امدادی کارکنوں کے لیے آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے کے بعد لوگوں کو مناسب رہائش مہیا کرنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ پاکستانی گلو کار فخر عالم جو پچھلے دو مہینوں سے صوبہ سرحد کے مقام چٹا بٹا میں ایک ریلیف کیمپ چلا رہے ہیں، بتاتے ہیں کہ گزشتہ روز اس کے پاس ایک شخص آیا جو یہ چاہتا تھا کہ اسے سردی سے بچنے کے لیے اسے خیمہ میں آگ چلانے کی اجازت دی جائے۔ پناہ گزینوں کی خیمہ بستیوں میں آگ لگنے کے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔ فخر عالم کہتے ہیں کہ وہ چاہتے ہوئے بھی اس شخص کو آگ جلانے کی اجازت نہ دے سکے اور وہ یہ کہتا واپس چلا گیا کہ اس طرح تو اس کے بچے مر جائیں گے۔ فخر عالم کا خیال ہے کہ خیمہ بستیاں بنانے کا فیصلہ ہی ٹھیک نہیں تھا۔ ان کا کہنا کہ پنجاب اور سندھ سے آئے ہوئے امدادی کارکنوں کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں تھا کہ صوبہ سرحد میں موسم سرما کتنا شدید ہوتا ہے۔  | | | اختر عباسی کے پاس لکڑی تو ہے لیکن شیٹیں اور کیل نہیں | چٹا بٹا کی خیمہ بستی میں کئی خیموں کو سردی سے نمٹنے کے بہتر کیا گیا ہے لیکن ایسے ہر جگہ نہیں ہو سکا ہے۔زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کے لوگ جو اپنےگھروں کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ان کو سٹیل کی چھتیں مہیا کی جائیں کیونکہ وہ زلزلہ سے گرنے والے مکانوں سے لکڑی نکال چکے ہیں اور اگر ان کو سٹیل کی چھت اور کچھ سیمنٹ وغیرہ مل جائے تو وہ اپنے لیے نیا گھر بنا سکتے ہیں۔ وادی نیلم کے رہائشی اختر عباسی زلزلہ سےمتاثرہ گھر سے لکڑی نکال چکا ہے اور چاہتے ہیں کہ اس کو سٹیل کی چھت کے لیے اگر سامان مل جائے تو یہ اس کے لیے بہت بڑی مدد ہو گی۔ علاقے میں زلزلہ سے متاثرہ لوگوں کو رہائش مہیا کرنے کے کاموں میں سستی آ گئی اس کی وجہ شاید ایک وجہ پہلے سے بنے ہوئے گھروں کا مہیا کرنا کا فیصلہ ہے ۔ زلزلہ کے آنے کے چند دن بعد تیار گھروں کو بیچنے والی کپمینوں کے نمائندے علاقے میں پہنچ چکے تھے اور انہوں نے حکام کو بھی قائل کر لیا ہے کہ زلزلہ سے متاثرہ لوگوں کی بہترین امداد یہ گھر ہیں۔  | | | تیار شدہ گھروں کی قیمت سڑسٹھ ہزار سے لے کر اٹھارہ لاکھ روپے تک ہیں۔ | پاکستان جہاں ہر کوئی اینٹ اور سیمنٹ سے گھر تعمیر کرتاہے، کے لیے پہلے سے تیار شدہ گھر ایک نئی چیز ہے جس کو وہ قبول کرنے کے لیے تیار لوگ تیار نظر نہیں آتے۔تیار شدہ گھروں کو بنانے والی ایک کمپنی بھی پاکستان میں نہیں ہے اور پاکستان سے سب سے نزدیک پلانٹ ترکی میں ہے جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ایسے گھر جلدی مہیا نہیں کیے جا سکتے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ یہ گھر جلدی مہیا ہو جائیں تب بھی ان 400 کلو گرام تک بھاری گھروں کو بلند و بالا پہاڑی علاقے میں پہنچانا بھی ایک چیلنج سے کم نہیں ہو گا۔ |