BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 December, 2005, 13:07 GMT 18:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تعمیرنو کے لیے فوجی موزوں نہیں‘

اپوزیشن رہنما
اپوزیشن کی ٹرمز آف ریفرنس میں پارلیمان کی بالادستی پر زور دیا گیا ہے
پاکستان میں زلزلے کے بعد تعمیر نو اور بحالی کے کاموں کی نگرانی کے لیے مجوزہ پارلیمانی کمیٹی میں شمولیت کے لیے حزب اختلاف نے شرط عائد کی ہے کہ متعلقہ اداروں کے سربراہ سویلین مقرر کیے جائیں۔

مولانا فضل الرحمٰن، مخدوم امین فہیم، چودھری نثار علی خان اور دیگر نے سنیچر کے روز حکومتی تجاویز پر ایک اجلاس میں غور کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے متعلق حکومتی تجاویز غیر واضح ہیں۔

ان کے مطابق وہ اپنے خدشات کی وضاحت کے لیے حکومت کو ایک خط بھیج رہے ہیں جس میں پارلیمانی کمیٹی کو مکمل با اختیار بنانےاور فنڈز کے شفاف استعمال کے لیے تجاویز شامل ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ حکومت انہیں مثبت جواب دے گی۔

چودھری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ افراد کو امداد پہنچانے اور بحالی کے ساتھ ساتھ تعمیر نو کے لیے جو دو نئے ادارے قائم کیے گئے ہیں ان کے سربراہ حاضر سروس فوجی ہیں۔

ان کے مطابق حاضر سروس فوجی پارلیمان کو جوابدہ نہیں ہوتے اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ ان اداروں کے سربراہ غیر فوجی ہوں جو پارلیمان کو جوابدہ ہوں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے بھی ان کی بات کی تائید کی اور زور دیا کہ کمیٹی کو بااختیار بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کے سربراہ سویلین ہوں تاکہ وہ پارلیمان کو جوابدہ ہوں۔

رضا ربانی نے بعد میں بی بی سی کو بتایا کہ حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کا متفقہ موقف ہے کہ دونوں اداروں کے سربراہ ایسے افراد ہونے چاہیے جو پارلیمان کو جوابدہ ہوں۔

تاہم انہوں نے یہ حکومتی موقف تسلیم کیا کہ اداروں کے سربراہان کی تقرری کا اختیار حکومت کے پاس ہے لیکن اس کی منظوری یا توثیق پارلیمانی کمیٹی سے کرائی جائے۔

حکومت کا موقف ہے کہ حاضر سروس فوجی افسران کی تقرری سے ان اداروں کی کارکردگی بہتر ہوگی۔ کیونکہ ان کے مطابق امداد اور بحالی کے کاموں میں زیادہ تر فوج ہی شریک ہے اس لیے ان سے رابطہ بھی موثر ہوسکے گا۔

واضح رہے کہ حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے ان اداروں کی سربراہ حاضر سروس فوجیوں کو مقرر کرنے کی مخالفت کی تھی اور عالمی اور ملکی سطح پر ملنے والی امداد کے شفاف استعمال کے لیے آّڈٹ کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

ایسی صورتحال کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان اور دیگر امدادی اداروں کے نمائندوں نے بھی آڈٹ کا مطالبہ کیا تھا۔ جس پر صدر جنرل پرویز مشرف نے زلزلہ متاثرین کے فنڈز کی مقامی اور عالمی ماہرین سے آڈٹ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد