 | | | زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرِنو کے لیے حکومت نے ’ارا‘ کے نام سے ایک اتھارٹی قائم کی ہے |
وزیر اعظم شوکت عزیز کی طرف سے زلزلے سے متاثرہ افراد کی امداد اور بحالی کے کام کی نگرانی کے لیے قائم کی جانے والے پارلیمانی کمیٹی کا افتتاحی اجلاس بدھ کی شام پانچ بجے اسلام آباد میں ہو رہا ہے۔ اپوزیشن کی جماعتیں اس وقت اسلام آباد میں اپنے ایک اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ آیا پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی جائے یا نہیں۔ کمیٹی میں حکومت کی اتحادی جماعتوں کے نو ارکان پارلیمان کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کو بھی شامل کیا گیا ہے جن میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن، اے آر ڈی کے سربراہ مخدوم امین فہیم، ایم ایم اے کے رہنما قاضی حسین احمد، مسلم لیگ (نواز) کے چودھری نثار علی خان، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پختون خواہ مِلی عوامی پارٹی کے محمود اچکزئی شامل ہیں۔ حزب اختلاف کے دونوں اتحادوں اے آر ڈی اور متحدہ مجلس عمل نے کمیٹی کے اجلاس میں شامل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں ابھی تک کوئی باقاعدہ اعلان نہیں کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحٰمن نے بی بی سی کو بتایا کہ اجلاس میں شامل ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ متحدہ مجلس عمل، اے آرڈی اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے ایک مشترکہ اجلاس میں ہوگا جو بدھ کو صبح گیارہ بجے ہورہا ہے۔  | | | حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کو ڈونرز کانفرنس میں شرکت کی بھی دعوت دی تھے | متحدہ اپوزیشن کے مشترکہ اجلاس سے پہلے منگل کے روز اے آر ڈی اور متحدہ مجلس عمل کے علیحدہ علیحدہ اجلاس ہوئے جس میں وزیر اعظم کی طرف سے قائم کی گئی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرنے پر غور کیا گیا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رضا ربانی نے بی بی سی اردو سروس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے نزدیک پارلیمانی کمیٹی کے موثر ہونے کے بارے میں کئی شکوک وشبہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زلزلے سے متاثرہ افراد کی امداد اور بحالی کے لیے قائم کی گئی سرکاری اتھارٹی ’اِرا‘ ایک نوٹیفکیشن کے تحت وجود میں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہ تو پارلیمان کے سامنے جوابدہ ہے اور نہ ہی اس میں احتساب کا کوئی اندرونی نظام ہے۔ ’یہ کچھ ایسے سوال ہیں جو ہر پاکستانی کی طرح اپوزیشن کے قائدین کے ذہنوں میں آ رہے ہیں۔ لیکن یہ اپوزیشن کے کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے فیصلے پر کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں یہ ایک ایسی بات ہے جو بدھ کے روز ہونے والے متحدہ اپوزیشن کے اجلاس میں طے پائے گی۔‘ حکومت کی طرف سے پارلیمانی کمیٹی کا قیام یورپی یونین کے اس مطالبے کے پس منظر میں عمل میں آیا ہے جس میں حکومت سے کہا گیا تھا کہ وہ زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے امدادی رقوم کے استعمال کو پارلیمان کی منظوری سے مشروط کرے۔  | | | پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور صوبہ سرحد میں زلزلے سے سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے | اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان کے دفترِ خارجہ نے یورپی یونین کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے اور کہا کہ پاکستان کو زلزلےزدگان کی امداد کے لیے اکھٹی ہونے والی رقوم کو خرچ کرنے کے سلسلے میں کسی بیرونی ایڈوائس یا مشورے کی ضرورت نہیں۔یاد رہے کہ یورپی یونین نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کے کام کے لیے حال ہی میں 110 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے جبکہ ای یو پہلے ہی ہنگامی امداد کے لیے سولہ ملین ڈالر دے چکا ہے۔ |