BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 December, 2005, 12:46 GMT 17:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاشوں کے بعد سریے کی تلاش

بلڈوزر ملبہ ہٹاتے ہوئے
بلڈوزر کا کرایہ پندرہ سو روپے فی گھنٹہ
صوبہ سرحد میں زلزلے سے سب سے زیادہ متاثرہ شہر بالاکوٹ میں آج کل لوگ اپنے تباہ مکانات کا ملبہ اُٹھانے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ بچ جانے والے گھریلوں سامان کے علاوہ لوگ پتھر جیسی لنٹر کی بڑی بڑی چھتیں توڑ کر سریا نکالنے کی کوشش بھی کرتے نظر آتے ہیں۔

بالاکوٹ میں آج کل جگہ جگہ بڑی کرینیں اور مزدور ملبہ ہٹانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ جہاں کرین بےکار ہوجائے وہاں انسان اپنی طاقت کے ذریعے پتھر جیسی لنٹر کی چھتیں اور بیم توڑ رہے ہیں۔

میں نے بالاکوٹ کے ٹرانسپورٹر عبدالعزیز کو کرینوں اور مزدورں کی مدد سے اپنے مکمل طور پر تباہ رہائشی مکان کا ملبہ ہٹانے میں مصروف دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ زلزلے کے چار پانچ روز بعد مرنے والوں کی تدفین سے فارغ ہوکر اپنے مکان کا ملبہ ہٹانے میں لگ گئے۔ تاہم اب تک وہ اپنے دو منزلہ مکان کی صرف ایک چھت کا ملبہ ہٹا پائے ہیں۔

کسی بات کا ہوش نہیں
 ابھی تو ہمیں کوئی سوچ نہیں ہوش نہیں۔ معاملہ ایسا ہوا ہے کہ ہوش کھو گیا ہے۔ میری والدہ، بیوی، بھائی اور بھتیجا اسی جگہ فوت ہوگئے۔
زلزلہ زدہ عبدالعزیز

عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ وہ عمارت سے بچے کھچے سامان کے علاوہ چھتوں سے سریا بھی نکال رہے ہیں۔ تاہم ان کا ارادہ تھا کہ اس سریے کو فروخت نہ کریں بلکہ دوبارہ مکان کی تعمیر میں استعمال کریں گے۔

اس ملبے کی صفائی پر ان کا روزانہ فی مزدور تین سو روپیہ اور کرین فی گھنٹہ پندرہ سو روپیہ خرچ آ رہا ہے۔ تاہم وہ کرین کے مہنگے ہونے کے باوجود کام کی رفتار سے مطمئن دکھائی دیئے۔

ان سے دریافت کیا کہ کیا دوبارہ مکان اسی مقام پر تعمیر کرنے کا ارادہ ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ ابھی یہ فیصلہ کر نہیں پائے ہیں۔ ’ابھی تو ہمیں کوئی سوچ نہیں ہوش نہیں۔ معاملہ ایسا ہوا ہے کہ ہوش کھو گیا ہے۔ میری والدہ، بیوی، بھائی اور بھتیجا اسی جگہ فوت ہوگئے۔‘

بالاکوٹ کے ایک اور رہائشی نے سریا نکالنے کی افادیت بتاتے ہوئے کہا کہ اس سے انہیں ایک لاکھ یا اسّی ہزار روپے تک ملتے ہیں جس سے کم از کم مزدوروں کا خرچہ برابر ہوجاتا ہے۔

سریے کا گٹھا
رحمان شاہ کی ملبے میں روزی کی تلاش

قریب ہی بی کام کے ایک طالب علم تیمور اپنے ہی مکان کا ایک بیم بڑے سے ہھتوڑے سے توڑ رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی یہ سخت کام کر رہے ہیں تاکہ دو پیسے بچ جائیں۔

زندگی میں ایسا سخت کام پہلے نہ کرنے والے تیمور نے کہا کہ اس کے بازو درد کرتے ہیں اور چھالے بھی پڑگئے ہیں۔

بالاکوٹ میں جگہ جگہ آپ کو لنٹر کی چھتوں سے نکالے گئے سریے کی سلاخوں کے ڈھیر ملیں گے۔ قریب ہی ایک افغان رحمان شاہ کو چھتوں سے نکالا گیا سریا خریدنے اور ان کے بنڈل بنانے میں مصروف پایا تو پوچھا کیا یہ لوہا دوبارہ استعمال نہیں کیا جاسکتا؟

رحمان شاہ نے کہا کہ چند غریب لوگ اسے ہی سیدھا کر کے دوبارہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ سخت کام ہے لیکن انہیں کرنا پڑتا ہے۔ پیسے والے تو نیا ہی خریدتے ہیں۔

مبلے سے نکالا گیا سریا
کئی لوگ اس سریے کو اپنے مکانات کی تعمیر میں استعمال کرنا چاہتےہیں

یہ سریا گاڑیوں میں بھر کر لاہور میں سٹیل ملوں کو بھیجا جاتا ہے۔ ان ملوں کے پنجاب سے آئے ایک بیوپاری موٹر سائیکل پر شہر کے ایک کونے سے دوسرے کی جانب بھاگتے دیکھائی دیئے۔

مانسہرہ سے سریا خریدنے آئے محمد ستار سے نرخ معلوم کیا تو اس نے بتایا کہ وہ پندرہ روپے فی کلو خرید کر اسے انیس بیس روپے میں آگے فروخت کر دیتے ہیں۔ سریے کے علاوہ وہ سٹیل کے برتن اور صندوق خریدنے میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔

شاید اسے ہی کاروبار زندگی کہتے ہیں۔ کسی کی تباہی کسی کا کاروبار۔ زندگی یوں ہی چلتی رہتی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق زلزلے سے نوے فیصد تباہ بالاکوٹ سے ملبہ ہٹانے میں تین چار ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ جبکہ تعمیر نو کے بارے میں تو فی الحال کوئی اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا ہے۔

66نظردر، کان آہٹ پر
لوگ اپنے پیاروں کی تلاش میں سرگرداں ہیں
اسی بارے میں
رہائش کیسی ہو
11 December, 2005 | پاکستان
زلزلہ:دوسرا بڑا چیلنج درپیش
07 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد