BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 December, 2005, 16:47 GMT 21:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایبٹ آباد: کانگو وائرس سے ہلاکت

عارضی ہسپتال
ایبٹ آباد میں زلزلے کے بعد عارضی ہسپتال قائم کیا گیا تھا۔
آٹھ دسمبر کو ایبٹ آباد کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) میں ایک اڑتیس سالہ شخص ایسی علامات کے ساتھ فوت ہوا جن کی بنا پر اس کا علاج کرنے والے ڈاکٹر اور ہسپتال کو قوی شبہ ہے کہ اس کی موت کی وجہ کانگو وائرس کا انفیکشن تھا۔ کانگو وائرس بھیڑبکریوں سے لگنے والا انفیکشن ہے۔

ایبٹ آباد کے علاقہ ملک پورہ کے چودھری عابد بھیڑ بکری کے گوشت کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ ایبٹ آباد کے ڈپٹی ہیلتھ افسر ڈاکٹر سجاول جدون کہتے ہیں کہ عابد کو دو دسمبر کو بخار ہوا، انہیں سات دسمبر کو ایبٹ آباد کے سی ایم ایچ میں داخل کرادیا گیا جہاں ڈاکٹر کرنل جنید سلیم نے ان کا علاج کیا اور چھتیس گھنٹے کے بعد آٹھ دسمبر کو عابد کی موت واقع ہوگئی۔

سی ایم ایچ کے منتظم اور ترجمان کرنل ڈاکٹر امجد فہیم نے بی بی سی کو بتایا کہ کانگو وائرس کا بخار عام گلے کی خراش اور زکام کی علامات سے شروع ہوتا ہے لیکن بعد میں پیٹ، جوڑوں اور کمر میں درد شروع ہوجاتاہے اور منہ، ناک، کان، مقعد اور پیشاب کی جگہ سے خون آنے لگتا ہے۔ اس بیماری میں جلد کے نیچے بھی خون رسنے لگتا ہے۔

ڈاکٹر کرنل امجد فہیم کا کہنا ہے کہ آٹھ دسمبر کو مرنے والے شخص میں یہ سب علامات تھیں اور وہ پیشہ کے اعتبار سے قصاب تھے اس لیے ان کی موت کانگو وائرس سے ہونے کا خدشہ قوی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ متوفی عابد چودھری کے خون کے نمونے این آئی ایچ کے توسط سے جنوبی افریقہ بھجوائے گئے ہیں جہاں سے اس بات کا حتمی تعین ہوسکے گا کہ اسے کانگو وائرس کا انفیکشن تھا یا نہیں۔

کرنل امجد نے کہا دوسرے ملکوں میں اس بیماری کے مریضوں کی لاش جلائی جاتی ہے لیکن چونکہ ہمارے ہاں تدفین ضروری ہے اس لیے اسے دفنانے میں احتیاطی تدابیر کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ عابد کی میت کو اس کے ورثا کے حوالے کرتے ہوئے انہیں جراثیم کش دوائیں اور دستانے دیے گئے تھے اور کہا گیا تھا کہ لاش کو جلد سے جلد دفنادیا جائے۔

کرنل عابد نے کہا کہ عابد کے ایک رشتے دار کو بھی اس سے ملتی جلتی بیماری کی علامات تھیں جسے سی ایم ایچ نے پمز راولپنڈی بھیج دیا ہے جہاں اس کے علاج کی بہتر سہولتیں موجود ہیں۔

چودھری عابد کے پسماندگان میں ایک بیوہ اور تین بچے ہیں۔ تاہم محکمہ صحت کی ابتدائی تفتیش کے مطابق متوفی کے بچے صحتمند ہیں۔

ایبٹ آباد کے ضلعی حکومت نے اتوار کو اس بارے میں ایک اجلاس کرنے کے بعد شہر کے دوسرے ہسپتالوں جیسے ایوب میڈیکل کمپلکس اور ضلعی ہسپتال کو احتیاطی تدابیر برتنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ ضلعی حکومت کے بیان کے مطابق شہر میں بھیڑ اوربکری کے گوشت پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔

سی ایم ایچ راولپنڈی کے کرنل امجد کے مطابق کانگو وائرس بھیڑ بکریوں کے ذریعے پھیل سکتا ہے جو عام طور پر یوکرین میں کریمیا کی بھیڑوں میں پایا جاتا ہے اس لیے اس ہونے والی بیماری کو یوکرینین ہیمریجک فیور کہتے ہیں۔

سی ایم ایچ کے ڈاکٹر کے مطابق بھیڑوں کے یہ غلے یوکرین سے ترکمانستان، گلگت اور کاغان وادی (جہاں بڑی قدرتی چارگاہیں ہیں) آتے ہیں اور سردی کے موسم میں کاغان وادی کے گلہ بان یہ مویشی کشمیر، ایبٹ آباد اور راولپنڈی لے آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان دنوں بقرعید قریب ہونے کی وجہ سے یہ اور زیادہ تعداد میں شہروں کا رخ کرتے ہیں۔

ڈاکٹر امجد کے مطابق کانگو وائرس ایک کیڑے چیچڑ میں ہوتا ہے جو ترکمانستان کی جھاڑیوں سے بھیڑوں میں پہنچتا ہے اور ان کی جلد سے ہوتا ہوا ان کے خون میں داخل ہوجاتا ہے۔ اگر بھیڑ بکری ذبح کرتے ہوئے کسی شخص کے زخم یا منہ یا ناک سے یہ جانور کا خون لگ جائے تو کانگو وائرس اس کے جسم اور خون میں شامل ہوجاتا ہے۔

سی ایم ایچ کے ڈاکٹر کے مطابق کاگو وائرس صرف خون کے ملنے سے لگتا ہے یہ گرد، ہوا وغیرہ سے نہیں پھیلتا۔ انہوں نے کہا کہ کانگو وائرس ایک کمزو ر وائرس سمجھا جاتا ہے جو عام صابن کےاستعمال سے بھی مرجاتا ہے لیکن احتیاط کے طور پر بلیچنگ پاؤڈر کے محلول سے ہاتھ دھوکر اس ختم کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پکے ہوئے بھیڑ بکری کے گوشت سے کانگو وائرس نہیں پھیل سکتا کیونکہ یہ گوشت ابالتے ہوئے مرجاتا ہے۔

ایبٹ آباد میں آٹھ دسمبر کو سی ایم ایچ میں فوت ہونے والے چودھری عابد چونکہ بھیڑ بکریاں ذبح کرتے تھے اور اس موسم میں پہاڑی علاقوں سے بھیڑیں نیچے آرہی ہیں اور ان کی علامات کانگو وائرس کی بیماری جیسی تھیں اس لیے سی ایم ایچ کو شبہ ہے کہ ان کی وفات کی ممکنہ وجہ کانگو وائرس ہے۔

چند روز پہلے پنجاب کے ضلع شکرگڑھ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی موت بھی کانگو وائرس جیسی علامات والے مرض سے ہوئی تھی جس کے بارے میں حتمی ٹیسٹ رپورٹ جنوبی افریقہ بھجوائی گئی ہے۔ پمز کی انتظامیہ نے اس آپریشن تھیٹر اور وارڈ کو سیل کردیا تھا جہاں اس مریض کا علاج کیا گیا اور علاج کرنے والے عملہ کو الگ وارڈ میں داخل کردیا تھا۔

اسی بارے میں
کانگو وائرس کا خوف
03 December, 2005 | پاکستان
’نظر انداز نہ کریں‘
22 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد