BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 December, 2005, 12:39 GMT 17:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مانسہرہ: پانی بھی آدھا رہ گیا

زلزلے کی تباہی
زلزلے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے
آٹھ اکتوبر کے زلزلہ کے بعد بٹگرام اور ایبٹ آباد سے کاغان تک پھیلے ہوئے مانسہرہ ضلع کے نصف سے زیادہ دیہاتوں میں پانی کی فراہمی کا نظام تباہ ہوگیا ہے ۔

ایبٹ آباد شہر کے ٹیوب ویلوں میں پانی آدھا رہ گیا ہے اور مانسہرہ شہر میں پانی کی قلت نقل مکانی کرکے آنے والی نئی آبادی کے باعث اور زیادہ ہوگئی ہے۔

ایبٹ آباد میں پبلک ہیلتھ شعبہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر نعمت اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ زلزلہ کے بعد ایبٹ آباد شہر کے ٹیوب ویلوں میں پانی کم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے بعض حصوں میں پانی آدھا رہ گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہر میں پانی کی دستیابی کو پورا کرنے کے لیے چار پانچ نئے ٹیوب ویل لگانے پڑیں گے اور پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ٹینک بنانے پڑیں گے۔

بالاکوٹ تحصیل میں سو فیصد، اوگی تحصیل میں پچیس فیصد اور مانسہرہ تحصیل میں تیس فیصد واٹر سپلائی اسکیمیں تباہ ہوچکی ہیں

دوسری طرف، مانسہرہ ضلع میں واٹر سپلائی اور سینی ٹیشن محکمہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جمال شاہ نے بتایا کہ شہر کی ایک لاکھ چھپن ہزار آبادی کو زلزلہ سے پہلے بھی دس لاکھ گیلن پانی فی یوم کی کمی کا سامنا تھا کیونکہ یہاں ٹیوب ویل لگانا بہت مشکل ہے۔

جمال شاہ کے مطابق دنیا میں فی شخص تیس گیلن پانی فی یوم دستیابی کا معیار مقرر ہے جبکہ مانسہرہ میں یہ اوسط نو دس گیلن فی یوم ہے جبکہ بعض علاقے ایسے ہیں جہاں محکمۂ واٹر سپلائی کے مطابق تین دن بعد پینتالیس منٹ کے لیے سرکاری نلکے سے پانی مہیا کیاجاتا ہے۔

مانسہرہ کے محکمہ واٹر سپلائی کے مطابق مانسہرہ میں ڈھائی سے تین سو فٹ پر پانی نکلتا ہے لیکن سو فٹ پر سخت چٹانیں شروع ہوجاتی ہیں جن کو ڈرل کرکے نیچے تک ٹیوب ویل کا بور کرنا ممکن نہیں۔

 دنیا میں فی شخص تیس گیلن پانی فی یوم دستیابی کا معیار مقرر ہے جبکہ مانسہرہ میں یہ اوسط نو دس گیلن فی یوم ہے

شہر کی چند جگہوں پر جہاں زمین نرم ہے چار ٹیوب ویل لگائے گئے ہیں جبکہ قریبی ’بھوت کتھا‘ نامی ندی سے شہر کو پانی مہیا کیا جاتا ہے۔

جمال شاہ کا کہنا ہے زلزلہ کے بعد اردگرد سے نقل مکانی کرکے خیمہ بستیوں میں آنے والے متاثرین کی وجہ سے شہر کی آبادی تیس ہزار بڑھ گئی ہے جس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پانچ مزید ٹیوب ویل لگائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ بیشتر خیمہ بستیوں کو بھی پائپوں سے پانی مہیا کررہا ہے۔

دیہاتوں میں صورتحال مزید خراب ہے جہاں محکمہ واٹر سپلائی کے مطابق اس کی دو سو اٹھائیس واٹر سپلائی سکیموں میں سے ایک سو دس سکیمیں زلزلہ سے تباہ ہوگئی ہیں۔ کہیں پانی مہیا کرنے والے پائپ لائنیں زمین کھسک جانے سے ٹوٹ گئی ہیں اور کہیں چشموں کے نیچے بنائے جانےوالے ٹینک ٹوٹ کر زمین میں دھنس گئے ہیں۔

واٹر سپلائی محکمۂ کے انجینئر عابد شاہ کے مطابق بالاکوٹ تحصیل میں سو فیصد، اوگی تحصیل میں پچیس فیصد اور مانسہرہ تحصیل میں تیس فیصد واٹر سپلائی سکیمیں تباہ ہوچکی ہیں جن کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے دو ارب روپے درکار ہوں گے۔

تاہم عابد شاہ کا کہنا ہے کہ چشموں کے خشک ہونے یا رخ بدلنے کی بات مبالغہ آمیز ہے۔ ان کے مطابق پورے ضلعوں میں صرف پانچ چھ جگہوں پر ایسا ہوا ہے۔

مانسہرہ کے محکمہ واٹر سپلائی کے مطابق دسمبر سے اپریل تک تو شدید سردی اور برفباری کی وجہ سے واٹر سپلائی کے نظام کی تعمیر نو شروع کرنا ممکن نہیں اس لیے آئندہ گرمی کے موسم سے یہ کام شروع ہوسکے گا اور اس کام کو شروع کیے جانے کے بعد مکمل کرنے میں نو دس ماہ کی مدت درکار ہوگی۔ یوں زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی کا نظام بحال کرنے میں مجموعی طور پر کم سے کم ایک سال لگ جائے گا۔

اسی بارے میں
’امداد میں کمی آ رہی ہے‘
13 December, 2005 | پاکستان
رہائش کیسی ہو
11 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد