 | | | زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرِنو کے لیے حکومت نے ’ارا‘ کے نام سے ایک اتھارٹی قائم کی ہے |
وزیر اعظم شوکت عزیز کی طرف سے زلزلے سے متاثرہ افراد کی امداد اور بحالی کے کام کی نگرانی کے لیے قائم کی جانے والے پارلیمانی کمیٹی کا افتتاحی اجلاس بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس کے بعد اخبارنویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم شوکت عزیز نے کمیٹی کے افتتاحی اجلاس کو انتہائی کامیاب قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلی دفعہ ہوا کہ پارلیمان میں نمائندگی رکھنے والی تمام جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوئی ہیں۔ دوسری طرف قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن نے بی بی سی کو بتایا کہ متحدہ اپوزیشن نے ابھی تک کمیٹی کی رکنیت قبول نہیں کی۔ ’ہم نے حکومت کو بتا دیا ہے کہ ہم بدھ کے روز ہونے والے اجلاس کو ایک باقاعدہ اجلاس نہیں سمجھتے کیونکہ ہمارے خیال میں اس کا ٹرم آف ریفرنس یا دائرہِ کار کو عجلت میں متعین کیا گیا ہے اور اس کے قواعد وضوابط مرتب کرتے ہوئے اپوزیشن سے مشاورت نہیں کی گئی۔‘  | | | پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور صوبہ سرحد میں زلزلے سے سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے |
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جمعرات کے روز متحدہ اپوزیشن کی ایک سب کمیٹی کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں حکومت کی طرف اعلان کردہ ٹرم آف ریفرنس پو غور ہوگا اور اپوزیشن کی طرف سے اس کو زیادہ بااختیار بنانے کے لیے سفارشات مرتب کی جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ سفارشات حکومت کو بھیجی جائیں گی اور اگر ان پر حکومت کا جواب مثبت ہوا تو اپوزیشن کمیٹی کی رکنیت قبول کرے گی۔ کمیٹی کے ٹرم آف ریفرنس پر اپوزیشن کے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں پارلیمان کی بالادستی کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے لیے ریویو کمیٹی کا نام دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ کمیٹی حکومتی کام پر صرف غور کر سکتی ہے اور اس کے پاس احتساب، آڈٹ یا بازپرس کا کوئی اختیار نہیں۔ |