’نظریں دراور کان آہٹ پر لگے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے سے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور شمال مغربی سرحدی صوبے میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق چوہتر ہزار کے لگ بھگ لوگ جاں بحق اور چالیس لاکھ کے قریب بے گھر ہوئے ہیں لیکن ایک بہت بڑی تعداد ایسی بھی ہے جن کی کوئی اطلاع نہیں کہ انہیں زمین کھاگئی یا آسمان نگل گیا۔ دو ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے بعد بھی بے شمار لوگ اب تک اپنے پیاروں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی امیدیں اگر ایک طرف دم توڑتی جا رہی ہیں تو دوسری طرف کسی بھی ذریعے سے ملنے والی کوئی بھی اطلاع آس کی ڈوری دوبارہ جوڑ دیتی ہے اور بچھڑے کو پانے کی تڑپ بڑھا دیتی ہے۔ انہی میں سے ایک میر محمد مشتاق ہیں جن کا بھائی میر محمد ثاقب معمول کے مطابق صبح دفتر جانے کے لیے روانہ ہوا اور ابھی تک واپس نہیں آیا۔ میر مشتاق نے بی بی سی کو بتایا کہ زلزلے کے فوراً بعد وہ اپنی بیٹیوں کو لینے اسکول پہنچے۔ اپنی بھابھی اور ہمسائی کو ملبے سے نکالاہی تھا کہ انہیں خبر ملی کہ کزن بھی ملبے میں پھنسا ہوا ہے۔
وہ اس طرف بھاگے۔ راستے میں بھائی کے دفتر بھی گئے لیکن وہاں کسی جانی نقصان نہ ہونے کا سن کر کزن کی طرف روانہ ہوگئے۔ مگر جب میر مشتاق کا بھائی شام چار بجے تک گھر نہ آیا تو تشویش ہوئی۔ اس کے دفتر پھر روانہ ہوئےتو راستے میں لوگ ملبے سے بری طرح مسخ لاشیں نکال رہے تھے لیکن ان میں بھی ان کا بھائی نہیں تھا۔ میر مشتاق نے مزید بتایا کہ انہوں نے ہر اس جگہ اپنے بھائی کو تلاش کیا۔ جہاں سے کسی نے بھی کوئی خبر دی۔ اخبارات میں اشتہار دیے، ریڈیو پر اعلانات کرائے اور ٹیلی ویژن پر تصویریں بھی دیں مگر بے سود۔ ان کے خیال میں اگر زخمیوں، بے گھر اور لاپتہ افراد کے بارے میں کوئی مرکزی ڈیٹا بیس بنایا جاتا جہاں ان سے متعلق معلومات ہوتیں تو شاید لاپتہ افراد کی تلاش خاصی آسان ہوتی۔ گمشدہ اور جانی اور مالی نقصان سے متعلق جو اعدادوشمار مختلف سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے پاس ہیں، انہیں حتمی نہیں کہا جا سکتا۔ ساتھ ہی ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ لوگوں کو علم ہی نہیں کہ وہ کہاں جا کر رپورٹ کریں یا انہیں رجسٹر کروائیں۔ اس معاملے پر جب مظفرآباد میں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کے اسسٹنٹ مینیجر یاسر ڈوگر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ادارے نے موبائل ٹیمیں روانہ کی ہیں جو ہر جگہ جاکر بے گھر ہوجانے والوں اور جانی اور مالی نقصانات کے ساتھ ساتھ خیموں میں رہنے والے معمولی زخمی افراد سے متعلق اعدادوشمار بھی اکٹھا کررہی ہیں۔ یاسر ڈوگر کے مطابق یہ حتمی اعدادوشمار دسمبر کے آخر تک جمع کرلیے جائیں گے۔ جس کے بعد حتمی طور پر لاپتہ افراد اور دیگر جانی اور مالی نقصانات کی تفصیل دی جاسکتی ہے۔ زلزلے میں یونیورسٹی، اسکولوں اور کالجوں کے تباہ ہونے سے بھی طلباء کی ایک بڑی تعداد ختم اور لاپتہ ہوئی مگر یہ سانحہ ان والدین اور ایسے گھرانوں کے لیے زیادہ تکلیف دہ بنا جن کے بچے گاؤں سے شہروں کو تعلیم حاصل کرنے آئے تھے۔ جن زخمی طلباء کو ائیر لفٹ کرکے پاکستان کے دوسرے شہروں کو بھیجا گیا۔ ان سے متعلق معلومات حاصل کرنا بہت دشوار ہے۔ محمد ابرار مظفرآباد میں بی ایس سی کا طالبعلم تھا۔ جو صبح اپنے دوستوں کو چند منٹ میں واپسی کا کہہ کر گیا تھا مگر ابھی تک لوٹ نہیں پایا ہے۔ ابرار کے بھائی محمد فیاض جب زلزلے کے دوسرے روز پیدل اپنے بھائی سے ملنے پہنچے تو اس کا کمرہ ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا۔ محمد فیاض نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے بھائی کے دوستوں اور ملبے سے لاشیں نکالنے والوں سے معلوم ہوا کہ ابرار کو شدید زخمی حالت میں فور فیلڈ اسپتال پہنچایا گیا تھا جبکہ فورفیلڈ اسپتال میں عملے کا کہنا ہے کہ شروع کی۔ افراتفری میں نام پتہ وغیرہ کچھ بھی نوٹ نہیں کیا جاتا تھا بلکہ جلدازجلد شدید زخمیوں کو بذریعہ ہیلی کوپٹر آگے روانہ کردیا جاتا تھا لیکن ہیلی کوپٹر کس زخمی کو کہاں لے کر جارہا تھا۔ یہ کسی کو نہیں معلوم نہ اس کا کچھ حساب کتاب رکھا گیا ہے۔ محمد فیاض کے بقول وہ لوگ نہ صرف مظفرآباد بلکہ راولپنڈی، جہلم، لاہور اور کھاریاں تک کے تمام اسپتال چیک کرچکے ہیں۔ ریڈیو ٹی وی پر اعلانات بھی کرائے لیکن کچھ پتہ نہیں چلا۔ اس کے باوجود محمد فیاض کا کہنا ہے کہ والدین اب بھی اس امید میں ہیں کہ دو ماہ بعد بھی کوئی معجزہ ہوجائے اور ابرار کی خیریت پتہ چل جائے۔ اسی طرح صبیر نقوی اپنے سات برس کے بچے علی اصغر کی تلاش میں ہیں جو نہ اسکول کے ملبے میں ہے نہ کسی اسپتال میں۔ بچے کو مختلف جگہوں پر دیکھے جانے کی خبر اسے ملنے اور سینے سے لگانے کی تڑپ بڑھاتی اور اس تڑپ میں سفر کرواتی رہیں مگر سب کوششیں بے سود رہیں۔ گمشدہ بچوں کی تلاش سے متعلق عالمی ادارہ اطفال یا یونیسیف کے کیمپ میں چالڈ پروٹیکشن افسر اشٹائنر وویٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ والدین سے الگ ہونے والے بچوں کی اکثریت اپنے رشتہ داروں کے پاس رہ رہی ہے کیونکہ یہاں کے مضبوط خاندانی نظام کو دیکھتے ہوئے علیحدہ رجسٹریشن کی ضرورت ہی نہیں پڑی لیکن گمشدہ بچوں کے معاملے پر انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ ایک ایسا المیہ ہے جس کی طرف کسی نے توجہ نہیں دی۔ میر محمد ثاقب، محمد ابرار، علی اصغر اور نجانے کتنے مزید ایسے افراد ہوں گے جن کے قریبی عزیز زلزلے کو دو ماہ سے زائد عرصہ گزرجانے کے باوجود اب بھی ان کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ تلاش کب ختم ہوگی اور اس کا انجام کیا ہوگا۔ |
اسی بارے میں زلزلہ: رضاکاروں کی دلچسپی میں کمی 06 December, 2005 | پاکستان مینٹل ہسپتال میں زلزلہ24 November, 2005 | پاکستان زلزلہ:دوسرا بڑا چیلنج درپیش07 December, 2005 | پاکستان کراچی میں زلزلہ زدگان کے لیے مظاہرہ08 December, 2005 | پاکستان زلزلہ امداد بذریعہ ایف ایم ریڈیو09 December, 2005 | پاکستان زلزلہ کی نسلی اور طبقاتی دراڑیں10 December, 2005 | پاکستان زلزلہ کی بے بس، خاموش متاثرین10 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||