BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 December, 2005, 17:48 GMT 22:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بیماریاں، صورت حال نہیں چھپائی‘

عالمی ادار[ہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل
انہوں نے کہا کہ بیماریوں کے مقابلے کی کوششیں صحیح سمت میں جارہی ہیں
عالمی ادارہ صحت یا ڈبلیو ایچ او نے تردید کی ہے کہ وہ پاکستان میں زلزلہ زدہ علاقوں میں بیماریوں کی صورتحال چھپارہا ہے۔

ادارے نے یہ بھی کہا ہے کہ بعض بیماریوں کے واقعات ہوئے ضرور ہیں لیکن بروقت کوششوں کی بدولت ان کو وبائی صورت اختیار کرنے سے روک لیا گیا۔

پاکستان میں آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد غیر سرکاری تنظیمیں اور بعض دفعہ خود اقوام متحدہ کے اعلی اہلکار بھی متنبہ کرتے رہے ہیں کہ سردی میں شدید اضافے کے نتیجے میں بیماریوں سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا بھی خدشہ ہے۔

انہی خدشات کے تناظر میں اتوار کو عالمی ادار[ہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر لی یونگ ووک نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے اپنے دورے میں نہ صرف اس اطمینان کا اظہار کیا کہ بیماریوں کے مقابلے کی کوششیں صحیح سمت میں جارہی ہیں بلکہ ان کا یہ بھی کہنا تھا اب ہر ایک کے پاس خیمے اور کمبل کی موجودگی بھی ادارے کے لیے خاصے اطمینان کا سبب ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل کا زلزلے سے تباہ شدہ مظفرآباد کا دورہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب متاثرہ علاقوں میں فیلڈ ہسپتالوں اورگشتی طبی ٹیموں کے ذریعے طبی خدمات فراہم کرنے والی بعض غیرسرکاری تنظیمیں نمونیہ اورسردی سے پھیلنے والے دوسرے امراض پر ادارے کے جاری کردہ اعدادوشمار پر یہ کہہ کر تنقید کررہی ہیں کہ یہ اعدادوشمار ان تنظیموں کے تجربات کے بالکل برعکس صورتحال بیان کررہے ہیں۔

سردی سےلوگوں کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل کااس بارے میں کہنا تھاکہ اس پر بحث ہوسکتی ہے لیکن ادارے نے بھی اپنی آنکھیں اور کان بند نہیں کیے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی بڑا مسئلہ ہوگا تو ہر ایک اس کو دیکھ لے گا۔

صورتحال کتنی اوپر نیچے ہورہی ہے؟ ڈبلیو ایچ او بھی اس پر صحتمند بحث کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور کوئی چیز چھپانے کی کوشش نہیں کرتا۔ حکومت خود بھی ان خبروں پر یقیناً دھیان دیتی ہوگی لیکن میرا خیال یہ ہے کہ صورتحال میں کوئی بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔

اس موقع پر موجود ادارے کے علاقائی ڈائریکٹر ڈاکٹر الجزیری نے کہا کہ نمونیہ یاخسرہ کے صرف چند کیسز کو وباء کا نام نہیں دیا جاسکتا کیونکہ ادارہ یہ نہیں کہہ رہا کہ سرے سے کوئی کیس رپورٹ ہی نہیں ہوا لیکن وباء اور کسی مرض کی تشخیص کرکے علاج کرنے اور اس کو وباء بننے سے روکنے میں بڑا فرق ہے کیونکہ وباء کا مطلب بہت سارے مریض ہیں اور یہ صورتحال یہاں نہیں ہے۔

ڈبلیو ایچ کے سربراہ نے مظفرآباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال عباس انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائینسز کا بھی دورہ کیا جبکہ وہ دریائے جہلم کے کنارے بنائی گئی متاثرین کی خیمہ بستی تھوری پارک کیمپ بھی گئے۔

اس کیمپ کو اقوام متحدہ کے مشورے سے دریا کے کنارے بسایا گیا ہے تاہم یہاں درجۂ حرارت غروب آفتاب کے فوراً بعد بہت کم ہوجاتا ہے جبکہ کیمپ کے مکینوں کے پاس سردی سے بچاؤ کے مناسب انتظامات بھی نہیں ہیں۔

اس سوال پر کہ تیز دھوپ کے دوران ایسے کیمپوں کے دورے سے اعلی حکام کو ایسی جگہوں کے مسائل کا علم کیسے ہوسکتا ہے؟ ڈاکٹر ووک کا کہنا تھاکہ وہ جانتے ہیں کہ وہاں دن میں تو خاصی گرمی ہوتی ہے جبکہ رات میں درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے بھی گر سکتا ہے جس سے ان لوگوں کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ لیکن ہر چیز کا ایک تناظر ہوتا ہے۔

بعض بیماریوں کے واقعات ہوئے ضرور ہیں

انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ کیمپ ایک عارضی انتظام ہے جو آنے والے دنوں اور مہینوں میں بہتر ہوجائے گا تاکہ یہ لوگ سردیاں نسبتاً زیادہ بہتر طور پر گزار سکیں اور ویسے بھی پہاڑوں پر بغیر چھت کے رہنے سے تو یہاں رہنا بہرحال بہتر ہے۔

یاد رہے کہ کچھ عرصے پہلے سردیوں میں اچانک اضافے کے بعد پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے مختلف حصوں سے خاص طور پر بچوں اور عمر رسیدہ افراد کے نمونیہ اور سردی سے پیدا ہونے والی دوسری بیماریوں میں مبتلا ہونے کی خبریں آئی تھیں تاہم عالمی ادارۂ صحت اور شعبۂ صحت کے مقامی حکام نمونیے اورخسرہ سے صرف ایک ایک ہلاکت کی تصدیق کرتے ہیں۔

66امدادی ترجیحات
’تیرہ لاکھ افراد کو خوراک پہنچانا باقی‘
66’ابھی یا کبھی نہیں‘
زلزلے کے متاثرین کے لیے فوری امدادی چاہیے
66امداد کی حقیقت
زلزلہ متاثرین کے لیے کون کتنی امداد دے رہا ہے
66حاملہ خواتین کا کرب
ہسپتالوں میں حاملہ خواتین کے لئے وارڈ نہیں
66بردہ فروشی کا خطرہ
زلزلے کے بعد بچوں کو بردہ فروشوں سے خطرہ
اسی بارے میں
زلزلہ: خدا کا قہر یا آزمائش؟
05 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد