BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 December, 2005, 09:05 GMT 14:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امداد میں کمی آرہی ہے‘

زلزلہ زدہ علاقوں میں امدادی آپریشن کے نگران اور اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر جان وینڈر مورٹیل
پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی آپریشن کے نگران اور اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر جان وینڈر مورٹیل نے کہا ہے کہ دسمبر میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے لیے دیے گئے عطیات کی فراہمی میں کمی آئی ہے۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں جان وینڈر مورٹیل نے کہا کہ دسمبر میں اقوام متحدہ کی اپیل پر موصول ہونے والے عطیات گزشتہ ماہ کی نسبت ایک تہائی بھی نہیں ہیں اور اس سے اگلے ماہ کے امدادی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

انہوں نے بین الاقوامی برادری خصوصا ان ممالک سے جنہوں نے ابھی تک زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے لیے عطیات نہیں دیے ہیں اپیل کی ہے کہ وہ فوری عطیات دیں۔

اقوام متحدہ کے اہلکار کے مطابق زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پانچ ہزار فٹ سے نچلے علاقوں میں چوبیس لاکھ کمبلوں، خیموں کے لیے ایک لاکھ ستر ہزار پلاسٹک کی شیٹوں اور خیموں کے فرش پر بچھانے کے لیے دو لاکھ ترپالوں کی ضرورت ہے جس پر چار کروڑ پچاس لاکھ ڈالرکا خرچہ آئے گا۔ ان کےمطابق پانچ ہزار فٹ سے نچلے علاقوں میں متاثرین کی تعداد انیس لاکھ ہے۔

جان وینڈر مورٹیل نے کہا کہ اقوام متحدہ اور تمام عالمی امدادی ایجنسیوں نے امدادی کام کا تخمینہ لگایا ہوا ہے اور جو ملک بھی چاہے گا اس کو یہ معلومات فراہم کر دی جائیں گی۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کو امدادی کارروائی کے لیے اضافی رقم کی ضرورت ہے۔

 زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پانچ ہزار فٹ سے نچلے علاقوں میں چوبیس لاکھ کمبلوں، خیموں کے لیے ایک لاکھ ستر ہزار پلاسٹک کی شیٹوں اور خیموں کے فرش پر بچھانے کے لیے دو لاکھ ترپالوں کی ضرورت ہے جس پر چار کروڑ پچاس لاکھ ڈالرکا خرچہ آئے گا
جان وینڈر مورٹیل

وینڈر مورٹیل نے کہا کہ اقوام متحدہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے لیے خصوصی سفارتکار کا تقرر کر رہا ہے جس کی منظوری جنرل اسمبلی دے چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانچ ہزار فٹ سے زائد کی بلندی پر رہنے والے افراد کو عارضی اور گرم پناہ گاہیں فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور اس بارے میں پیش رفت مثبت ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان افراد کو ملبے سے عارضی پناہگاہیں فراہم کرنے کی حکمت عملی کامیاب رہی ہے۔

جان وینڈر مورٹیل کے مطابق زلزلہ زدگان کو فراہم کیے گئے خیموں میں سے تیس ہزار خیمے ایسے ہیں جو شاید موسم کی شدت برداشت نہیں کر سکتے اور انہیں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کے مطابق حکومت پاکستان نے اقوامِ متحدہ کو مطلع کیا ہے کہ تیرہ لاکھ کمبل مقامی طور پر تیار کیے جا رہے ہیں اور تین لاکھ پلاسٹک شیٹوں کی فراہمی بھی اس ماہ کے آخر میں شروع کر دی جائے گی۔

زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بیماریاں پھیلنے سے متعلق جان وینڈر مورٹیل نے کہا کہ ان علاقوں میں اسہال اور نمونیہ پھیلنے کا خدشہ ہے مگر اس سے بچاؤ کے لیے عالمی ادارۂ صحت کی زیرِ نگرانی لوگوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے گئے ہیں اور یہ کام ابھی جاری ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد