے وقت تو وہ باہر جاکر کوئی کام کاج کرسکتے ہیں عبدالستار کا کہنا تھا کہ وہ کراچی میں درزی کا کام کرتے تھے اور ان کی والدہ، بیوی، دو بیٹے اور تین بہنیں اپنے گھر میں کاغان کے پاس گاؤں میں رہتے تھے لیکن چونکہ وہ اپنے گھر میں تھے اس لیے وہ بے فکر تھے مگر اس بستی میں ہر طرح کے لوگ ہیں۔

اسی خیمہ بستی میں ایک اور ساٹھ سالہ شخص محمد عرفان نے بتایا کہ ان کے خیمے میں چھ لوگ رہ رہے ہیں اور بستی میں سب لوگ ایک ہی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔

جب سب لوگ ایک برادری سے تعلق رکھتے ہیں تو دن کے وقت عورتوں اور بچوں کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے تو عبدالستار نے ایک نئی دلیل پیش کی کہ انہیں اپنے دیہاتوں میں اپنے تباہ شدہ مکانوں کی مرمت کے لیے جانا پڑتا ہے اور حکومت سے امدادی رقم کا چیک لینے کے لیے بار بار گاؤں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ بستی میں کچھ لوگوں نے کہا کہ شہر میں مزدوری نہیں ملتی۔

 خیمہ بستی میں میں لگے ہوئے تنور پر روزانہ دس من آٹے کی روٹی پکتی ہے، ایک وقت مرغ پکتا ہے اور ایک وقت سبزی ، دال یا بریانی۔ صبح ناشتے میں نان اور چائے تقسیم کی جاتی ہے اور روزانہ بیس کلو دودھ کی چائے کی پانچ دیگیں تیار کی جاتی ہیں۔

خیمہ بستی کے منتظم نے بتایا کہ اس وقت حالات یہ ہیں کہ لوگ اپنے خیموں کی صفائی بھی خود نہیں کرنا چاہتے اور انہیں بار بار صفائی کرنے کے لیے کہنا پڑتا ہے۔ اس خیمہ بستی میں جس طرح کام کاج چھوڑ کر مرد اور عورت دھوپ سینکتے نظر آتے ہیں یہی حال مانسہرہ اور ایبٹ آباد کی زیادہ تر خیمہ بستیوں کا ہے۔

مانسہرہ میں غازی کوٹ میں ہی سنگی تنظیم کی ساٹھ خیموں پر مشتمل ایک خیمہ بستی ہے جہاں کچھ دن پہلے لوگوں نے راشن لینے کے لیے ایسے ہڑتال کرنے کی دھمکی دی جیسے کسی مل میں مزدوروں کی یونین کرتی ہے۔ خیمہ بستی کو ورلڈ فوڈ پروگرام اور دوسری تنظیموں کے تعاون سے غیرسرکاری تنظیم ہر پندرہ دن بعد راشن تقسیم کرتی ہے۔ لوگوں کو اپنا کھانا پکانے کے لیے گیس سلنڈر دیے گئے ہیں۔

بستی میں سب لوگ ایک ہی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔

چند روز پہلے اس خیمہ بستی کے پچیس تیس مرد سنگی تنظیم کے دفتر میں احتجاج کرنے پہنچ گئے کہ ان کا راشن وقت سے پہلے ختم ہوگیا ہے اور اگر انہیں فوری طور پر نیا راشن نہیں ملا تو احتجاجی مظاہرہ کریں گے اور ہڑتالی کیمپ لگائیں گے۔

دوسری طرف اکثر سرکاری اور غیرسرکاری ادارے مزدوروں کی کمی کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ ایبٹ آباد میں پبلک ہیلتھ محکمہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جمال شاہ کا کہنا ہے کہ انہیں کام کاج کے لیے تین چار سو روپے روزانہ پر بھی مزدور نہیں مل رہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے اہلکار بہرامند کہتے ہیں کہ کاغان وادی کے اکثر لوگ گرمی کے موسم میں چراگاہوں میں بھیڑ بکریاں پالتے ہیں اور سردی کے موسم میں میدانی علاقوں میں ہجرت کرکے چلے جاتے تھے اور کام کاج کرتے تھے۔ زلزلہ کے بعد یہ لوگ میدانی علاقوں میں کام کاج کےلیے جانے کے بجائے خیمہ بستیوں میں آباد ہوگئے ہیں جہاں انہیں ہر چیز مفت مل رہی ہے۔

زلزلہ متاثرین کو خیمہ بستیوں میں لوگوں کو آباد کرنے اور مسلسل مفت راشن تقیسم کرنے کا ایک نقصان یہ ہوا ہے کہ اس علاقے میں لوگوں کی اکثریت کام کاج چھوڑ کر بے کار بیٹھی ہوئی ہے اور کام نہ کرنے کے مختلف بہانے بیان کرتی ہے۔

مانسہرہ میں سنگی کی منتظم شازیہ اسلم کا کہنا ہے کہ متاثرین کی مدد کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ انہیں جستی چادریں دی جائیں جس سے وہ اپنے مکان یا کیبن تعمیر کریں اور اپنا کام کاج شروع کریں جیسے یہ پہلے کیا کرتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طویل عرصہ تک متاثرین کو تین وقت کھانا مہیا کرنا اور ان کے خیموں کا بندوبست کرنا کسی ادارہ کے لیے ممکن نہیں اور جب یہ ادارے اچانک انہیں چھوڑ کر جائیں گے تو شدید مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

اسی بارے میں
زلزلہ:دوسرا بڑا چیلنج درپیش
07 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد